تا دم حیات شئی موقوفہ سے منتفع ہونے کی شرط کا حکم:

2 min readFatwa Vol 4 #340Urdu
Vol. 4كتاب الوقفباب (۱): مطلق وقف کا بیان

Question

میاں، بیوی وقف کرنا چاہتے ہیں تو کیا یہ شرط لگا سکتے ہیں کہ تا دمِ حیات ہم دونوں اس جائداد سے فائدہ اٹھائیں گے، اور ہمارے انتقال کے بعد یہ تمام جائداد وقف ہو جائے گی؟

Answer

تا دمِ حیات شئی موقوفہ سے منتفع ہونے کی شرط لگانا صحیح ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں میاں بیوی دونوں تا دمِ حیات اپنی جائداد سے انتفاع حاصل کر سکتے ہیں، پھر ان کے انتقال کے بعد ان کی جائداد وقف ہو جائے گی ۔
ملاحظہ ہو عالمگیری میں ہے:

في الذخيرة: إذا وقف أرضاً أو شيئاً آخر وشرط الكل لنفسه أو شرط البعض لنفسه مادام حياً وبعده للفقراء، قال أبو يوسف رحمه الله الوقف صحيح ومشايخ بلخ أخذوا بقول أبي يوسف رحمه الله وعليه الفتوي ترغيباً للناس في الوقف وهكذا في الصغرى والنصاب كذا في المضمرات. (الفتاوى الهندية: ۲/۳۹۷، الباب الرابع فيما يتعلق بالشروط في الوقف).
وأيضاً فيه: ولو قال صدقة موقوفة لله تعالى تجري غلتها على ما عشت ولم يزد على ذلك جاز وإذا مات تكون للفقراء. (الفتاوى الهندية: ۲/۳۹۸، الباب الرابع فيما يتعلق بالشروط في الوقف).

فتاوی شامی میں ہے:

قوله وجاز جعل غلة الوقف لنفسه) أي كلها أو بعضها عند الثاني (أي عند أبي يوسف رحمه الله) قوله وعليه الفتوي كذا قاله الصدر الشهيد وهو مختار أصحاب المتون ورجحه في الفتح، واختار مشايخ بلخ رحمه الله وفي البحر عن الحاوي أنه المختار للفتوي ترغيباً للناس في الوقف وتكثيراً للخير. (فتاوى الشامي: ٤/۳۸٤، مطلب في اشتراط الغلة، سعيد).

مجموعہ قوانین اسلامی میں ہے:
واقف کا شئی موقوفہ سے اپنی زندگی بھر کے لیے جزوی یا کلی طور پر ذاتی انتفاع کی شرط لگانا صحیح ہے ۔ (مجموعہ قوانین اسلامی: ۳۵۵) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (فتاوی محمودیہ: ۱٤/۲۳۳) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.