قاضی کی تقرری کا اختیار اور اس کی مطلوبہ صفات:
Question
قاضی کی مطلوبہ صفات کیا ہیں؟ اگر جنوبی افریقہ میں اسلامی حکومت ہو تو قاضی کو کون مقرر کرے گا؟ نیز جب آج کل اسلامی حکومت نہیں ہے تو کیا مسلمانوں کے ذمہ قاضی مقرر کرنا ضروری ہے یا نہیں ؟
Answer
شریعتِ اسلامیہ میں عہدۂ قضا بہت ہی اہم اور بہت نازک عہدہ ہے ہر کس و نا کس اس کا حقدار نہیں ہے بلکہ جس شخص میں مطلوبہ صفات موجود ہوں گی وہی قاضی بننے کا مستحق ہوگا۔
منصبِ قضا سے متعلق وضاحت:
اللہ تعالی کے اتارے ہوے قانون کے مطابق حق کے ساتھ لوگوں کے نزاعات میں فیصلہ دینا قضا ہے۔ (بدائع الصنائع:
۷
/
۲
، کتاب آداب القاضی، سعد)۔ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ قضا فصل خصومات اور قطع نزاعات کا نام ہے۔ (الدر المختار:
۵
/
۳۵۲
، سعید، و لسان الحکام:
۱
/
۲۱۸
، الفصل الاول فی آداب القضاء)۔
قاضی کے فیصلہ کے لیے ضروری ہے کہ اجماع کے خلاف نہ ہو۔
قاضی کا فیصلہ خبر نہیں بلکہ انشاءِ حکم کے درجہ میں ہوگا۔
اہلیتِ قضا کے لیے ضروری شرطیں:
(۱) عاقل ہونا، کوئی مجنون اور مختل الحواس منصبِ قضا کا اہل نہیں۔
(۲) بالغ ہونا، کسی نابالغ کی تقرری بھی درست نہیں ہے۔
(۳) مسلمان ہونا، غیر مسلم قاضی نہیں بنایا جا سکتا، اگر قاضی غیر مسلم ہو اور فیصلہ کرے تو نافذ نہیں ہوگا۔
(٤) آزاد ہونا۔
(۵) بینا ہونا۔ کسی نا بینا کو قاضی نہیں بنایا جائے گا۔
(٦) بولنے والا ہو اخرس نہ ہو، سننے والا ہو بہرا نہ ہو۔
(۷) حد قذف میں سزا یافتہ نہ ہو۔
قاضی کی مطلوبہ صفات حسب ذیل درج ہیں:
٭ صاحب علم و فضل ہو حلال و حرام اور دیگر ضروری احکام پر اس کی نگاہ ہو۔
٭ کتاب و سنت اور طریقہ اجتہاد سے واقف ہونا چاہیے، تاکہ واقعات و حوادث میں اچھی طرح فیصلہ کر سکے۔
٭ عربی زبان، اس کی مختلف تعبیرات و محاورات اور زبان و ادب کا ضروری علم ہو۔
٭ جس ملک و علاقہ میں ہو اس علاقہ کی زبان، معاشرت و عرف، محاورات اور لغت سے آشنا ہو۔
٭ مشورہ لینے میں علماء سے عار نہ کرے۔
٭ صفت عدل سے متصف ہو۔ اصطلاحِ فقہاء میں عادل وہ ہے جو گناہ کبیرہ سے اجتناب کرے، صغیرہ پر اصرار نہ کرے۔
٭ حسنات صغائر کے مقابلہ میں غالب ہوں۔
٭ محل تہمت سے بچنے والا ہو۔
٭ مزاج میں عجلت نہ ہو۔
٭ بد اخلاق نہ ہو۔
٭ کردار کا مضبوط، دانش مند، سمجھدار اور صالح ہو۔
(ملخص از اسلامی عدالت، از قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رحمه الله۔ و ایضاح النوادر از مفتی شبیر احمد قاسمی)۔
موجود ہ دور میں قاضی مقرر کرنے کا اختیار:
ملاحظہ ہو اسلامی عدالت میں اس کے متعلق تفصیل مذکور ہے:
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب خلافتِ اسلامی ختم ہو چکی اور عالمِ اسلام کو ایک لڑی میں پرو دینے والی مرکزیت فنا ہو چکی تو امارت و خلافت کے فقدان کے بعد تولیتِ قضا کے فریضہ کی انجام دہی کے سلسلہ میں مسلمانوں کے لیے کیا راہ ہے؟ کیا وہ جماعتی زندگی سے متعلق اسلامی احکام معطل کر دیں، اسلام کے نظامِ عدل کو خوشی خوشی مٹنے دیں، یا شریعتِ اسلامی نے ان مختلف حالات کے لیے کچھ احکام بھی دئیے ہیں۔
