قضا علی الغائب کے نافذ ہونے کا حکم:
Question
ایک عورت نے اپنے شوہر پر دعوی کیا کہ وہ کئی سال سے غائب ہے اور مجھے کچھ خرچ نہیں دیتا، اس لیے میں تفریق چاہتی ہوں، اگر اس صورت میں قاضی شوہر کے خلاف کچھ فیصلہ کرے گا تو وہ قضا علی الغائب ہے، کیا احناف کے نزدیک قضا علی الغائب جائز ہے یا نہیں ؟
Answer
بصورتِ مسئولہ قضا علی الغائب کی صورت میں قاضی غائب کی طرف سے کسی شخص کو مقرر کرے گا، اور غائب کا قائم مقام سمجھ کر کاروائی کرے گا، اصطلاحِ فقہاء میں اس کو وکیل مسخر کہتے ہیں، اس صورت میں فیصلہ نافذ ہو جائے گا، لیکن اگر قاضی نے وکیل مسخر مقرر نہیں کیا تب بھی قاضی کا فیصلہ نافذ ہو جائے گا کیوں کہ قضا علی الغائب کا مسئلہ مجتہد فیہ ہے۔
قال في المجلة: الوكيل المسخر هو الوكيل المنصوب من قبل الحاكم للمدعي عليه الذي لم يمكن إحضاره بالمحكمة. (المجلة، ص ۳٦۵، المادة: ۱۷۹۱). (وكذا في رد المحتار: ۵/٤۱۵، سعيد).
قال في الهداية: وإذا كان كذلك يتضمن الحكم به قضاء على الغائب وأنه لا يجوز إلا إذا رآه القاضي وقضي به لأنه مجتهد فيه ثم ما كان يخاف عليه الفساد يبيعه القاضي لأنه تعذر عليه حفظ صورته ومعناه فينظر له بحفظ المعني. (الهداية: ۲/٦۲۰، كتاب المفقود).
قال في فتح القدير: إذا رأي القاضي المصلحة في الحكم للغائب وعليه فحكم فإنه ينفذ لأنه مجتهد فيه. (فتح القدير: ٦/۱٤۲، دار الفكر).
قال في الفقه الحنفي في ثوبه الجديد: ولو رأي القاضي مصلحة في الحكم للغائب وعليه فحكم فإن حكمه ينفذ؛ لأن القضاء على الغائب أمر مجتهد فيه لما مر معنا في حديث عائشة رضي الله عنه أن النبي ﷺ قضي على أبي سفيان وهو غائب وقال لزوجته: خذي ما يكفيك وولدك بالمعروف، الخ. (الفقه الحنفي في ثوبه الجديد: ۳/۱٤۲).
اسلامی عدالت میں مولانا قاضی مجاہد الاسلام صاحب رقم طراز ہیں: اگر مدعی علیہ مقدمہ کی اطلاع ملنے کے باوجود حاضری سے گریز کرے تو اسے رفعِ الزام سے عاجز تصور کرتے ہوے قاضی مقدمہ کی سماعت کرے گا اور فیصلہ بھی۔ اور قاضی ایسے مدعا علیہ کی طرف سے جسے حاضر کرنا ممکن نہ ہو، کسی ایسے شخص کو اس کی طرف سے اظہارِ حق کے لیے طلب کرے گا، جس کے بارے میں امید ہو کہ وہ مدعا علیہ کے مفادات کی حفاظت کرے گا۔ اسے اصطلاحِ فقہاء میں وکیل مسخر کہا جاتا ہے۔ (اسلامی عدالت، جلدِ اول ص
۳۸۳
، ط: قاضی پبلشرز)۔
ملاحظہ: اسلامی عدالت کے حاشیہ میں قضا علی الغائب کے مسئلہ پر از ص ۳۸۳ تا ۳۹۵، تفصیل سے بحث فرمائی ہے اس کی طرف مراجعہ بھی سود مند ہے۔
جدید فقہی مسائل میں مرقوم ہے:
اگر مدعا علیہ غائب ہو اور اس کا کوئی پتا نہ چل پاتا ہو یا اس کے پاس مدعی کے دعوی کی بابت اطلاع دینا اور رفع الزام کے لیے طلب کیا جانا ممکن نہ ہو، لیکن اس کا کوئی قریبی رشتہ دار اور بہی خواہ جس سے اس کے حقوق کے تحفظ کی امید کی جا سکتی ہو، موجود ہو تو طلب کیا جائے، اس کی حیثیت مدعا علیہ کی طرف سے پیروکار کی ہو گی ہر چند کہ فقہاء متقدمین صرف پانچ ہی قسم کے مقدمات میں وکیل مسخر مقرر کرنے کی اجازت دیتے تھے، لیکن حصکفی رحمه الله نے متأخرین کا رجحان اس طرح نقل کیا ہے:
فالمتأخرون أن القاضي ينصب وكيلاً في الكل وهو قول الثاني.
متأخرین کی رائے ہے کہ قاضی تمام مقدمات میں کسی کو وکیل مقرر کر دے گا اور یہی ابو یوسف رحمه الله کا خیال ہے۔ پس حصکفی رحمه الله کی اس صراحت اور موجود ہ حالات کے پس منظر میں:
۱۔ اگر مدعا علیہ غائب ہو اور اس کا پتا نہ چلتا ہو تو ہر زمانہ کے معروف طریقہ تشہیر و ابلاغ کے ذریعہ مدعا علیہ کے خلاف کیے جانے والے دعوی کی تشہیر کی جائے اور اس کو رفع الزام کے لیے بلایا جائے۔
۲۔ اگر مدعا علیہ موجود ہو مگر چھپا پھرتا ہو اور دار القضاء کی نوٹس اس تک پہنچانی ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں بھی وکیل مسخر کا سہارا لیا جائے، علامہ حصکفی رحمه الله نے لکھا ہے کہ اگر مدعا علیہ چھپ جائے تو امام ابو یوسف رحمه الله کے نزدیک وکیل مسخر سے حلف لے کر مقدمہ کی کاروائی جاری رکھی جائے گی، نیز یہ بھی صراحت کی ہے کہ متأخرین فقہاء کا اسی پر عمل ہے۔ ۳۔ اگر مدعا علیہ کو پیشگی اطلاع دے دی جائے اور اس کے باوجود وہ رفع الزام سے گریز کرے یا دار القضاء کے ذریعہ دی جانے والی نوٹس کو قبول نہ کرے تو رفع الزام سے گریز کی یہ صورتیں نکول عن الحلف کے حکم میں ہوں گی اور اس کی بنیاد پر قاضی فیصلہ کرنے کا مجاز ہوگا۔ (جدید فقہی مسائل:
۱
/
٤۵۰
۔
٤۵۲
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.