کتاب القاضی الی القاضی کا حکم:
Question
کتاب القاضی الی القاضی شرعاً معتبر ہے یا نہیں ؟ مثلاً: جوہانسبرگ میں ایک شخص کسی دوسرے شخص پر دعوی کرتا ہے لیکن یہ دوسرا شخص دربن میں ہے اور دونوں کو جمع کرنا بھی ممکن نہیں ہے یا مشکل ہے، اور مدعی گواہوں کو قاضی کے پاس لے جا کر گواہی ادا کرا دے، تو قاضی ان کی گواہی قبول کر کے ایک خط میں لکھ دے کہ میں نے گواہوں کی گواہی کے بعد یہ فیصلہ فلاں شخص پر کیا ہے آپ اسے نافذ کیجیے، اور یہ خط دربن والے قاضی کی طرف روانہ کر دے تو دربن والا قاضی اس پر فیصلہ کر سکتا ہے یا نہیں ؟ اس خط کا اعتبار ہوگا یا نہیں ؟
Answer
بصورتِ مسئولہ مذہبِ احناف کی ظاہر الروایہ کے مطابق منقولات میں ایسے خط کا اعتبار نہ ہوگا، لیکن فی زماننا مفتی بہ قول یہ ہے منقولات میں بھی اس کا اعتبار ہے اور اس کے مطابق فیصلہ ہو سکتا ہے۔
فتح القدیر میں مرقوم ہے:
ولا يقبل في الأعيان المنقولة كالحمار والثوب والعبد للحاجة إلى الإشارة فيها
وعن محمد رحمه الله أنه يقبل في جميع ما ينقل من الدواب والثياب والإماء وعليه المتأخرون ونص الاسبيجابي رحمه الله على أن الفتوى عليه وبه قال مالك رحمه الله وأحمد رحمه الله والشافعي رحمه الله في قول. (فتح القدير: ۷/ ۲۸۸، دار الفكر).
البنایہ فی شرح الہدایہ میں مذکور ہے:
وقال في شرح الطحاوي: وقال ابن أبي ليلي يقبل في جميع ذلك أي يقبل كتاب القاضي إلى القاضي في المنقول وغيره ثم قال فيه والفتوى على هذا لتعامل الناس. (البناية في شرح الهداية: ۳/۲۸۳).
در مختار میں ہے:
القاضي يكتب إلى القاضي في كل حق
وفي الشامي: قوله كل حق، من نكاح وطلاق وقتل موجبة مال وأعيان ولو منقولة وهو المروي عن محمد وعليه المتأخرون وبه يفتي للضرورة. (الدر المختار مع رد المحتار: ۵/٤۳۲، سعيد).
(وكذا في حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۳/۲۰۹، والفتاوى الهندية: ۳/۳۸۱، ومجمع الأنهر شرح ملتقي الأبحر: ۲/۱٦۵، والبحر الرائق: ۷/۲، وتبيين الحقائق: ٤/۱۸٤).
اسلامی عدالت میں مرقوم ہے:
سماعتِ مقدمہ اور فیصلہ کے دوران دو حلقوں کے قضاۃ کے مابین مراسلت، کاروائی کی تکمیل، فیصلہ یا فیصلہ کی تنفیذ کے لیے مسلیں بھیجنے کی ضرورت پیش آتی ہے، ان مسلوں اور قاضی کی بھیجی ہوئی تحریروں کو دوسرا قاضی کن شرائط کے ساتھ قبول کر سکتا ہے۔
حدود و قصاص کے علاوہ تمام امور کے بارے میں ایک قاضی کی بھیجی ہوئی تحریر اور مسل دوسرے قاضی کے نزدیک معتبر ہوگی اور حکم کی بنیاد بن سکے گی قاضی جو کاغذات دوسرے قاضی کے پاس اپنے فیصلہ کی تنفیذ یا فیصلہ کرنے کے لے بھیجے، ضروری ہے کہ اس کے لیے انتہائی محتاط اور قابل اعتماد ذریعہ اختیار کرے۔
کتاب القاضی کی قبولیت کے لیے یہ کافی ہے کہ قاضی مکتوب الیہ قاضی کاتب کے دستخط اور اس کی مہر پہچانتا ہو اور اسے اطمینانِ قلبی حاصل ہو جائے کہ یہ قاضی کاتب کی بھیجی ہوئی تحریر ہے اور اس میں کوئی جعل نہیں ہے۔ اگر قاضی مکتوب الیہ کو ذرا بھی شک ہو تو اسے یا تو خود قاضی کاتب کو طلب کر لینا چاہیے یا پھر دو معتبر شہادتیں طلب کرنا چاہیے۔
آج کے دور میں ڈاک کے ذریعہ کاغذات کی ترسیل کسی جعل سازی کے امکانات کو نسبۃً کم سے کم تر کر دیتی ہے، اور اسی میں سہولت بھی ہے، ورنہ ہر مسل کے بھیجنے کے لیے دو گواہوں کا بھیجنا طویل خرچ کا باعث ہوگا، لہذا رجسٹرڈ یا انشورڈ ڈاک کے ذریعہ باضابطہ دستخط اور مہر کے ساتھ جو اندر کاغذات پر بھی ہو اور لفاف پر، بھیجنا معتبر ہونا چاہیے۔ البتہ اگر قاضی مکتوب الیہ کو اس میں کوئی شک ہو تو وہ قاضی اول سے اپنے شک کو دور کر سکتا ہے۔ (اسلامی عدالت مع الحاشیہ، جلدِ اول، ص
٤۲۵
،
٤۲۸
)۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں: (جدید فقہی مسائل، جلدِ اول، ص
٤۵۳
۔
٤۵۵
، و اسلامی عدالت، جلدِ اول کا حاشیہ از ص
٤۲۸
تا
٤۳۳
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.