فاسق کی شہادت پر قاضی فیصلہ کر دے تو ثبوتِ ہلال کا حکم:

3 min readFatwa Vol 3 #168Urdu
Vol. 3كتاب الصومباب (۱): رؤیتِ ہلال اور اختلافِ مطالع كا بيان

Question

کیا قاضی رویت ہلال میں فاسق کی شہادت قبول کر سکتا ہے یا نہیں؟ اگر قبول کر لی تو اس کی بنیاد پر صادر شدہ فیصلہ درست ہوگا یا نہیں؟

Answer

فاسق کی شہادت قبول کرنے والا قاضی گنہگار ہے، لیکن اس کی اچھی شہرت و امانت داری کی وجہ سے اگر قاضی نے اس کی شہادت قبول کر لی تو فیصلہ نافذ ہوگا بلکہ امام ابو یوسف کے قول کے مطابق جو فاسق شرافت و مروت میں مشہور ہو اس کی شہادت قبول کرنا لازم ہے اور ایسے شخص کو قاضی بنانا بھی گناہ نہیں، لیکن اصح قول یہ ہے کہ اس کی شہادت قبول کرنا گناہ ہے، لیکن فیصلہ نافذ ہو جائے گا ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

(والفاسق أهلها فيكون أهله لكنه لا يقلد) وجوباً ويأثم مقلده كقابل شهادته به يفتى وقيده في القاعدية بما إذا غلب على ظنه صدقه فليحفظ، درر، واستثني الثاني الفاسق ذا الجاهة والمروءة فإنه يجب قبول شهادته بزازية، قال في النهر: وعليه فلا يأثم أيضاً بتوليته القضاء حيث كان كذلك إلا أن يفرق بينهما. انتهى.
وفي الشامية: (قوله لكنه لا يقلد وجوباً) قال في البحر وفي غير موضوع ذكره الأولوية يعني الأولي أن لا تقبل شهادته وإن قبل جاز وفي الفتح ومقتضي الدليل أن لا يحل أن يقضي بها فإن قضي جاز ونفذ ومقتضاه الإثم

وصرح ابن الكمال بأن من قلد فاسقا يأثم وإذا قبل القاضي شهادته يأثم. (قوله واستثني الثاني) أي أبو يوسف رحمه الله من الفاسق الذي يأثم القاضي بقبول شهادته، والظاهر أن هذا مما يغلب على ظن القاضي صدقه، فيكون داخلاً تحت كلام القاعدية فلا حاجة إلى استثنائه على ما استظهرنا آنفاً تأمل. (الدر المختار مع الشامي ۵/ ۳۵٦، كتاب القضاء، مطلب في حكم القاضي الدرزي والنصراني سعيد).

حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
باتفاقِ فقہاء فاسق کی شہادت کو قبول کرنا اور اس کے مطابق فیصلہ کرنا قاضی کے ذمہ واجب نہیں ہے، لیکن اگر قاضی کو قرائن کے ذریعہ معلوم ہو جائے کہ یہ جھوٹ نہیں بولتا اس بنا پر وہ فاسق کی شہادت پر کوئی فیصلہ کر دے تو یہ فیصلہ صحیح اور نافذ ہے ۔ مستفاد از ہدایہ، شرح وقایہ، در مختار، شامی، عالمگیری وغیرہ ۔ (رؤیتِ ہلال و فوٹو کے احکام: ص ۵۳) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.