مسجد اور جماعت خانے کے احکام:

6 min readFatwa Vol 1 #319Urdu
Vol. 1كتاب الطهارةباب (۸): احکامِ مساجد کا بیان

Question

مسجد اور جماعت خانہ کسے کہتے ہیں اور دونوں کے احکام میں فرق ہے یا نہیں؟

Answer

شرعی مسجد ہو نے کے لیے چند باتیں ضروری ہیں اول یہ کہ واقف نے زمیں کو مسجد کے لیے وقف کیا ہو ۔ دوسری یہ کہ زمیں کو اپنی ملک سے یا دوسرے کی ملک سے اس طرح علیحدہ کر دیا ہو کہ اس کا یا کسی اور کا حق اس سے متعلق نہ ر ہے ۔ تیسرے یہ کہ اس میں ایک مرتبہ جماعت کے ساتھ نماز بھی ہو چکی ہو، اگر یہ باتیں نہیں پائی جاتیں بلکہ وہ زمیں ہی غیر موقوفہ ہے کسی کی ذاتی ملک میں ہے اور اس نے فقط نماز کی اجازت دی ہے یا حکومت کی ملکیت ہے اور کرایہ پر لے رکھی ہے تو وہ بھی مسجد شرعی نہیں ہے اس پر مسجدِ شرعی کے تمام احکام جاری نہیں ہو ں گے ۔ البتہ اس میں نماز با جماعت ادا کرنے کا ثواب ملے گا، اور جمعہ وغیرہ بھی قائم کرنا درست ہے، اسی طرح علامہ شامی کے قول کے مطابق اس کو کراہت کی چیزوں سے بچانا چاہیے جیسے مسجدِ شرعی کو بچانا ضروری ہے، مثلاً بیع و شراء، جنسی تعلقات، پیشاب پا خانہ اور دنیوی باتوں سے گریز کر نا چاہیے، احتیاط اسی میں ہے لیکن جو مسجدِ شرعی کے احکام ہیں مثلاً مسجدِ شرعی قیامت تک مسجد ہو تی ہے اسے بیچا نہیں جا سکتا، اس میں یہ احکام جاری نہیں ہو ں گے، اس کا جو مالک ہے وہ اسے بیچ سکتا ہے، اور اوپر نیچے کا حصہ بھی مسجد میں داخل نہیں ہو گا، چنانچہ دکانیں وغیرہ بھی بنا سکتا ہے، اور رہائش کے لیے گھر بھی بنایا جا سکتا ہے عرفِ عام میں اس کو مصلیٰ کہتے ہیں، البتہ اگر مسجد والی شرائط اور باتیں موجود ہیں تو پھر یہ جماعت خانہ نہیں بلکہ مسجد ہے اگر چہ لوگ مصلیٰ ہی سے موسوم کریں کیونکہ دونوں کے احکام میں بہت واضح فرق ہے جیسا کہ مذکور ہوا ۔
فتاوی شامی میں ہے:

(ويزول ملكه عن المسجد والمصلى) شمل مصلي الجنازة ومصلي العيد قال بعضهم: يكون مسجداً حتى إذا مات لا يورث عنه وقال بعضهم: هذا في مصلي الجنازة أما مصلي العيد لا يكون مسجداً مطلقاً وإنما يعطى له حكم المسجد في صحة الاقتداء بالإمام وإن كان منفصلاً عن الصفوف وفيما سوى ذلك فليس له حكم المسجد، وقال بعضهم: يكون مسجداً حال أداء الصلاة لا غير وهو والجبانة، سواء ويجنب هذا المكان عما يجنب عنه المساجد احتياطاً خانيه وإسعاف، والظاهر ترجيح الأول لأنه في الخانية يقدم الأشهر (قوله بالفعل) أي بالصلاة فيه ففي شرح الملتقى انه يصير مسجداً بلا خلاف
قلت: وفي الذخيرة وبالصلاة بجماعة يقع التسليم بلا خلاف حتى أنه إذا بني مسجداً وأذن للناس بالصلاة فيه جماعة فإنه يصير مسجداً قدمناه من أن المسجد لو كان مشاعاً لا يصح إجماعاً وفي القهستاني: ولا بد من إفرازه أي تمييزه عن ملكه من جميع الوجوه فلوكان العلو مسجداً والسفل حوانيت أو بالعكس لا يزول ملكه لتعلق حق العبد به كما في الكافي وإذا كان السرداب أو العلو لمصالح المسجد أو كانا وقفاً عليه صار مسجداً شرنبلالية قال في البحر: وحاصله أن شرط كونه مسجداً أن يكون سفله وعلوه مسجداً لينقطع حق العبد عنه لقوله تعالى: ﴿وأن المساجد لله﴾. (فتاوى الشامي: ٤/۳۵۵، سعيد).

فتاوی قاضيخان میں ہے:

دار فيها مسجد إن كانت الدار إذا غلقت كان للمسجد جماعة ممن كان في الدار فهو في حكم مسجد جماعة يثبت فيه أحكام المسجد من حرمة البيع وحرمة الدخول للجنب إذا كانوا لا يمنعون الناس من الصلاة فيه وإن كانت الدار إذا أغلقت لم يكن فيها جماعة إذا فتح بابها كان لها جماعة فليس هذا مسجد جماعة وإن كانوا لا يمنعون الناس عن الصلاة فيه. (فتاوى قاضيخان: ۱/٦۸).

کفایت المفتی میں ہے:
مسجد کے احکام مختلف ہیں اسی طرح حالات بھی مختلف ہیں، مثلاً ایک حکم تو یہ ہے کہ جو مسجد باقاعدہ شرعیہ ایک مرتبہ مسجد ہو جائے وہ قیامت تک کے لیے مسجد ہے اس حکم کے ثبوت کے لیے ضروری ہے کہ جس زمیں پر ابتداء ً یہ مسجد تعمیر ہو ئی ہے یا وہ مالک زمیں جس نے مسجد کے لیے وقف کی ہو اور اپنے مالکانہ حقوق اس سے بالکل ہٹا لیے ہو، پس کوئی ایسی مسجد جو غیر موقوفہ زمیں پر تعمیر ہو ئی ہو اس کے لیے حکم مذکور ثابت نہیں ہو سکتا مگر ہاں مجبوری کی وجہ سے ایسی زمیں پر مسجد بنانا اور اس میں نماز پڑھنا اور جمعہ و جماعت قائم کرنا سب جائز اور موجب اجرو ثواب ہے مگر احکام اس وقت جاری ہو ں گے جبکہ وہ زمیں مسجد کے لیے وقف ہو مشروط اجازت کی صورت میں مسجد کے جاری نہ ہو ں گے ۔ (کفایت المفتی: ۷/٤۷، کتاب الوقف) ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.