مسجد کی موقوفہ جائداد فروخت کرنے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 1 #330Urdu
Vol. 1كتاب الطهارةباب (۸): احکامِ مساجد کا بیان

Question

مسجد کی چند وقف کردہ جائداد ہیں مسجد کے سرپرست حضرات میں سے کسی نے ان جائداد سے کچھ حصہ دوسروں کی اجازت کے بغیر فروخت کر دیا اب شریعت کی نگاہ میں اس کا کیا حکم ہے بیان فرمائیں؟

Answer

مسجد کی موقوفہ زمیں بیچنے کا اختیار کسی کو نہیں ہے، مذکورہ سرپرست نے اسے بیچ کر خلافِ شریعت کام کیا ہے جو کہ جائز نہیں تھا ملاحظہ ہو:
بخاری شریف میں ہے:

"عن ابن عمر رضي الله عنه أن عمر رضي الله عنه تصدق بمال له على عهد رسول الله ﷺ وكان يقال له ثمغ وكان نخلا فقال عمر رضي الله عنه يا رسول الله اني استفدت مالاً وهو عندي نفيس فاردت أن أتصدق به فقال النبي ﷺ تصدق بأصله لا يباع ولا يوهب ولا يورث، ولكن ينفق ثمره الخ. (رواه البخاري: ۱/۳۸۷/۲٦۸۳).
وفي الهداية: قال وإذا صح الوقف لم يجز بيعه ولا تمليكه الخ. (الهداية ۲/٦٤۰)
وفي الشامي: فإذا تم ولزم لا يملك، ولا يملك ولا يعار ولا يرهن قوله لا يملك أي لا يكون مملوكا ً لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه. (فتاوى الشامي: ٤/۳۵۱).
وفي الفتاوى الهندية: وفي الفتاوى النسفية سئل عن أهل المحلة باعوا وقف المسجد لا جل عمارة المسجد قال لا يجوز بأمر القاضي وغيره كذا في الذخيرة. (الفتاوى الهندية: ۲/٤٦۳).

فتاوی رحیمیہ میں ہے:
موقوفہ زمیں سے کچھ بھی نفع حاصل ہو سکتا ہو اسے فروخت کرنے کی شرعاً اجازت نہیں ہے ۔ بحوالہ شامی ۔ (فتاوی رحیمیہ: ٦/۷۳) ۔
امداد الفتاوی میں ہے:
اگر وہ شئی از قسم جائداد غیر منقول ہے جو مسجد کے لیے وقف ہے تو اس کا بیچنا کسی طرح جائز نہیں بحوالہ عالمگیری ۔ (امداد الفتاوی: ۲/۷۱۷) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
جو مکان مسجد کے لیے وقف ہو اس کو فروخت کر نے کے لیے سنی سینڑل وقف بورڈ کی اجازت کا فی نہیں وقف شدہ مکان کی بیع کا حق نہیں، متولی صاحب سے مطالبہ کیا جائے کہ اس کو کیوں فروخت کیا ، یہ تو فروخت کے قابل نہیں ہے، اور بیع کو فسخ کر کے حسبِ سابق مکان کو وقف قرار دیا جائے ۔
فتاوی محمودیہ میں دوسری جگہ ہے:
جو زمیں وقف کی جاتی ہے اس کا مقصد یہ ہو تا ہے کہ بعینہ یہ زمیں باقی ر ہے اور اس کے منافع کو اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے وہ زمیں تجارت کے لیے نہیں دی جاتی ہے لہذا اس کا فروخت کرنا اور زیادہ آمدنی کی زمیں حاصل کر نا جائز نہیں الا یہ کہ موقوفہ زمیں سے انتفاع ہی ختم ہو جائے تو اس کا حکم دوسرا ہے، اس کے عوض دوسری زمیں خرید کر اس کی جگہ وقف کر نا درست ہے ۔ (فتاوی محمودیہ ۱۵/۱۷۵) ۔
مذکورہ عبارات فقہیہ سے یہ بات واضح ہو تی ہے کہ مسجد کی وقف کردہ جائداد کو فروخت کرنا کسی طرح شرعاً درست نہیں چاہے سب حضرات اجازت دیں یا اجازت نہ دیں اور صورت مسئولہ میں زمیں فروخت کر دی ہے تب بھی خریدار اس کا مالک نہیں بنا اس کو واپس کر دیا جائے اور مسجد ہی کے لیے وقف کر دیا جائے ۔ اگر واپسی قانوناً ناممکن ہو تو اس رقم سے مسجد کے لیے دوسری جگہ خرید لی جائے اور اس کو مسجد کے مصالح پر خرچ کر لیا کرے ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.