اختلافِ مطالع کا حکم:
Question
اختلافِ مطالع کا شرعاً اعتبار ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو اس کی کیا حد ہے؟
Answer
اختلافِ مطالع کا اعتبار شرعاً ہونا چاہیے، اس لیے کہ فقہائے حنفیہ میں سے علامہ زیلعی اور علامہ کاسانی جیسے جلیل القدر فقہاء نے اسی کو ترجیح دی ہے، نیز اکابر دیوبند میں سے بھی بعض حضرات نے اس کو راجح قرار دیا ہے ۔ رہا مسئلہ کہ اس کی کیا حد ہو گی؟ تو اس کے بارے میں حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله کا قول واضح معلوم ہوتا ہے کہ جن بلاد میں اتنا فاصلہ ہو کہ ایک جگہ کی رؤیت کا دوسری جگہ اعتبار کرنے سے مہینہ اٹھائیس دن یا اکتیس دن کا ہو جائے تو وہاں اختلافِ مطالع کا اعتبار کیا جائے گا ۔ اور جہاں ایسا نہ ہو وہاں نہ کرے، نیز اختلاف مطالع کا اعتبار نہ کرنے میں یہ بھی ایک نقص ہے کہ اگر جنوبی افریقہ میں چاند دیکھا جائے تو آسٹریلیا میں فجر کا وقت قریب ہوگا یا بعض ممالک میں فجر ہو چکی ہو گی تو کیا وہ فجر تک چاند کا انتظار کریں گے یا روزہ رکھنے کے بعد اس کو توڑ دیں گے، ہاں پاکستان، انڈیا اور عربی ممالک کا اتحاد رؤیت میں ممکن اور آسان ہے، بلکہ جنوبی افریقہ کو معیار مانا جائے جہاں جنوب مغرب ہونے کی وجہ سے رؤیت کا امکان زیادہ ہے اور رؤیت کا نظام بھی مضبوط ہے تو چاند کا مسئلہ افریقہ اور یورپ اور ہندوستان پاکستان سے لے کر مغرب تک حل ہو سکتا ہے ۔
ملاحظہ ہو بدائع الصنائع میں علامہ کاسانی رحمه الله فرماتے ہیں:
هذا إذا كانت المسافة بين البلدين قريبة لا تختلف فيها المطالع، فأما إذا كانت بعيدة فلا يلزم أحد البلدين حكم الآخر لأن مطالع البلاد عند المسافة الفاحشة تختلف فيعتبر في أهل كل بلد مطالع بلدهم دون البلد الآخر. (بدائع الصنائع: ۲/۸۳، سعيد).
الفقہ الحنفی و ادلتہ میں ہے:
إذا كان بين القطرين قريب بحيث تتحد المطالع فلا يعتبر، وإن كانت بعيدة بحيث تختلف المطالع فيعتبر فلو صام أهل قطر ثلاثين يوماً برؤية، وأهل قطر آخر تسعة وعشرين يوماً برؤية، فعليهم قضاء يوم إن كان بين القطرين قرب بحيث تتحد المطالع، وإن كانت بعيدة بحيث تختلف، لا يلزم أحد القطرين حكم الآخر، فالقرب مثل سورية، والعراق، والبعد مثل الكويت والمغرب، وجاء عن ابن عباس وعائشة رضي الله عنه ما صوم كل جماعة يوم يصومون، وفطرهم يوم يفطرون. (الفقه الحنفي وأدلته: ۱/۳۸۹، قبول خبر الواحد في روية هلال رمضان، دمشق).
