رؤیتِ ہلال سے متعلق کینیڈا کے بعض مسائل:
Question
خدمتِ اقدس میں عرض ہے کہ کینیڈا میں دنیا کے اطراف و اکناف سے مسلمانوں کی کافی تعداد آ کر آباد ہو گئی ہے ۔ بود و باش بھی مخلوط ہے، مساجد میں مختلف ممالک کے لوگ جمع ہوتے ہیں، مگر رمضان اور عیدین کی تواریخ میں اختلاف ہے ۔ جس کی وجہ سے ایک گھر میں دو دن الگ الگ عید منائی جاتی ہے، اس مسئلہ کو ختم کرنے کے لیے کچھ علماء کرام، کچھ مساجد اور کچھ اسلامی سنٹر نے ایک جماعت قائم کی ہے اور کمیٹی نے تمام دنیا کا ایک ہی مطلع مان کر کچھ اصول و ضوابط تشکیل دیے ہیں، جن میں امت کی سہولت کا راستہ فراہم کرنے کی کو شش کی گئی ہے، اصول و ضوابط حسبِ ذیل تحریر کیے جار ہے ہیں؛
(۱) رؤیتِ ہلال کے ثبوت کے لیے ضروری ہے کہ ۲۹ تاریخ کو چاند دیکھنے کا اہتمام کیا جائے ۔
(۲) ثبوتِ رؤیتِ ہلال کے فیصلہ کی بنیاد عینی شہادت ہو گی ۔
(۳) چاند دیکھنے کی شہادت ان لوگوں سے لی جائے گی جنہوں نے بذاتِ خود چاند دیکھا ہو، مطلع صاف ہونے کی صورت میں کم سے کم دس آدمیوں کا چاند دیکھنا ثبوتِ رؤیتِ ہلال کے لیے کافی مانا جائے گا ۔ مطلع ابر آلود ہونے کی صورت میں دو عادل حضرات کی شہادت پر فیصلہ کیا جائے گا ۔
(٤) ثبوتِ رؤیتِ ہلال کی تفصیلی رپورٹ دنیا کے کسی ملک سے بھی معتبر و معتمد ذرائع سے حاصل کی جائے وہ قابل قبول ہو گی ۔
(۵) جن ملکوں کے مراکز، دینی اداروں اور ہلال کمیٹی سے ہمارا معاہدہ اور باہمی رابطہ ہوگا ان کا اعلان بھی ہمارے لیے قابلِ قبول ہوگا ۔
(٦) ماہرینِ فلکیات نے اپنی معلومات اور حساب کے لحاظ سے جن علاقوں میں ہلال کا نظر آنا ناممکن بتایا ہو اس علاقہ میں اگر کوئی چاند دیکھنے کا دعویٰ کرے اور شہادت دے تو اس کی شہادت قبول نہیں کی جائے گی ۔
(۷) فلکیاتی حساب کے مطابق چاند نظر آنے کے قوی امکان کی صورت میں انتظامات کے لیے عوام کو پہلے سے باخبر کرنے کے لیے اس کو استعمال کیا جائے گا اور اعلان عینی شہادت پر موقوف ہوگا ۔
(۸) یہ رہنما اصول سال کے بارہ مہینوں کے لیے یکساں رہیں گے ۔
دنیا کا ایک ہی مطلع "Global Moon Sighting" اور مندرجہ بالا اصول و ضوابط کے متعلق آنجناب کی گراں قدر رائے سے مطلع فرمائیں ۔ آنجناب سے تصویب یا ترمیم کا مشورہ مطلوب ہے ۔
نیز اس بارے میں بھی ارشاد فرمائیں کہ جو ممالک کینیڈا سے ٦ ۔ ۵ گھنٹے آگے ہیں مثلاً ساؤتھ افریقہ وغیرہ وہاں اگر ان کے غروبِ آفتاب کے بعد چاند کی رؤیت ثابت ہو سکی اور وہاں کے علماء کرام نے فیصلہ کر لیا اور ہ میں اطلاع دی تو کیا ہم اپنے غروبِ آفتاب سے پہلے اس کا اعلان کر سکتے ہیں؟
حضرت والا سے امید ہے کہ جلد جواب سے نوازیں گے ۔ و السلام ۔
Answer
ہم نے فتاوی دار العلوم زکریا میں لکھا ہے کہ بلادِ بعیدہ میں اختلافِ مطالع کا اعتبار ہے، یہ متاخرین کا قول ہے اور اس کے دلائل بھی وہاں نقل کیے گئے ہیں، لیکن دوسرا قول ظاہر الروایہ ہے، اس کو بھی ملکی اتحاد کی خاطر اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں، بلکہ بہتر اور اچھا ہے، جنوبی افریقہ میں یہاں کے علماء نے بے شمار مصالح کے پیش نظر پہلے قول کو ہے، اور آپ حضرات بہت سارے مصالح کی خاطر ظاہر الروایہ کو اختیار کر سکتے ہیں، اور یہ تلفیق نہیں ہے بلکہ دونوں اقوال مذہب میں موجود ہیں ۔
