محض تعمیر سے مسجد شرعی بننے کا حکم:
Question
ایک مسجد کا خاکہ اور صحن تیار ہے یعنی تعمیری سلسلہ ختم ہو چکا ہے، لیکن بعض مصالح کی وجہ سے متولی حضرات نے اس میں نماز ِ پنجگانہ باجماعت شروع نہیں کرائی، کچھ دوسرے لوگ نماز پڑھنا چاہتے ہیں تو کیا یہ درست ہے یا نہیں؟ اور فقط تعمیری سلسلہ ختم ہوتے ہی مسجدِ شرعی کے احکام جاری ہو جاتے ہیں یا نہیں؟
Answer
مسجدِ شرعی بننے کے لیے تین چیزیں مطلوب ہیں (۱) زمین مسجد کے لیے وقف ہو ۔ (۲) موقوفہ زمین کو واقف نے اپنی ملک یا دوسرے کی ملک سے اس طرح علیحدہ کر دیا ہو کہ اس کا یا کسی اور کا حق اس سے متعلق نہ رہا ہو ۔ (۳) متولی کی اجازت سے اس میں ایک مرتبہ نماز باجماعت ہو چکی ہو ۔ اگر یہ تینوں چیزیں پائی جاتی ہیں تو مسجدِ شرعی کے احکام جاری ہوں گے ورنہ نہیں ۔ صورتِ مسئولہ چونکہ نماز باجماعت نہیں پڑھی گئی لہذا مسجدِ شرعی نہیں بنی، اور جو حضرات نماز پڑھنا چاہتے ہیں وہ متولی حضرات کی اجازت سے پڑھ سکتے ہیں ۔
ملاحظہ ہو فتاوی ہندیہ میں ہے:
من بني مسجد اً لم يزل ملكه عنه حتى يفرزه عن ملكه بطريقه ويأذن بالصلاة فيه أما الإفراز فلأنه لا يخلص لله تعالى إلا به كذا في الهداية
التسليم في المسجد أن تصلي فيه الجماعة بإذنه وعن أبي حنيفة رحمه الله فيه روايتان في رواية الحسن عنه يشترط أداء الصلاة فيه بالجماعة بإذنه اثنان فصاعداً كما قال محمد رحمه الله والصحيح رواية الحسن كذا في فتاوى قاضيخان، ويشترط مع ذلك أن تكون الصلاة بأذان وإقامة جهراً لا سراً حتى لو صلى جماعة بغير أذان وإقامة سراً لا جهراً لا يصير مسجداً عندهما كذا في المحيط والكفاية
ذكر الصدر الشهيد رحمه الله في الواقعات في باب العين من كتاب الهبة والصدقة: رجل له ساحة لا بناء فيها أمر قوماً أن يصلوا فيها بجماعة فهذا على ثلاثة أوجه: أما إن أمرهم بالصلاة فيها أبداً نصاً بأن قال: صلوا فيها أبداً، أو أمرهم بالصلاة مطلقاً ونوى الأبد، ففي هذين الوجهين صارت الساحة مسجد اً لو مات لا يورث عنه. وأما إن وقت الأمر باليوم أو الشهر أو السنة ففي هذا الوجه لا تصير الساحة مسجد اً لو مات يورث عنه كذا في الذخيرة. (الفتاوى الهندية: ۲/٤۵٤، ٤۵۵).
کفایت المفتی میں ہے:
(۱) واقف نے جو صحیح طور پر زمین کا مالک تھا اور وقف کرنے کا شرعی اختیار رکھتا تھا اس کو مسجد کے لیے وقف کیا ہو، خواہ وہ زمین خالی عن العمارۃ ہو یا عمارت میں ہو ۔ (۲) اس کو اپنی ملک سے اس طرح علیحدہ کر دیا ہو کہ کسی دوسرے شخص کا یا خود واقف کا کوئی حق متعلق نہ رہے ۔ وقف کر کے اس کو متولی کے سپرد کر دیا ہو یا واقف کی اجازت سے اس میں ایک مرتبہ بھی نماز باجماعت ہو گئی ہو ۔ (مستفاد از کفایت المفتی: ۷/٦۱) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (فتاوی دار العلوم زکریا جلد اول، بعنوان مسجد اور جماعت خانہ کے احکام) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.