موقوفہ جائداد کو فروخت کرنے کا حکم:
Question
(الف) وقف کی جائداد جس کو آباد نہیں کیا گیا ہو اور ویسے ہی پڑی ہو اس کو بیچنا کیسا ہے جب کہ پہلے سے واقف نے بیچنے کی شرط نہیں لگائی تھی؟ (باء) کن صورتوں میں فروخت کرنے کی اجازت ہے؟
Answer
(الف) واقف نے بوقتِ وقف کوئی شرط نہیں لگائی تھی تو اب موقوفہ جائداد کو فروخت کرنا جائز اور درست نہیں ۔
(باء) صرف دو صورتوں میں موقوفہ جائداد کو فروخت کرنا جائز اور درست ہے ۔
(
۱
) واقف نے بوقتِ وقف اپنے لیے یا کسی اور کے لیے فروخت کرنے کی شرط لگائی ہو ۔
(
۲
) موقوفہ جائداد جب بالکل ناقابلِ انتفاع ہو جائے ۔
ملاحظہ فرمائیں بخاری شریف میں ہے:
عن ابن عمر رضي الله عنه أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه أصاب أرضاً بخيبر فأتي النبي ﷺ يستأمره فيها، فقال: يا رسول الله إني أصبت أرضاً بخيبر لم أصب مالاً قط أنفس عندي منه فما تأمرني به؟ قال: إن شئت حبست أصلها وتصدقت بها، قال: فتصدق بها عمر رضي الله عنه أنه لا تباع، ولا توهب، ولا تورث، وتصدق بها في الفقراء وفي القربي وفي الرقاب وفي سبيل الله وابن السبيل والضيف، لا جناح على من وليها أن يأكل منها بالمعروف ويطعم غير متمول. (رواه البخاري: ۱/۳۸۲. ومسلم ۲/٤۱).
در مختار میں ہے:
فإذا تم ولزم لا يملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن. وفي الشامية: قوله لا يملك أي لا يكون مملوكاً لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه. (الدر المختار مع رد المحتار: ٤/۳۵۲، سعيد).
فتاوی عالمگیری میں ہے:
وعندهما حبس العين على حكم ملك الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد فيلزم ولا يباع ولا يوهب ولا يورث كذا في الهداية. (الفتاوى الهندية: ۲/۳۵۰).
مجموعہ قوانین اسلامی میں ہے:
شئی موقوفہ کو فروخت کرنا یا رہن رکھنا یا اس کے بدلے کسی اور چیز کو رہن میں لینا یا عاریت پر دینا جائز نہیں ہے، چونکہ شئی موقوفہ واقف کی ملکیت سے نکل جاتی ہے اور کسی دوسرے کی ملکیت بھی اس پر ثابت نہیں ہوتی ہے اس لیے کسی کے لیے اس میں مالکانہ تصرف، بیع، شراء، ہبہ، عاریت اور رہن وغیرہ اصلاً جائز نہیں ہے، اگر کسی نے ایسا کیا تو باطل ہوگا ۔ (مجموعہ قوانین اسلامی: ۳۵۰) ۔
در مختار میں ہے:
وجاز شرط الاستبدال به أرضاً أخري حينئذٍ أو شرط بيعه ويشتري بثمنه أرضاً أخري إذا شاء فإذا فعل صارت الثانية كالأولي في شرائطها وإن لم يذكرها ثم لا يستبدلها بثالثة لأنه حكم ثبت بالشرط والشرط وجد في الأولي لا الثانية وأما الاستبدال ولو للمساكين آل بدون الشرط فلا يملكه إلا القاضي درر وشرط في البحر خروجه عن الانتفاع بالكلية وكون البدل عقاراً والمستبدل قاضي اللجنة المفسر بذي العلم والعمل
وفي الشامية: قوله وجاز شرط الاستبدال به) اعلم أن الاستبدال على ثلاثة وجوه: الأول: أن يشرطه الواقف لنفسه أو لغيره، فالاستبدال فيه جائز على الصحيح وقيل اتفاقاً، والثاني: أن لا يشرطه سواء شرط عدمه أو سكت لكن صار بحيث لا ينقطع به بالكلية بأن لا يحصل منه شيء أصلاً، أو لا يفي بمؤنته فهو أيضاً على الأصح إذا كان بإذن القاضي ورأيه المصلحة فيه، والثالث: ألا يشرطه أيضاً ولكن فيه نفع في الجملة وبدله خير منه ريعاً ونفعاً، وهذا لا يجوز استبداله على الأصح المختار كذا حرره العلامة قنالي زاده في رسالته الموضوعة في الاستبدال وأطنب فيها عليه الاستدلال. (الدر المختار: مع فتاوى الشامي: ٤/۳۸٤، مطلب في استبدال الوقف، سعيد).
(وكذا في أحكام الأوقاف للخصاف: ۲۲، بيروت. وقانون العدل والإنصاف للقضاء على مشكلات الأوقاف، ۹٦، الفصل الرابع في استبدال الوقف، لمحمد قدري باشا الحنفي، المكتبة المكية).
فتاوی محمودیہ میں ہے:
اگر وہ مکان بالکل ہی قابل انتفاع نہ رہے اور اس سے کوئی آمدنی حاصل نہ ہو اور مرمت و تعمیر کی بھی وسعت نہ ہو تو اس کو بدل لینا درست ہے، اس طرح اس کو فروخت کر کے اس کے عوض دوسرا مکان لے کر مدرسہ میں شرائط واقف کے تحت وقف کر دیا جائے (فتاوی محمودیہ: ۱٤/۲۹۲) ۔
مجموعہ قوانین اسلامی میں ہے:
اگر موقوف علیہم کے براہِ راست استفادہ کے لیے کوئی جائداد وقف کی گئی تھی اور اب وہ ناقابل انتفاع ہو چکی ہے تو خدا ترس قاضی کی اجازت سے اسی طرح کی دوسری جائداد سے اس کا تبادلہ یا نقد کے عوض اسے فروخت کر کے اسی طرح کی دوسری جائداد خریدنا صحیح ہے، اور یہ دوسری جائداد پہلی کی جگہ وقف قرار پائے گی ۔
(۲) اور اگر واقف نے جائداد موقوفہ کی آمدنی موقوف علیہم پر صرف کرنے کی شرط لگائی تھی، اور جائداد موقوفہ ناقابل انتفاع ہو چکی ہے تو کم خرچ اور زیادہ نفع بخش دوسری نوع کی جائداد سے اس کا تبادلہ یا نقد کے عوض اسے فروخت کر کے دوسرے نوع کی جائداد بھی خریدنا جائز ہے، اور یہ دوسری جائداد پہلی جائداد کی طرح وقف قرار پائے گی ۔ (مجموعہ قوانین اسلامی: ۳۵۲) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.