بلادِ قریبہ اور بعیدہ میں ظاہر الروایہ کا خلاصہ یہ ہے کہ دوسرے ملک کی معتبر رؤیت کینیڈا والوں کے لیے حجت ہے، اس پر آپ جیسے اہل علم کے سامنے دلائل لکھنے کی ضرورت نہیں ہیں، کیوں کہ یہ دلائل آپ کے سامنے واضح ہیں، تاہم دو تین دلائل لکھ لیتے ہیں:
وعن شمس الأئمة الحلواني: أنه لا عبرة لاختلاف المطالع، وهو الظاهر. (شرح تحفة الملوك لمحمد بن عبد اللطيف المعروف بابن الملك: ۲/۱۲٦٤).
اس کی تعلیقات میں ہے:
وهو المذهب، وعليه الفتوى كما في أكثر المعتبرات، كذا في مجمع الأنهر. (۱/۲۹۱).
حاشية الطحطاوي على الدر
میں ہے:
فيلزم أهل المشرق برؤية أهل المغرب إذا ثبت عندهم رؤية أولٰئك بطريق موجب كما مر، كذا في الدر، وأطلق المصنف رحمه الله فيشمل ما إذا كان بينها تفاوت بحيث يختلف المطالع أو لا. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۱/٤٤۹).
اس نقطہ نظر کو سامنے رکھتے ہوے دوسرے ممالک کی صحیح مستند اطلاع پر رمضان اور عید کا فیصلہ کر سکتے ہیں ۔ اب نمبر وار مختصر جوابات لکھے جاتے ہیں؛ ۔
(۱) ۲۹ تاریخ کو چاند دیکھنے کا اہتمام ضرور ہونا چاہیے ضرور ہونا چاہیے ۔
(۲) احادیث اور فقہ کی روشنی میں یہ مسئلہ بھی درست ہے کہ ماہِ رمضان اور عید کا فیصلہ عینی شہادت پر ہونا چاہیے پر ہونا چاہیے ۔
(۳) مطلع صاف ہونے کی صورت میں خبر مستفیض ہونا ضروری ہے ۔ اگر ہلال کمیٹی کے ارکان کو دس آدمیوں کی شہادت پر اطمینان ہو جائے اور شہادت خلافِ ظاہر نہ ہو تو ان کی شہادت کو قبول کر کے اعلان کرنا درست ہوگا ۔ امام ابو یوسف رحمه الله نے ۵۰ آدمی فرمایا، خلف بن ایوب نے فرمایا: بلخ میں ۵۰۰ آدمی بھی کم ہیں، لیکن اس میں قاضی کی رائے کا اعتبار ہے ۔
قدر ذلك أبو يوسف رحمه الله بخمسين رجلاً، وقال خلف بن أيوب رحمه الله: خمس مئة ببلخ قليل والأولي أن يفوض إلى راي القاضي. (الفتاوى السراجية، ص۱٦۸).
(٤) اختلافِ مطالع معتبر نہ ہونے پر فتویٰ دے کر دوسرے ممالک کی خبر مستفیض لے سکتے ہیں بشرطیکہ اس ملک کا فیصلہ خلافِ ظاہر نہ ہو ۔ کیوں کہ بعض ممالک میں رؤیت کا اعلان ہونے کے بعد دوسرے دن بھی چاند نظر نہیں آتا ۔ اور کبھی چھ سات گھنٹے کے چاند کی رؤیت کا دعویٰ کیا جاتا ہے ۔
(۵) جن ممالک کے ساتھ آپ کا معاہدہ ہے ان ممالک کی رؤیت بھی قبول کر سکتے ہیں، بشرطیکہ خلافِ ظاہر نہ ہو اور امکانِ رؤیت کے حدود کے اندر ہو ۔
(٦) جہاں ہلال دیکھنا ناممکن ہو وہاں کی خبر رؤیت کو قبول نہیں کرنا چاہیے، الا یہ کہ مطلع صاف ہو اور بہت سارے لوگوں نے واقعی رؤیت کر لی ہو ۔
شرح منظومہ ابن وہبان میں ابن الشحنہ الحلبی فرماتے ہیں:
ولمحقق متأخري الشافعية الشيخ الإمام تقي الدين السبكي رحمه الله في هذه المسألة تصنيف، مال فيه إلى اعتماد قولهم (الموقتين) لأن الحساب قطعي. (شرح منظومة ابن وهبان لا بن الشحنة الحلبي، ص۹۲).
