غیر مسلم کی شہادت اور قضا مسلمان پر نافذ نہیں :
Question
کیا غیر مسلم کی گواہی یا قضا مسلمان پر نافذ ہو سکتی ہے یا نہیں ؟
Answer
بصورتِ مسئولہ غیر مسلم کی شہادت اور قضا مسلمان کے معاملات خصوصاً دینی امور میں نافذ نہیں ہو گی، یعنی کفار اہل شہادت نہیں اور جو اہل شہادت نہیں وہ قضا کے اہل بھی نہیں۔ لیکن امام ابوبکر جصاص رازی رحمه الله کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ سفر میں غیر مسلم ذمی کی شہادت مسلمان پر جائز ہے۔
الدر المختار میں مرقوم ہے:
و أهله أهل الشهادة، أي أدائها على المسلمين كذا في الحواشي السعدية. (الدر المختار: ۵/۳۵٤، سعيد).
فتاوی الشامی میں ہے:
وحاصله أن شروط الشهادة من الإسلام والعقل والبلوغ والحرية وعدم العمي
ومقتضاه أن تقليد الكافر لا يصح. (فتاوى الشامي: ۵/۳۵٤، سعيد). (وكذا في البحر الرائق: ٦/۲٦۰، والدر المختار: ۵/۳۵۷، سعيد).
بداية المجتهد
میں ابن رشد قرطبی مالکی رحمه الله فرماتے ہیں:
وأما الإسلام فاتفقوا على أنه شرط في القبول وأنه لا تجوز شهادة الكافر إلا ما اختلفوا فيه من جواز ذلك في الوصية في السفر
(بداية المجتهد: ۲/۳٤۷).
قال الإمام أبو بكر الجصاص الرازي: قال الله تعالى: يا أيها الذين آمنوا شهادة بينكم قد اختلف في معني الشهادة ههنا قال قائلون هي الشهادة على الوصية في السفر وأجازوا بها شهادة أهل الذمة على وصية المسلم في السفر. (أحكام القرآن: ۲/٤۸۹، ط: سهيل اكيڈمي).
جواہر الفتاوی میں مذکور ہے:
واضح رہے کہ غیر مسلم ججوں کے فیصلے مسلمانوں کے لیے لازم نہ ہونے کا مسئلہ جمہور کا اجماعی اور اتفاقی ہے اور اس بارے میں مسلمانوں میں سے کسی کا اختلاف نہیں ،
كما في بداية المجتهد ومراتب الإجماع لابن حزم. (
جواہر الفتاوی:
۳
/
۵۰۹
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.