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اسلام اپنے پیرؤوں کے لیے فوضویت اور انتشار کی زندگی کسی حال میں پسند نہیں کرتا، اور نہ احکامِ شریعت سے رو گردانی کوکسی حال میں درست سمجھتا ہے، اس لیے یہ تو بہر حال متعین ہے کہ حالات چاہے جیسے کچھ بھی ہوں مسلمانوں کی اجتماعی شیرازہ بندی کا فریضہ اپنی جگہ قائم رہتا ہے، اور مسلمانوں میں قوانین شرع کے نافذ کرنے والے محکمہ شرعیہ کے قیام سے گریز کی کوئی راہ نہیں ، اور بقدرِ استطاعت بہر حال امت مکلف ہے۔
اب اس سلسلہ میں ضروری ہے کہ مختلف ممالک کے سیاسی حالات کے پیش نظر مسلم ممالک کی جو مختلف قسمیں ہو گئی ہیں انھیں متعین کر کے ان میں تفویض قضا کی صورت معلوم کی جائے۔
۱۔ پہلی اور اصل اسلامی صورت جو شرعاً مطلوب ہے وہ یہی ہے کہ حکومت "شورائیت" پر مبنی امارت و خلافت کی صورت میں قائم ہو جو اسلام کے صحیح اجتماعی نظام کی عملی تشکیل ہو گی۔ ایسی صورت میں تفویض قضا کا اختیار امیر و خلیفہ کو ہوگا۔
۲۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس ملک پر کسی مسلمان بادشاہ یا مطلق العنان مسلم حکم ران کا اقتدار ہو۔ یا ایسی جمہوری حکومت قائم ہو جس میں عملاً اقتدار مسلمانوں کے ہاتھوں میں ہو۔ اس صورت میں مسلم بادشاہ یا مسلم حکم راں کی طرف سے تفویض قضا درست سمجھی جائے گی۔
۳۔ تیسری صورت یہ ہے کہ اس ملک پر کوئی ایسی مسلم حکومت قائم ہو جو داخلی آزادی کے باوجود کسی دوسری غیر مسلم حکومت کے زیر نگیں ہو۔ اس صورت میں مسلم حکم راں کی طرف سے تفویض قضا درست ہو گی جو اگر چہ کسی غیر مسلم اقتدار کے تحت ہو لیکن داخلی امور میں خود مختار ہے۔
٤۔ چوتھی صورت یہ ہے کہ ملک پر غلبہ کفار کا ہو چاہے اقتدار کسی غیر مسلم بادشاہ اور مطلق العنان حکم راں کا ہو یا کسی ایسی جمہوری حکومت کا جس میں عملاً اقتدار غیر مسلموں کے ہاتھوں میں ہو۔ اس صورت میں مسلمانوں پر واجب ہوگا کہ وہ اپنا ایک امیر منتخب کر لیں تاکہ وہ جماعتی زندگی گزار سکیں اور اس امیر کی طرف سے تفویض قضا درست ہو گی، نیز اس طرح ممکن حد تک مسلمانوں پر شریعتِ اسلامی جاری ہو سکے گی اور تعطیل احکام شرع نیز انتشار و افتراق کے گناہ سے بچا جا سکے گا۔
اور اگر خدا نہ خواستہ مسلمان کسی امیر کے انتخاب پر متفق نہیں اور اربابِ حل و عقد کسی شخص کو قاضی مقرر کرنے پر اتفاق کر لیں تو یہ بھی درست ہوگا۔ (اسلامی عدالت، جلدِ اول، از ص
۱۷۷
تا ص
۱۷۹
، ط: قاضی پبلشرز)۔
دلائل ملاحظہ کیجیے: ۱۔
ثم رأيت في الفتح قال: والذي له ولاية التقليد الخليفة والسلطان الذي نصبه الخليفة وأطلق له التصرف وكذا الذي ولاه السلطان ناحية وجعل له خراجها وأطلق له التصرف فإن له أن يولي ويعزل كذا قالوا. (رد المحتار: ۵/۳۵۵، سعيد).
