ثبوت ہلال کے لیے جدید فلکیاتی حساب کا حکم:
Question
بعض ممالک میں رمضان ختم ہونے سے چند دن پہلے ہی سے عید کی تاریخ متعین کر دیتے ہیں اور اس کا اعلان کرتے ہیں اور ان کا یہ کہنا ہے کہ جدید فلکیات کے ذریعہ حساب لگا سکتے ہیں، شریعت میں اس حساب کا کیا حکم ہے؟
Answer
رؤیت ہلال کے بارے میں نجومی، ستارہ شناس کی بات قابل اعتبار نہیں، لہذا ان کے حساب کے بناء پر ہلال کا ثبوت نہیں ہوگا، کیوں کہ شریعت نے روزہ اور عید کو رؤیتِ ہلال پر وابستہ کیا ہے لہذا نجومیوں کا قول خواہ کتنا ہی دقیق نظریات پر مبنی ہو اس میں قطعیت نہیں پائی جاتی، بلکہ اکثر اوقات ان کی رائیں باہم مختلف ہو جاتی ہیں، ہاں جدید فلکیاتی حساب نفی میں استعمال کر سکتے ہیں لیکن اثبات میں گنجائش نہیں ہے، البتہ جو یقینی ہے اس سے مدد لینے کی گنجائش ہے ۔
الفقہ علی المذاہب الاربعہ میں ہے:
لا عبرة بقول المنجمين، فلا يجب عليهم الصوم بحسابهم ولا على من وثق بقولهم، لأن الشارع علق الصوم على إمارة ثابتة لا تتغير أبداً، وهي رؤية الهلال أو إكمال العدة ثلاثين يوماً، أما قول المنجمين فهو إن كان مبنياً على قواعد دقيقة فإنا نراه غير منضبط، بدليل اختلاف آرائهم في أغلب الأحيان وهذا هو رأي ثلاثة من الأئمة وخالف الشافعية،
قالوا: يعتبر قول المنجم في حق نفسه وحق من صدقه ولا يجب الصوم على عموم الناس بقوله على الراجح. (الفقه على المذاهب الأربعة: ۱/۳٤٤، هل يعتبر قول المنجم، القاهرة).
الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید میں ہے:
ولا يعتد شرعاً بقول الفلكيين الذين يعتمدون على الحساب ولو كانوا عدولاً. (الفقه الحنفي في ثوبه الجديد: ۱/٤۰۱، ثبوت رمضان وأحكام رؤية الهلال، دمشق).
الفقہ الاسلامی و ادلتہ میں ہے:
ولا يعتمد على ما يخبر به أهل الميقات والحساب والتنجيم، لمخالفته شريعة نبينا عليه أفضل الصلاة والتسليم. (الفقه الإسلامي وأدلته: ۲/۹۹۵، كيفية إثبات هلال رمضان وهلال شوال، دار الفكر).
شامی میں ہے:
(قوله ولا عبرة بقول المؤقتين) أي في وجوب الصوم على الناس بل في المعراج لا يعتبر قولهم بالإجماع، ولا يجوز للمنجم أن يعمل بحساب نفسه، وفي النهر فلا يلزم بقول المؤقتين إنه أي الهلال يكون في السماء ليلة كذا وإن كانوا عدولاً في الصحيح كما في الإيضاح. (شامي ۲/۳۸۷، مطلب لا عبرة بقول المؤقتين في الصوم، سعيد).
جدید فقہی مسائل میں ہے:
امام ابو حنیفہ رحمه الله، امام مالک رحمه الله، امام احمد رحمه الله اور عام فقہاء کا اتفاق ہے کہ فلکیاتی علوم اور حساب پر عید و رمضان کا فیصلہ درست نہیں ۔ (جدید فقہی مسائل ۲/۲۵، کتب خانہ نعیمیہ) ۔
مزید ملاحظہ فرمائیں: فتاوی فریدیہ: ٤/٤۰، و فتاوی دار العلوم دیوبند: ٦/۳٦۷، مسائل رویت ہلال مدمل و مکمل) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.