ریڈیو کی خبر سے ثبوت ہلال کا حکم:
Question
عام طور پر جمعیت العلماء کا فیصلہ ریڈیو پر شائع کیا جاتا ہے تو اس سے رؤیت ہلال ثابت ہو گی یا نہیں؟
Answer
ریڈیو کی خبر ایک اعلان کی حیثیت رکھتی ہے یہ اعلان اگر رؤیت ہلال کی باضابطہ کمیٹی کی جانب سے ہو، جو شرعی شہادت و قواعد کے مطابق فیصلہ کرتی ہے، اور اعلان کرنے والا کمیٹی کا معتمد مسلم نمائندہ ہو تو اس پر اعتماد کرنا صحیح اور درست ہے ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
اگر وہ محکمہ رؤیت ہلال کی شرعی طور پر تحقیق کر کے والی ملک کے امر سے تار یا ریڈیو کی ذریعہ رؤیت کا اعلان کر دے تو خاص اس شہر میں نیز ان مقامات میں جو اس شہر کے تابع ہوں جیسے قرب و جوار کے قصبات اس اعلان کا اعتبار کر کے عمل کرنا شرعاً درست ہے ۔ (فتاوی محمودیہ ۱۰/۵۵، باب رؤیۃ الہلال) ۔
ایضاح المسائل میں ہے:
محض ریڈیو کی خبر سے شرعاً رویت کا ثبوت نہیں ہوتا بلکہ ریڈیو کی خبر معتبر ہونے کے لیے حسب ذیل شرطیں لازم ہیں:
۱- حاکم مسلم یا کسی ہلال کمیٹی کے با شرع اور متبع شریعت ذمہ دار ثبوت شرعی کے بعد از خود ریڈیو پر اعلان کرے یا اعلان کرائے ۔
۲- اس طرح اعلان کریں کہ ہم نے شہادت لی ہے، اور شرعی شہادت سے رؤیت کا ثبوت ہو چکا ہے ۔
۳- ذمہ دار اپنا خود تعارف بھی کرائے کہ فلان بن فلان ہوں، فلان حاکم یا فلان ہلال کمیٹی کا ذمہ دار ہوں ۔
٤- ریڈیو کے اعلان کی تفصیل ذمہ دار علماء کے سامنے رکھ دیں، اور وہ تحقیق و تفتیش سے اطمینان کر لیں، ان کی ہدایات پر عمل کریں ۔
۵- ریڈیو کا اعلان اتنی دور تک معتبر ہو سکتا ہے کہ اس کے تسلیم کرنے سے آپ کے یہاں کبھی مہینہ ۲۸ یا ۳۱ کا نہ ہوتا ہو ۔
٦- اس رؤیت کے موقع پر آپ کے یہاں مطلع صاف نہ ہو، ورنہ اس اعلان کا اعتبار نہ ہوگا، مذکورہ شرطوں کے ساتھ ریڈیو کا اعلان معتبر ہے ورنہ معتبر نہیں ۔ (ایضاح المسائل: ص ۸۰، نعیمیہ) ۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
ریڈیو: ۔ شرعی قاضی، یا مستند علماء کرام کی مجلس یا وہ چاند کمیٹی جن کا فیصلہ مسلمان تسلیم کرتے ہوں، یہ لوگ باقاعدہ شہادت لے کر چاند کا فیصلہ کریں اور اس فیصلہ کو شرعی قاضی یا علماء کرام کی مجلس یا چاند کمیٹی کا صدر یا ان کا معتمد نمائندہ بذریعہ ریڈیو نشر کرے اور دوسری جگہ کے علماء کرام اسے منظور رکھیں تو اس پر عمل کرنا درست ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۵/۱۸۵) ۔
فتاوی فریدیہ میں ہے:
ہلال کمیٹی کا اعلان اور اخبار بذریعہ ریڈیو وغیرہ واجب الاعتماد ہو گا جب کہ خبر تفصیلی ہو، اس میں حکم دہندہ اور سببِ حکم مذکور ہوتا کہ ظن غالب حاصل ہو ۔ (فتاوی فریدیہ: ٤/۵۷) ۔
مزید ملاحظہ فرمائیں: جدید فقہی مسائل: ۲/۲۲، ریڈیو اور ٹی وی کی اطلاع ۔ و امداد المفتین: ۲/٤۷۷-٤۸۰) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.