نذر میں اغنیاء اور فقراء کو شامل کرنے سے نذر کا حکم:
Question
کسی طالب علم نے منت مانی کہ اگر میں امتحان میں کامیاب ہوا تو مدرسہ کے سارے طلباء کو اللہ کے لئے کھلاؤں گا، اس سے نذر متحقق ہوئی یا نہیں؟ اور نذر میں اللہ کا کلمہ ضروری ہے یا نہیں؟
Answer
اس مسئلہ سے متعلق حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمہ اللہ نے تحریر فرمایا ہے کہ بقدر اغنیاء کے نذر منعقد نہیں ہوئی اور بقدر فقراء منعقد ہو گئی، لیکن حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب نے تحریر فرمایا ہے کہ نذر صحیح اور لازم نہیں ہوئی، بظاہر حضرت تھانوی اور حضرت مفتی کفایت اللہ کے فتاویٰ میں تعارض ہے، تطبیق یہ ہو سکتی ہے کہ اگر ناذر کی نیت میں صرف فقراء ہوں تو پھر نذر منعقد ہو گئی، اور اگر مالدار اور فقراء سب کی نیت ہو تو پھر نذر منعقد نہیں ہوئی ۔
ملاحظہ فرمائیں امداد الفتاوی میں ہے:
ایک سائل نے سوال کیا کہ "اگر میرا فلاں مقصود حاصل ہو تو ایک گائے اللہ تعالیٰ کے نام پر ذبح کر کے محلہ والوں کو کھلاؤں گا" لیکن محلہ میں مالدار اور غریب دونوں رہتے ہیں، ایفائے نذر ہوگا یا نہیں؟
الجواب:
في الدر المختار: نذر التصدق على الأغنياء لم يصح ما لم ينو أبناء السبيل. وفيه: ولو قال: إن برئت من مرضي هذا ذبحت شاة أو على شاة أذبحها
الخ.
اس روایت سے معلوم ہوا کہ بقدر اغنیاء کے نذر منعقد نہیں ہوئی اور بقدرِ فقراء منعقد ہو گئی، اور فقراء کو کھلانا ضروری ہوگا، اور اغنیاء نے اگر کھایا تو دیکھنا چاہیے کہ اس نے بقدر حصہ فقراء پکوایا ہے یا زیادہ، پہلی صورت میں اغنیاء کو کھانا درست نہیں، دوسری صورت میں درست ہے ۔ (امداد الفتاوی: ۲/۵٦۰ ۔ و امداد الاحکام: ۳/۳۳) ۔
کفایت المفتی میں ہے:
ایک شخص مسمی زید نے مرض میں گرفتار ہونے کی وجہ سے نذر مانی کہ اگر شافی مطلق نے مجھے کامل صحت مرحمت فرمائی تو میں مقابل مسجد یا فلاں مسجد کے مصلیوں کو کھانا کھلاؤں گا، اب وہ شیٔ منذورہ زید نے صحت پا کر یا قبل صحت تمام نماز یوں میں تقسیم کرنے کا ارادہ کیا ہے، سوال یہ ہے کہ امراء و اغنیاء جو نماز میں شامل ہوتے ہیں، وہ اس نذر کی شیرینی کھا سکتے ہیں یا نہیں؟
(الجواب): فلاں مسجد کے تمام نماز یوں کو کھانا یا شیرینی کھلانا اگر بطورِ ہبہ یا اباحت مقصود تھا تو یہ قربت مقصودہ نہیں ہے، اور اگر بطورِ صدقہ مراد تھا تو چونکہ نماز یوں میں غنی اور محتاج دونوں شامل ہوتے ہیں، اور تصدق علی الغنی صحیح نہیں ہوتا، لہذا یہ نذر صحیح یعنی لازم نہیں ہوئی، اب اگر وہ کھانا یا شیرینی کھـلائے تو تبرع ہوگا، اور اس تبرع میں نیت تصدق نہ ہو تو اغنیاء و فقراء دونوں کو کھانا جائز ہے ۔
نذر التصدق على الأغنياء لم يصح ما لم ينو أبناء السبيل. (الدر المختار).
قلت: ولعل وجه عدم الصحة في الأول عدم كونها قربة، الخ. (رد المحتار).
ولو قال: إن فعلت كذا فلله على أن أضيف جماعة قرابتي فحنث لا يلزمه شيء.
الفتاوی الہندیۃ: ۲/٦٦ ۔ (کفایت المفتی: ۲/۲٤٦) ۔
احسن الفتاوی میں ہے:
بقدر حصۂ اغنیاء نذر منعقد نہیں ہوئی اس لیے اس کا ایفاء واجب نہیں بقدر حصۂ فقراء نذر صحیح ہے، اس کا ایفاء واجب ہے، اس سے اغنیاء کو کھانا جائز نہیں ہے ۔ (احسن الفتاوی: ۵/٤۹۰) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.