علامہ زیلعی فرماتے ہیں:
والأشبه أن يعتبر لأن كل قوم مخاطبون بما عندهم وانفصال الهلال عن شعاع الشمس تختلف باختلاف الأقطار، كما أن دخول الوقت وخروجه تختلف باختلاف الأقطار حتى إذا زالت الشمس في المشرق لا يلزم منه أن تزول في المغرب، وكذا طلوع الفجر وغروب الشمس بل كلما تحركت الشمس درجة فتلك طلوع فجر لقوم وطلوع شمس للآخرين وغروب لبعض ونصف ليل لغيرهم. (تبيين الحقائق: ۱/۳۲۱، إمدادية، ملتان)
فتاوی بینات میں ہے:
اختلافِ مطالع کا مسئلہ متقدمین اور متاخرین میں مختلف فیہ رہا ہے اس میں فقہاء کرام کے تین مسلک ہیں ۔
پہلا مسلک: امام اعظم سے منقول ہے اور ظاہر الروایت کہا جاتا ہے کہ اختلاف مطالع کا کوئی اعتبار نہیں ( لیکن پوری دنیا پر اس کو لاگو کرنے میں بہت مشکلات ہیں)
دوسرا مسلک: یہ ہے کہ ہر جگہ ہر حال میں اختلافِ مطالع کا اعتبار کیا جائے گا ۔
تیسرا مسلک: یہ ہے کہ بلادِ قریبہ میں تو اختلافِ مطالع کا اعتبار نہیں، البتہ بلادِ بعیدہ میں اس کا اعتبار ہے ۔ (جس کا مدار عرف ہونا چاہیے اور اکثر بلاد شمالیہ اور جنوبیہ میں اختلافِ مطالع ہوتا ہے، جنوب میں چاند نظر آتا ہے اور شمال میں نظر نہیں آتا) اس قول کو علامہ زیلعی اور صاحب بدائع نے ترجیح دی ہے ۔ (فتاوی بینات: ۳/۵۸، اختلاف مطالع کا حکم، مکتبہ بینات کراچی)
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ "رؤیتِ ہلال" میں تحریر فرماتے ہیں:
ہمارے استاذ محترم حضرت سید محمد انور شاہ کشمیری رحمه الله بھی اسی کی ترجیح کے قائل تھے، اور استاذ محترم حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی رحمه الله نے فتح الملہم شرح مسلم میں اسی قول کی ترجیح کے لیے ایک ایسی چیز کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اس پر نظر کرنے کے بعد اس قول کی ترجیح واضح ہو جاتی ہے، خصوصاً اس زمانہ میں جب کہ مشرق و مغرب کے فاصلے چند گھنٹوں میں طے ہو رہے ہیں، وہ یہ ہے کہ قرآن و سنت میں یہ بات منصوص و قطعی ہے کہ کوئی مہینہ انتیس دن سے کم اور تیس دن سے زائد نہیں ہوتا، بلادِ بعیدہ اور مشرق و مغرب کے فاصلوں میں اگر اختلافِ مطالع نظر انداز کر دیا جائے تو اس نص قطعی کے خلاف یہ لازم آئے گا کہ کسی شہر میں اٹھائیس کو بعید ملک میں اس کی شہادت پہنچ جائے کہ آج وہاں چاند دیکھ لیا گیا ہے تو اگر اس شہر کو دوسرے کے تابع کیا جائے تو اس کا مہینہ اٹھائیس کا رہ جائے گا، جو شریعت کے مقرر کردہ حساب سے کم یا زیادہ بن جاتا ہے جو صحیح نہیں، حضرت علامہ عثمانی رحمه الله کی اس تحقیق سے اس کا بھی فیصلہ ہو گیا کہ بلادِ قریبہ اور بلادِ بعیدہ میں قرب و بعد کا معیار کیا اور کتنی مسافت ہو گی؟ وہ یہ ہے کہ جن بلاد میں اتنا فاصلہ ہو کہ ایک جگہ کی رؤیت کا دوسری جگہ اعتبار کرنے کے نتیجے میں مہینہ کے دن اٹھائیس رہ جائیں یا اکتیس ہو جائیں، وہاں اختلافِ مطالع کا اعتبار کیا جائے گا، اور جہاں اتنا فاصلہ نہ ہو وہاں نظر انداز کر دیا جائے ۔ (ملخص از رؤیتِ ہلال: ص ۵۸ ۔ ۵۹، دار المعارف، کراچی) ۔
مفتی عبد المنعم صاحب فرماتے ہیں:
اکابر علماء دیوبند میں سے مولانا انور شاہ کشمیری رحمه الله، مولانا شبیر احمد عثمانی رحمه الله، مولانا مفتی محمد شفیع رحمه الله، مولانا یوسف بنوری رحمه الله، وغیرہ اختلافِ مطالع کو معتبر مانتے ہیں، اور مفتی محمد فرید صاحب بھی اسی قول کو ترجیح دیتے ہیں ۔ (اعدل الاقوال فی مسئلۃ الہلال: ص ۷۲) ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں: جدید فقہی مسائل: ۲/۲۷ ۔ ۳٤، نعیمیہ ۔ و منہاج السنن: ٤/۱۳ ۔ ۱۵ ۔ و رؤیت ہلال: ۵۸ ۔ ۵۹ ۔ و فتاوی بینات: ۳/۵۸ ۔ ٦۳ ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.