یعنی شیخ تقی الدین سبکی رحمه الله (٦۸۳ ۔ ۷۵٦ ھ) حساب کے قطعی ہونے کے قائل ہیں ۔ اکثر فقہاء منجمین کے اقوال کو تسلیم نہیں کرتے، لیکن آج کل ان کا قول نفی میں ماننا چاہیے جب وہ کہیں کہ رؤیت ممکن نہیں تو رؤیت نہیں ہوتی ۔
(۷) یہ شق بھی بالکل درست ہے، جس دن رؤیت کا زیادہ امکان ہو اس دن رؤیت کا زیادہ اہتمام کرنا چاہیے ۔
(۸) سال کے بارہ مہینوں کی رؤیت کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ شعبان، رمضان اور عیدین کی رؤیت کے اہتمام کی عادت بن جائے، نیز جو ممالک کینیڈا سے ٦ ۔ ۵ گھنٹے مقدم ہیں ان کے غروبِ آفتاب اور چاند کی رؤیت ہو جانے کے بعد آپ آئندہ کل کے لیے رمضان یا عید کا اعلان کر سکتے ہیں ۔ لیکن اگر عید الفطر کا اعلان عصر کے وقت کیا جائے تو اس دن کا روزہ پورا کیا جائے گا ۔
إذا رأوا هلال الفطر في النهار أتموا صوم ذلك اليوم. (الفتاوى السراجية، ص۱٦۹).
یہ فتویٰ ارسال کرنے کے بعد شکاگو ہلال کمیٹی کی طرف سے کچھ اشکالات سامنے آئے جس پر درجِ ذیل چند تجاویز تحریر کی گئیں ۔ مزید فائدہ کی خاطر ملاحظہ کیجیے:
(۱) اگر ہمارے فتوے سے علماء دیوبند اور عوام میں مزید اختلاف پڑتا ہو تو ہم کینیڈا والے علماء کو یہی مشورہ دیں گے کہ اپنے سابقہ طریقہ کار کو جاری رکھیں اور نئے تجربات میں پڑ کر اختلاف کی خلیج کو مزید وسعت نہ دیں ۔
(۲) اگر ہلال کمیٹی کے حدود اتنے وسیع ہیں کہ وہ پورے معتدل شمالی حصے کو شامل ہوں تو شمالی امریکہ کے خطے کی رؤیت کو معیار مان لینا چاہیے ۔
(۳) اگر کینیڈا والے حضرات نے ایک سال سعودیہ کا اس وجہ سے اعتبار کر لیا کہ اس سال رؤیت کا امکان تھا اور دوسرے سال امکان نہ ہونے کی وجہ سے سعودیہ کی بات کو رد کر دیا تو عوام میں علماء کا وقار گر جائے گا، کیوں کہ عوام ان تدقیقات کو نہیں جانتے کہ رؤیت کے امکان ہونے یا نہ ہونے کا کیا مطلب ہے؟ اور کسی اور ملک کو معیار بنائیں تو اس کی اتنی اہمیت نہیں ہو گی کہ خواص و عوام اس پر متفق ہو سکیں اور اگر کسی بھی ملک کی خبر کو مان لیں تو پھر ہر ملک کے متعلق تحقیق مشکل ہو گی کہ وہاں رؤیت کا کیا طریقہ کار ہے اور کیا انتظام ہے؟
(٤) کینیڈا کی کمیٹی کو چاہیے کہ ملک کے اطراف کے ائمہ اور علماء کی اکثریت کی رائے معلوم کریں، اگر وہ اپنے سابقہ طریقہ کار کو مفید سمجھتے ہوں تو اسی پر کار بند رہیں ۔ فقط و السلام ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.