تجارت میں ترقی کی نذر کا حکم:
Question
میں نے نذر مانی ہے کہ ۱۹۸۷ میں میرے بزنس کی آمدنی جس مہینہ ۳۰۰۰۰ تیس ہزار رینڈ سے زائد ہوئی تومیں ایک روزہ رکھوں گا، پھر جون ۱۹۸۷ میں میرے والد صاحب اور اکتوبر ۱۹۸۹ میں میرا بھائی میرے ساتھ کاروبار میں شریک ہو گئے، والد صاحب کا کہنا ہے کہ اب جب بزنس میں شرکت ہو گئی ہے، اس لئے مجھ پر روزہ رکھنا ضروری نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ اگر آپ کی نیت ترقی تجارت پر روزہ رکھنے کی تھی، یعنی اگر اللہ تعالیٰ میری تجارت میں برکت دے اور ترقی حاصل ہو اور کل آمدنی ۳۰۰۰۰ سے زائد ہو تو روزہ رکھوں گا، اگر یہ نیت تھی تو جس ماہ میں ۳۰۰۰۰ رینڈ سے زائد آمدنی حاصل ہو، آپ پر روزہ رکھنا لازم ہے، تجارت میں شرکت اس کے منافی نہیں ۔ ہاں اگر آپ کی نیت یہ تھی کہ جس ماہ میرے حصے میں ۳۰۰۰۰ کا نفع حاصل ہوگا تو اس ماہ روزہ رکھوں گا، تو شرکت کے بعد کل آمدنی۳۰۰۰۰ ہونے پر روزہ لازم نہیں ہوگا، بلکہ جب آپ کے حصے میں ۳۰۰۰۰ حاصل ہوں گے تب آپ پر روزہ لازم ہوگا ۔
ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:
عن عائشة زوج النبي ﷺ أن النبي ﷺ قال: من نذر أن يطيع الله فليطعه ومن نذر أن يعصيه فلا يعصه. (الموطأ للإمام محمد: ص ۳۲۷، باب من حلف أو نذر في معصية، قديمي).
وفي التعليق الممجد: (قوله: فليطعه) أي وجوباً، فإن المباح يصير واجباً بالنذر لقوله تعالى: ﴿وليوفوا نذورهم﴾. (التعليق الممجد على موطأ امام محمد: ۳/۱۷۰).
در مختار میں ہے:
ومن نذر نذراً مطلقاً أو معلقاً بشرط، وكان من جنسه واجب أي فرض، كما سيصرح به تبعاً للبحر والدرر، وهو عبادة مقصودة
ووجد الشرط المعلق به لزم الناذر لحديث "من نذر وسمّي فعليه الوفاء بما سمي" كصوم وصلاة وصدقة. وفي الشامي: (قوله: لزم الناذر) أي لزمه الوفاء به، والمراد أنه يلزمه الوفاء بأصل القربة التي التزمها، لا بكل وصف التزمه. (قوله: لحديث) قال في الفتح: هو حديث غريب إلا أنه مستغني عنه، ففي لزوم المنذور الكتاب والسنة والإجماع. (الدر المختار مع فتاوى الشامي: ۳/۷۳۵، مطلب في أحكام النذر).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.