مسجد و مدرسہ کے متولی میں مطلوبہ صفات:
Question
مسجد اور مدرسہ کے متولی کیسے ہونے چاہیے؟
Answer
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"الصالح للنظر من لم يسال الولاية للوقف وليس فيه فسق يعرف هكذا في فتح القدير وفي الإسعاف: لا يولي إلا أمين قادر بنفسه أو بنائبه ويستوي فيه الذكر والأنثى، ويشترط للصحة بلوغه وعقله كذا في البحر الرائق." (الفتاوى الهندية: ۲/٤۰۸).
فتاوی ابن تیمیہ میں ہے:
"ولا يجوز تولية الفاسق مع إمكان تولية البر." (فتاوى ابن تيمية: ۲۳/۳٤۱).
فتاوی محمودیہ میں ہے:
"متولی ایسے آدمی کو بنایا جائے جو امیں ہو (خائن نہ ہو) دیندار ہو (بے دین نہ ہو) انتظامِ وقف کی اہلیت اور اس سے دلچسپی رکھتا ہو ابتداءً ہی کسی فاسق غیر مدین کو متولی بنانا گناہ ہے ۔" (فتاوی محمودیہ: ۱۲/۲۸۳) ۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
"مسجد کا متولی عالم با عمل ہو عالم نہ ہو تو دیندار اور دیانت دار تو ضرور ہو ۔ غیر عالم فاسق کو متولی بنانا ناجائز ہے ۔ خدا پاک فرماتے ہیں
﴿إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ﴾
مذکورہ آیت کی تفسیر میں مولانا ابو الکلام آزاد تحریر فرماتے ہیں ۔ نیز یہ حقیقت بھی واضح کر دی کہ خدا پاک کی عبادت گاہ کی تولیت کا حق متقی مسلمان کو پہنچتا ہے اور وہی اسے آباد رکھنے والے ہو سکتے ہیں ۔ یہاں سے یہ بات معلوم ہو گئی کہ فاسق و فاجر آدمی مساجد کا متولی نہیں ہو سکتا ۔ کیونکہ دونوں کے درمیاں کوئی مناسبت باقی نہیں رہتی ۔ بلکہ متضاد باتیں جمع ہو جاتی ہیں وہ یہ کہ مساجد خدا پر ستی کا مقام ہیں اور متولی خدا پرستی سے نفور ۔" ترجمان القرآن (فتاوی رحیمیہ: ۳/۱٦٤، ۱٦٦) ۔
خلاصۂ کلام یہ کہ متولی عالم با عمل ہونا چاہیے ۔ اگر ایسا میسر نہ آس کے تو صوم و صلوۃ کا پابند، امانت دار مسائل وقف کو جاننے والا، خوش اخلاق، رحم دل، منصف مزاج، علم دوست اور اہل علم کی تعظیم کرنے والا جس میں یہ صفات زیادہ ہوں اسی کو متولی بنانا چاہیے ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.