غیر مسلم کا اپنے مسلمان دوست کے لیے نصف مال کی وصیت کا حکم:
Question
ایک مسلمان کی ایک غیر مسلم سے دوستی تھی، کافر دوست نے مرنے سے پہلے مسلمان دوست کے لیے اپنے نصف مال کی وصیت لکھ دی، حکومت کے قانون کے مطابق مسلمان اس نصف مال کا مستحق ہے، لیکن بعض علماء نے اس کو بتایا کہ غیر مسلم کے لیے بھی وہی قانون ہے جو مسلمان کے لیے ہے؛ ہدایہ میں ہے:
ولو أوصي الذمي بأكثر من الثلث أو لبعض ورثته لا يجوز اعتباراً بالمسلمين لأنهم التزموا أحكام الإسلام فيما يرجع إلى المعاملات، الخ. (الهداية: ٤/٦۹۰)
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا مسلمان دوست کے لیے کافر کا آدھا مال لینا درست ہے یا نہیں ؟ جب کہ قانوناً لے سکتا ہے۔ بینوا توجروا۔
Answer
بصورتِ مسئولہ چونکہ ہمارے ملک میں اسلامی احکام نافذ نہیں ہیں اس لیے غیر مسلم حکومت کو ہدایہ کی عبارت سے کوئی سروکار نہیں ہے، ہدایہ کی عبارت کا مطلب یہ ہے کہ دار الاسلام میں جہاں اسلامی احکام نافذ ہوں وہاں غیر مسلموں نے اسلامی قانون کا التزام کیا ہے، بنا بریں اسلامی قانون کے پابند ہوں گے، اور مسلمان جج ثلث سے زائد وصیت کو نافذ نہیں کرے گا، لیکن موجود ہ صورتِ حال ایسی ہے کہ نہ دار الاسلام ہے نہ اسلامی احکام کا نفاذ ہے، لہذا غیر مسلم حکومت کے قانون کے مطابق مسلمان اپنے کافر دوست کا آدھا مال وصول کر سکتا ہے، گویا حکومت نے کافر کے مال کو اولاً اپنی تحویل میں لے لیا پھر اپنی طرف سے مسلمان کو وصیت کے مطابق مالک بنا دیا تو قانون کی طاقت سے مسلمان غیر مسلم کے مال کا مالک بن گیا۔
فقہاء نے حربی مستامن اور ذمی دونوں کے جداگانہ احکام بیان فرمائے ہیں؛ ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:
وإذا دخل الحربي دارنا بأمان فأوصي لمسلم أو ذمي بماله كله جاز لأن امتناع الوصية بما زاد على الثلث لحق الورثة ولهذا ينفذ بإجازتهم وليس لورثته حق مرعي لكونهم في دار الحرب إذ هم أموات في حقنا
ولو أعتق عبده عند الموت أو دبر عبده في دار الإسلام فذلك صحيح منه من غير اعتبار الثلث لما بينا. (الهداية: ٤/٦۹۰، باب وصية الذمي، ط: شركت علمية).
اس کے بعد صاحب ہدایہ رحمه الله نے ذمی کی وصیت کا مسئلہ بیان فرمایا ہے جو سوال میں مذکور ہے، اور اس کی علت یہ لکھی ہے کہ:
لأنهم التزموا أحكام الإسلام،
غیر مسلم معاہد اور ذمی جو دار الاسلام میں قیام پذیر ہو اس نے معاملات میں اسلامی احکام کا التزام کیا ہے بایں وجہ اسلامی قانونِ میراث کے مطابق فیصلہ ہوگا۔
لیکن فی زماننا اِس ملک میں نہ اسلامی قانون ہے اور نہ اسلامی احکام کا نفاذ ہے مذہب کے اعتبار سے ہر ایک آزاد ہے جس کو جدید اصطلاح میں دار الامن سے تعبیر کرتے ہیں۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.