ثبوتِ ہلال میں مختلف جماعتیں بن جانے پر عید کا حکم:

3 min readFatwa Vol 3 #175Urdu
Vol. 3كتاب الصومباب (۱): رؤیتِ ہلال اور اختلافِ مطالع كا بيان

Question

البانیا میں شوال کے چاند کے بارے میں مسلمانوں کی مختلف جماعتیں بن گئی جو حسب ذیل ہیں:
(۱) ایک جماعت نے سعودیہ کی اتباع کی اور روزہ نہیں رکھا نہ تراویح پڑھی بلکہ دوسرے دن عید منائی ۔
(۲) ایک جماعت نے برطانیہ والوں کی اتباع کی اور سعودیہ کے ایک دن بعد عید منائی لیکن نہ برطانیہ میں کسی نے چاند دیکھا اور نہ البانیا میں اور دونوں ملکوں میں صرف ایک گھنٹہ کا فرق ہے ۔
(۳) تیسری جماعت نے ۳۰ روزے مکمل کیے اس وجہ سے کہ البانیا میں چاند نظر نہیں آیا لہذا ان لوگوں نے پہلی جماعت کے دو دن بعد عید منائی اور دوسری جماعت کے ایک دن بعد ۔
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ ان جماعتوں میں سے کس کی عید صحیح ہے قواعدِ شرعیہ کے مطابق؟

Answer

پہلی جماعت کی عید شرعی، عرفی، اور حسابی سب اعتبار سے غلط ہوئی ۔
دوسری جماعت نے چاند نہیں دیکھا نہ اپنے شہر میں اور نہ یورپ میں پس اگر ان کو ایشیا یا قریبی شہروں سے چاند کی صحیح خبر پہنچی اور عید منائی تو صحیح ہے ورنہ رؤیت کی خبر صحیح کے بغیر برطانیہ کی اقتداء کی تو عید صحیح نہیں ہوئی ۔
تیسری جماعت کی عید بھی صحیح ہے، اس وجہ سے کہ صحیح خبر ان کو نہیں پہنچی یا پہنچی تو انھوں نے اعتماد نہیں کیا صحیح طریقہ پر نہ پہنچنے کی وجہ سے یا انھوں نے بلادِ بعیدہ کی گواہی قبول نہیں کی، یا کسی اور وجہ سے قبول نہیں کی بہر حال ان کا عمل صحیح ہے ۔
ملاحظہ حدیث شریف میں ہے:

وقال رسول الله ﷺ: "صوموا لرؤيته وأفطروا لرؤيته، فإن غم عليكم فعدوا ثلاثين ثم أفطروا". (رواه الترمذي: ۱/۱٤۷، باب ما جاء لا تتقدموا الشهر بصوم).

الفقہ الحنفی و ادلتہ میں ہے:

إذا كان بين القطرين قريب بحيث تتحد المطالع فلا يعتبر، وإن كانت بعيدة بحيث تختلف المطالع فيعتبر فلو صام أهل قطر ثلاثين يوماً برؤية، وأهل قطر آخر تسعة وعشرين يوماً برؤية، فعليهم قضاء يوم إن كان بين القطرين قرب بحيث تتحد المطالع، وإن كانت بعيدة بحيث تختلف، لا يلزم أحد القطرين حكم الآخر، فالقرب مثل سورية، والعراق، والبعد مثل الكويت والمغرب، وجاء عن ابن عباس وعائشة رضي الله عنه ما صوم كل جماعة يوم يصومون، وفطرهم يوم يفطرون. (الفقه الحنفي وأدلته: ۱/۳۸۹، قبول خبر الواحد في روية هلال رمضان، دمشق).

مزید دلائل مسئلہ "اختلافِ مطالع کا حکم" کے تحت ملاحظہ فرمائیں ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.