امام یا استاذ کے متولی بننے کا حکم:
Question
وہ امام یا استاذ جسے فنڈ سے تنخواہ ملتی ہو وہ مسجد کا متولی بن سکتا ہے یا نہیں؟
Answer
مسجد کا متولی ہر اس آدمی کو بنایا جا سکتا ہے جو دیندار، امانت دار اور مسائل وقف کا جاننے والا ہو اور یہ صفات عموماً ائمہ مساجد میں بدرجۂ اتم پائی جاتی ہیں رہا یہ مسئلہ کہ وہ امام مسجد فنڈ سے تنخواہ لیتا ہے تو مسجد فنڈ سے تنخواہ لینا متولی مسجد بننے سے مانع نہیں ہے ۔ اس لیے کہ اسے امامت اور پڑھائی کی تنخواہ دی جاتی ہے نہ کہ متولی مسجد ہونے کی، اور اگر بالفرض کوئی مفت میں متولی بننے کو تیار نہ ہو تو جو بھی کما حقہ خدمت انجام دے اس پر اُسے مناسب مشاہرہ طے کر کے دینا درست ہو گا، چاہے مسجد کا امام ہی کیوں نہ ہو ۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
سئل الفقيه أبو القاسم عن قيم مسجد جعله القاضي قيما على غلاتها وجعل له شيئاً معلوماً يأخذ كل سنة حل له الأخذ إن كان مقدار اجر مثله كذا في المحيط. (الفتاوى الهندية ۲/ ٤٦۱).
نیز امام یا استاذ کے لیے متولی یا ممبر نہ بننے کی وجہ کیا ہے جب عام دنیا دار فاسق و فاجر لو گ متولی بن سکتے ہیں تو امام اور استاذ کے متولی یا ممبر بننے کا سوال عجیب لگتا ہے ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.