ایک مسکین کو متعدد فدیے دینے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 4 #281Urdu
Vol. 4كتاب الأيمان والنذورباب (۳): کفارۂ یمین کا بیان

Question

ایک شخص پر کفارہ لازم ہے یعنی ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا لازم ہے، لیکن اس نے ساٹھ مسکینوں کے کھانے کی رقم ایک ہی فقیر کو دے دی اور بتلایا کہ آپ یہ ساٹھ دنوں تک استعمال کرو یا یہ ساٹھ دنوں کے لئے ہے، تو کفارہ ادا ہوا یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ ا یک ہی فقیر کو ایک ہی مرتبہ ٦۰ دنوں کے لئے دینا جائز نہیں ہے اور اس سے کفارہ ادا نہیں ہوگا، ہاں اگر کسی کو وکیل بنایا کہ آپ یہ رقم ساٹھ دنوں میں فقیر کو دیا کرو تو یہ درست ہے، لیکن اگر ایک مسکین کو ایک دن میں ساٹھ مرتبہ دیا تو اس کے جواز کے بارے میں صاحبِ ہدایہ نے اختلاف نقل کیا ہے ۔ بعض اس کو جائز کہتے ہیں اور دیگر بعض ناجائز، علامہ شامی رحمه الله نے عدمِ جواز کو صحیح قرار دیا ہے، اس لئے کہ اصل مقصد فقیر کی حاجت کو پورا کرنا ہے اور ہر دن حاجت بدلتی رہتی ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں ہدایہ میں ہے:

وإن أعطي مسكيناً واحداً ستين يوماً أجزأه، وإن أعطاه في يوم واحد لم يجزه إلا عن يومه، لأن المقصود سد خلة المحتاج، والحاجة تتجدد في كل يوم، فالدفع إليه في اليوم الثاني كالدفع إلى غيره، وهذا في الإباحة من غير خلاف. وأما التمليك من مسكين واحد في يوم واحد بدفعات فقد قيل: لا يجزئه، وقد قيل: يجزئه، لأن الحاجة إلى التمليك تتجدد في يوم واحد، بخلاف ما إذا دفع بدفعة واحدة، لأن التفريق واجب بالنص. (الهداية ۲/٤۱۵ فصل في كفارة الظهار).

فتاوی شامی میں ہے:

قوله "عشرة مساكين" أي تحقيقاً أو تقديراً، حتى لو أعطي مسكيناً واحداً في عشرة أيام كل يوم نصف صاع يجوز، ولو أعطاه في يوم واحد بدفعات في عشر ساعات قيل: يجزي، وقيل: لا، وهو الصحيح، لأنه إنما جاز إعطاؤه في اليوم الثاني تنزيلاً له منزلة مسكين آخر كتجدد الحاجة، من حاشية السيد أبي السعود. (فتاوى الشامي: ۳/۷۲۵، سيعد).
وفي الهداية: وإن أمر غيره أن يطعم عنه من ظهاره ففعل أجزأه، لأنه استقراض معني، والفقير قابض له أولاً ثم لنفسه، فتحقق تملكه ثم تمليكه. (الهداية: /٤۱٤، فصل في كفارة الظهار).

در مختار میں ہے:

وفي الأشباه: جاز التوكيل بكل ما يعقده الوكيل لنفسه

وفي تكملة رد المحتار: وفي المجمع: وتجوز الوكالة بكل عقد يجوز للموكل مباشرته. وقال في الهداية: كل عقد جاز أن يعقده الإنسان لنفسه جاز أن يوكل به غيره. (تكملة رد المحتار مع الدر المختار: ۷/۳٦۰، قبيل باب الوكالة بالخصومة والقبض، سعيد).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.