جدید آلات کے ذریعہ رؤیت ہلال کا حکم:

3 min readFatwa Vol 3 #165Urdu
Vol. 3كتاب الصومباب (۱): رؤیتِ ہلال اور اختلافِ مطالع كا بيان

Question

دور بین و خورد بین وغیرہ آلات یا اس کے علاوہ جدید آلات سے چاند دیکھنے کا کیا حکم ہے؟

Answer

دور بین محض ایک نگاہ کو بڑھانے والا آلہ ہے جیسا کہ عینک (چشمہ) اس سے دیکھنے میں کوئی حرج نہیں، نیز جدید آلات کے ذریعہ رؤیت کی حیثیت محض کشف کی ہے یعنی ایسا نہیں ہے کہ ایک چیز وجود میں نہ ہو اور اس کی وجہ سے خواہ مخواہ نظر آنے لگے، لہذا ان جدید آلات سے مدد حاصل کرنے کی گنجائش ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں شامی میں ہے:

قلت:

وفي المبسوط وإنما يرد الإمام شهادته إذا كانت السماء مصحية، وهو من أهل المصر فأما إذا كانت متغيمة أو جاء من خارج المصر أو كان في موضع مرتفع فإنه يقبل عندنا اه. فقوله عندنا يدل على أنه قول أئمتنا الثلاثة وقد جزم به في المحيط وعبر عن مقابله بقيل، ثم قال وجه ظاهر الرواية أن الرؤية تختلف باختلاف صفو الهواء وكدورته وباختلاف انهباط المكان وارتفاعه، فإن هواء الصحراء أصفي من هواء المصر، وقد يري الهلال من أعلي الأماكن مالا يري من الأسفل فلا يكون تفرده بالرؤية خلاف الظاهر بل على موافقة الظاهر، ففيه التصريح بأنه ظاهر الرواية، وهو كذلك لأن المبسوط من كتب ظاهر الرواية أيضاً. (الدر المختار مع الشامي: ۲/۳۸۸، كتاب الصوم، سعيد. وكذا في إمداد الفتاح: ص ٦۷۰، بيروت).

اسلامی فقہ میں ہے:
جب مطلع صاف ہو تو چاند دیکھنے میں کسی تکلیف کی ضرورت نہیں ہے، البتہ اگر مطلع غبار آلود یا بدلی ہو یا ایسا شہر ہو جہاں دس منزلہ اور بیس منزلہ مکان ہی مکان ہوں تو وہاں اگر دور بین سے چاند دیکھنے کی کو شش کی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔ (اسلامی فقہ: ۱/۳۸۲، نئے آلات کے ذریعہ) ۔
ایضاح المسائل میں ہے:
دور بین سے چاند دیکھنے سے رؤیت معتبر ہوتی ہے اسی طرح خورد بین سے دیکھنا بھی صحیح اور معتبر ہے ۔ (ایضاح المسائل: ص ۸۰، کتب خانہ نعیمیہ) ۔
جدید فقہی مسائل میں ہے:
مطلع ابر آلود ہو تو گمان غالب کافی ہے، لہذا ایسی صورت میں دور بین کے ذریعہ رؤیت معتبر ہونی چاہیے ۔ (جدید فقہی مسائل: ۲/۲٤ نعیمیہ) ۔
امداد الفتاوی میں ہے:
دور بین یا خورد بین سے دیکھنے کا کوئی جدا حکم نہیں بلا آلہ دیکھنے کے جو احکام ہیں وہی اس کے بھی ہیں، پس اگر افق پر ابر و غبار ہے تب تو ان کی رؤیت بشرطِ عدم مانع اوروں کے لیے کافی ہے، سب عمل کریں، اور اگر ابر وغیرہ نہیں تو اوروں کو بھی عمل جائز نہیں اور خود ان کو بھی عمل جائز نہیں ۔ (امداد الفتاوی: ۲/۱۱۰، دار العلوم کراچی) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.