غیر مسلم ممالک میں قاضی کے ذمہ تنفیذِ احکام کا حکم:
Question
کیا غیر مسلم ممالک میں قاضی کے ذمہ صرف انشاء یعنی فیصلہ دینا ہے یا ساتھ ساتھ تنفیذ بھی اس کے ذمہ ضروری ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔
Answer
بصورتِ مسئولہ قاضی شرعی اس کو کہا جاتا ہے جو لوگوں کے عائلی اور نزاعی معاملات کے تصفیہ کے لیے امیر اور والی کی طرف سے مقرر کیا جاتا ہے۔ قوۃِ منفذہ قاضی شرعی کی صفتِ لازمہ یا جزء لا ینفک نہیں ہے، اگر حاکم کسی شئی کا حکم کرتا ہے تو مامور پر اس کا امتثال واجب ہو جاتا ہے، یہ نہیں کہ اس کا حکم نافذ اور جاری ہو جاتا ہے، عدمِ امتثال سے گنہگار ہو جاتا ہے، اور قاضی شرعی حکم کی تنفیذ نہیں کرتا بلکہ نفس الامر میں ثابت شدہ حکم کو
"قضيت" "حكمت" "أنفذت" "ألزمت عليك القضاء"
کے الفاظ کے ذریعہ سے معرض ظہور میں لاتا ہے اور ظالم سے مظلوم کا حق لے کر دلا دینا قاضی کے مفہوم میں داخل نہیں ہے، بلکہ یہ امر آخر ہے، جس کی اصل ذمہ دار حکومت کی انتظامیہ یا فوج داری محکمہ ہوتا ہے۔
قال في الدر المختار: نعم أمر الأمير متى صادف فصلاً مجتهداً فيه نفذ أمره، كما في سير التتارخانية وشرح السير الكبير فليحفظ. وقال الشامي: فقول الشارح نفذ أمره بمعني وجب امتثاله تأمل. (الدر المختار مع رد المحتار: ۵/٤۰۹، سعيد، والدر المختار: ۱/۷٦، سعيد).
علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:
فالمراد بإلزام التقرير التام وفي الظاهر فصل احترز به عن الإلزام في نفس الأمر لأنه راجع إلى خطاب الله تعالى وعلى صيغة مختصة أي الشرعية كألزمت، وقضيت وحكمت وأنفذت عليك القضاء وبأمر ظن لزومه الخ، فصل عن الجور والتشهي ومعني في الظاهر أي الصورة الظاهرة إشارة إلى أن القضاء مظهر في التحقيق للأمر الشرعي لا مثبت. (فتاوى الشامي: ۵/۳۵۲، سعيد).
نیز علامہ شامی رحمه الله ایک صفحہ کے بعد تنفیذ کی بحث میں ایک عبارت ایسی نقل فرماتے ہیں کہ جس سے سارے شبہات دور ہو سکتے ہیں:۔
وإذا رفع إليه قضاء قاض أمضاه بشروطه وهذا هو التنفيذ الشرعي. (فتاوى الشامي: ۵/۳۵۳، سعيد).
اس عبارت سے یہ بات صاف واضح ہو جاتی ہے کہ قضا ایک مستقل امر ہے اور تنفیذ ایک امر آخر ہے کہ قاضی کے فیصلہ کر دینے کے بعد اس فیصلہ شدہ حکم کے مطابق ظالم پر مظلوم کا حق ادا کرنے کو حکومت کی انتظامیہ یا فوج داری محکمہ جبراً نافذ و جاری کر سکتا ہے۔ (ملخص از ایضاح النوادر، حصہ دوم، از ص
۷۱
تا
۷۹
، ط: مکتبہ علمیہ سہارنپور)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.