خیر القرون میں وقف کا ثبوت:

7 min readFatwa Vol 4 #331Urdu
Vol. 4كتاب الوقفباب (۱): مطلق وقف کا بیان

Question

خیر القرون میں وقف کا ثبوت:

Answer

وقف کی اصل بنیاد حضرت عمر رضي الله عنه کی روایت ہے ۔ ملاحظہ فرمائیں بخاری شریف میں ہے:

عن ابن عمر رضي الله عنه أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه أصاب أرضاً بخيبر فأتي النبي ﷺ يستأمره فيها، فقال: يا رسول الله إني أصبت أرضاً بخيبر لم أصب مالاً قط أنفس عندي منه فما تأمرني به؟ قال: إن شئت حبست أصلها وتصدقت بها، قال: فتصدق بها عمر رضي الله عنه أنه لا تباع، ولا توهب، ولا تورث، وتصدق بها في الفقراء وفي القربي وفي الرقاب وفي سبيل الله وابن السبيل والضيف، لا جناح على من وليها أن يأكل منها بالمعروف ويطعم غير متمول. (رواه البخاري: ۱/۳۸۲. ومسلم ۲/٤۱).

حضرت عبد اللہ بن عمر رضي الله عنه روایت بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضي الله عنه کو جب خیبر میں کچھ جائداد حاصل ہوئی تو انہوں نے اس زمین کو خیر کے کاموں میں استعمال کرنے کی غرض سے آپ ﷺ سے مشورہ کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو ایسا کر سکتے ہو کہ اصل زمین کو روکے رکھو اور اس کے نفع کو صدقہ کرو، اصل زمین نہ خرید و فروخت کی جائے نہ ہبہ کی جائے اور نہ اس میں میراث جاری ہو، چنانچہ حضرت عمر رضي الله عنه نے اسے فقراء، اہل قرابت، غلام، مسافر اور مہمانوں پر وقف فرما دیا اور یہ شرط بھی لکھ دی کہ جو وقف کا متولی ہو اسے معروف طریقہ پر خود کھانے اور دوستوں کو کھلانے کی اجازت ہو گی، اس میں جمع کرنے اجازت نہیں ہو گی ۔
حضرت عمر رضي الله عنه کے اس وقف کو تاریخ اسلام میں سب سے پہلا وقف مانا جاتا ہے، اس کے بعد دیگر حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے بھی وقف فرمایا اور وقف کا سلسلہ جاری ہوا ۔
حضرت جابر رضي الله عنه سے مروی ہے کہ کوئی صاحبِ گنجائش صحابی نہیں کہ جس نے وقف نہ کیا ہو ۔
چنانچہ حضرت ابو بکر صدیق رضي الله عنه نے اپنا گھر اپنے لڑکے پر وقف کیا تھا، حضرت عمر رضي الله عنه کا ایک گھر مروہ کے پاس تھا آپ رضي الله عنه نے اسے اپنے لڑکوں پر وقف کر دیا تھا، حضرت علی رضي الله عنه نے "ینبع" نامی جگہ پر اپنی زمین وقف کر دی تھی، حضرت زبیر رضي الله عنه نے مکہ اور مصر میں جو مکان تھا اسے وقف کیا تھا، اور مدینہ میں جو مال تھا وہ بچوں پر وقف کر دیا تھا، حضرت سعد بن وقاص رضي الله عنه نے مدینہ منورہ میں وقف کیا تھا، اور مصر کا ایک مکان اپنے بچوں پر وقف کیا تھا، اسی طرح حضرت عثمان رضي الله عنه حضرت عمرو بن العاص رضي الله عنه اور حضرت حکیم بن حزام رضي الله عنه وغیرہ سے بھی مختلف جائدادوں کا وقف کرنا ثابت ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں سنن کبری بیہقی میں ہے:

ثنا أبوبكر عبد الله بن الزبير الحميدي قال: وتصدق أبوبكر الصديق رضي الله عنه بداره بمكة على ولده فهي إلى اليوم وتصدق عمر بن الخطاب رضي الله عنه بربعه عند المروة وبالثنية على ولده فهي إلى اليوم وتصدق على بن أبي طالب رضي الله عنه بأرضه بينبع فهي إلى اليوم وتصدق الزبير بن العوام رضي الله عنه بداره بمكة في الحرامية وداره بمصر وأمواله بالمدينة على ولده فذلك إلى اليوم وتصدق سعد بن أبي وقاص رضي الله عنه بداره بالمدينة وبداره بمصر على ولده فذلك إلى اليوم، وعثمان بن عفان رضي الله عنه برومة فهي إلى اليوم وعمرو بن العاص رضي الله عنه بالوهط من الطائف وداره بمكة على ولده فذلك إلى اليوم وحكيم بن حزام رضي الله عنه بداره بمكة والمدينة على ولده فذلك إلى اليوم. وعن أنس رضي الله عنه أنه وقف داراً بالمدينة فكان إذا حج مر بالمدينة فنزل داره. (السنن الكبرى للبيهقي: ٦/۱٦۱، كتاب الوقف، دار المعرفة، بيروت).
قال الخصاف رحمه الله في أحكام الأوقاف: حدثنا محمد بن عمر الواقدي قال: حدثني قدامة بن موسى بن بشير مولى المازنيين، قال: سمعت جابر بن عبد الله يقول: لما كتب عمر بن الخطاب رضي الله عنه صدقته في خلافته دعا نفراً من المهاجرين والأنصار فأحضرهم وأشهدهم على ذلك فانتشر خبرها قال جابر: فما أعلم أحداً ذا مقدرة من أصحاب رسول الله ﷺ من المهاجرين والأنصار إلا حبس مالاً من ماله صدقة موقوفة لا تشتري، ولا تورث، ولا توهب. قال قدامة بن موسي: وسمعت محمد بن عبد الرحمن بن سعد بن زرارة يقول: ما أعلم أحداً من أصحاب رسول الله ﷺ من أهل بدر من المهاجرين والأنصار إلا وقد وقف من ماله حبساً لا يشتري ولا يورث ولا يوهب حتى يرث الله الأرض ومن عليها. (كتاب الأوقاف، ص ۱۵، ما روي في الجملة من صدقات رسول الله ﷺ، بيروت، لبنان).

آنحضور پر نور صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کے اوقاف اور اوقافِ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں: (کتاب الاوقاف للامام ابی بکر احمد بن عمرو الخصاف (م ۲٦۱)، از ۵ تا ۱۷، بیروت) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ وقف کرنا مستحب ہے اور اس پر گویا اجماعِ صحابہ ہے ۔ جیسا کہ ابن قدامہ حنبلی رحمه الله نے فرمایاـ ۔ ملاحظہ ہو: (المغنی: ٦/۱۸۷، کتاب الوقوف و العطایا، دار الکتب العلمیۃ) ۔
مسلم شریف کی ایک مرفوع روایت سے بھی وقف کا ثبوت ملتا ہے:

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ قال: إذا مات الإنسان انقطع عنه عمله إلا من ثلاثة، إلا من صدقة جارية أو علم ينتفع به أو ولد صالح يدعو له. (رواه مسلم: ۲/٤۱. والترمذي: ۱/۲۵٦).

یعنی آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ آدمی کی موت کے بعد اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے، البتہ تین اعمال ایسے ہیں جن کا اجر اس کی موت کے بعد بھی پہنچتا رہتا ہے، صدقہ جاریہ علم نافع جس سے اس کے بعد لوگ نفع اٹھا رہے ہوں، صالح اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی ہو ۔
حدیثِ بالا سے وقف کی اہمیت پر روشنی پڑتی ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.