قال المازري في شرح التلقين: القضاء ينعقد بأحد وجهين أحدهما عقد أمير المؤمنين أو أحد أمراء ه، الذين جعل لهم العقد في مثل هذا، والثاني: عقد ذوي الرأي وأهل العلم والمعرفة والعدالة لرجل منهم كملت فيه شروط القضاء وهذا حيث لا يمكنهم مطالبة الإمام في ذلك
الخ. (ابن فرحون، ص ۲۱).
۲۔
ويجوز تقلد القضاء من السلطان العادل والجائر. (الدر المختار: ۵/۳٦۸، سعيد).
۳۔
وبلاد الإسلام التي في أيدي الكفرة لا شك أنها بلاد الإسلام لا بلاد الحرب لأنهم لم يظهروا فيها حكم الكفر والقضاة مسلمون والملوك الذين يطيعونهم عن ضرورة مسلمون ولو كانت عن غير ضرورة ففساق وكل مصر فيه والٍ من جهتهم تجوز فيه إقامة الجمع والأعياد وأخذ الخراج وتقليد القضاة وتزويج الأيامي لاستيلاء المسلم عليه وأما إطاعة الكفر فذاك مخادعة. (رد المحتار عن التاتارخانية: ۵/۳٦۸، سعيد).
٤۔
وإذا لم يكن سلطان ولا من يجوز التقلد منه كما هو في بعض بلاد المسلمين غلب عليهم الكفار كقرطبة الآن يجب على المسلمين أن يتفقوا على واحد منهم يجعلونه والياً فيولي قاضياً ويكون هو الذي يقضي بينهم وكذا ينصبوا إماماً يصلي بهم الجمعة. (رد المحتار نقلاً عن الفتح: ۵/۳٦۹، سعيد).
حتى لو اجتمع أهل بلدة على تولية واحد القضاء لم يصح بخلاف ما لو ولوا سلطاناً بعد موت سلطانهم كما في البزازية وتمامه فيه قلت: وهذا حيث لا ضرورة وإلا فلهم تولية القاضي أيضاً. (رد المحتار: ۵/۳٦۸، سعيد)
ظاہر ہے کہ یہ صورت انتہائی مجبوری و اضطرار کی ہے کہ مسلمانوں کا کوئی معاشرہ کسی حال میں قضائے قاضی سے مستغنی نہیں ہو سکتا اور مسلمانوں پر اس ضرورت دینی کی تکمیل کے لیے اپنی استطاعت بھر کوشش کرنا فرض ہے۔ پس نظامِ امارت وسیع علاقہ کے لیے قائم کرنا مخصوص حالات کی وجہ سے اگر ممکن نہیں ہو تو محدود اور چھوٹے علاقہ کے علماء و اربابِ حل و عقد جمع ہو کر اپنے لیے قاضی مقرر کر لیں تاکہ مسلمانوں کی یہ دینی ضرورت پوری ہو سکے، تو یہ علماء و اربابِ حل و عقد کی تراضی عام مسلمانوں کی تراضی سمجھی جائے گی اور شرعاً ان حدود کے اندر جن کے لیے وہ قاضی مقرر کیا گیا ہے، قضا منعقد ہوگی اور اس کا فیصلہ نافذ ہوگا۔ (ماخوذ از حاشیہ اسلامی عدالت، جلدِ اول، از ص
۱۷۸
تا ص
۱۸۰
، ط: قاضی پبلشرز)۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں: ایضاح النوادر، ص ۱۱۲۔ ۱٤۰، حصہ دوم، ط: مکتبہ علمیہ سہارنپور۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.