جمعیت العلماء کا قاضی کے قائم مقام ہونے کا حکم:
Question
کیا کسی ملک کی جمعیت کا فیصلہ قاضی کے فیصلہ اور حکم کے درجہ میں ہے یا نہیں ؟
Answer
بصورتِ مسئولہ مخاصمات، معاملات اور معاشرات وغیرہ میں جمعیت کا فیصلہ، قاضی کے فیصلہ اور حکم کے برابر ہے لیکن حدود و قصاص وغیرہ میں جمعیت کا حکم نہیں چل سکتا۔ فتاوی شامی میں ہے:
مطلب في حكم تولية القضاء في بلاد تغلب عليها الكفار، وفي الفتح: وإذا لم يكن سلطان ولا من يجوز التقليد منه كما هو في بعض بلاد المسلمين غلب عليهم الكفار كقرطبة الآن يجب على المسلمين أن يتفقوا على واحد منهم يجعلونه والياً فيولي قاضياً ويكون هو الذي يقضي بينهم وكذا ينصبوا إماماً يصلي بهم الجمعة. وهذا هو الذي تطمئن النفس إليه فليعتمد، نهر. (فتاوى الشامي: ۵/۳٦۹، سعيد).
الحیلۃ الناجزۃ میں حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمه الله رقم طراز ہیں:
جن بلاد میں قاضی شرعی موجود نہیں جیسے اسلامی ریاستوں کے علاوہ ہندوستان کے تمام شہروں کا حال ہے تو وہاں وہ حکام جو گورنمنٹ کی طرف سے اس قسم کے معاملات کے تصفیہ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں اگر وہ مسلمان ہوں اور فیصلہ شریعت کے موافق کریں تو ان کا فیصلہ بھی قضائے قاضی کے قائم مقام ہو جاتا ہے، اور اگر مسلمان حاکم موجود نہ ہو یا اس کی عدالت سے فیصلہ شریعت کے موافق نہ ہوتا ہو تو پھر مذہب مالکیہ کے موافق دیندار مسلمانوں کی ایک جماعت پنچایت کر کے حسبِ بیانِ مذکور تحقیق کریں اور تحقیق کامل کے بعد فیصلہ صادر کریں تو یہ فیصلہ بھی قضائے قاضی کے حکم میں ہو جاوے گا۔ (الحیلۃ الناجزۃ، ص
۱۰۷
،
۱۰۸
)۔
مزید ملاحظہ ہو: (فتاوی رحیمیہ:
٤
/
۵٤۸
، ط: مکتبۃ الاحسان، دیوبند)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.