مذہبِ احناف میں اختلافِ مطالع کے بارے میں ظاہر الروایہ کی تحقیق:
Question
عام طور پر کتبِ فقہ میں اختلافِ مطالع کے بارے میں یہ منقول ہے کہ ظاہر الروایہ کے مطابق اختلافِ مطالع معتبر نہیں ہے یعنی مشرق کی رؤیت مغرب میں صحیح ذرائع اور اپنے قواعد سے پہنچ جائے تو اس پر عمل لازم ہوگا، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذہبِ احناف میں اس کے ظاہر الروایہ ہونے کی کیا دلیل ہے؟ کیا امام محمد رحمه الله کی کتبِ ستہ میں یہ روایت منقول ہے؟ اگر منقول ہو تو مدلل بیان کریں؟ بینوا بالبرہان توجروا عند الرحمن،
Answer
مراجعتِ کتبِ فقہ سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام محمد رحمه الله کی کتبِ ستہ میں یہ مسئلہ مذکور نہیں ہے، نیز دیگر کتب جو ظاہر الروایہ کی ترجمان ہیں، ان میں بھی اِس مسئلہ کی نسبت ظاہر الروایہ کی طرف نہیں کی گئی، بلکہ ہمارے ناقص علم کے مطابق سب سے پہلے یہ بات امام قاضی خان رحمه الله اور علامہ طاہر بن عبد الرشید بخاری رحمه الله صاحب خلاصۃ الفتاوی، ان دونوں حضرات نے اپنے فتاوی میں فرمائی: "
لا عبرة لاختلاف المطالع في ظاهر الرواية "
یعنی ظاہر الروایہ کے اعتبار سے اختلافِ مطالع غیر معتبر ہے، جب کہ اِن حضرات سے پہلے فقہائے متقدمین میں سے کسی نے اس مسئلہ کو ظاہر الروایہ کہہ کر تحریر کیا ہو ہم نے نہیں دیکھا ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ظاہر الروایہ کی طرف اس کی نسبت مشکوک ہے ۔
مفتی محمد عبد المالک صاحب نے اِس مسئلہ میں ایک مقالہ لکھا ہے جس کی تلخیص درجِ ذیل ہے:
" لا عبرة لاختلاف المطالع "
کی عبارت یا اس طرح ہم معنی کوئی جملہ کتب ظاہر الروایہ میں منقول ہو ہم نے نہیں دیکھا، اور اس کے چند قرائن پیش خدمت ہیں:
۱ ۔ ظاہر الروایہ کے مسائل بیان کرنے والی مشہور کتب میں اس قسم کا جملہ یا اس کے ہم معنی ہمیں نہیں ملا:
مشہور چند کتب یہ ہیں: ۱ ۔ مختصر الحاکم الشہید (الکافی) ۔ ۲ ۔ المبسوط للامام السرخسی رحمه الله ۔ ۳ ۔ المحیط البرہانی ۔ ٤ ۔ المحیط الرضوی ۔ ۵ ۔ خزانۃ الاکمل ۔
۲ ۔ متقدمین کے اہم متون اور اہم مختصرات اس کے تذکرہ سے خالی ہیں ۔ مثلاً: ۱ ۔ مختصر الطحاوی ۔ ۲ ۔ مختصر الکرخی ۔ ۳ ۔ مختصر القدوری ۔ ٤ ۔ تحفۃ الفقہاء ۔ ٦ ۔ بدایۃ المبتدی وغیرہ کتبِ فقہ ۔ اور امام قاضی خان کے بعد والے متونِ معتبرہ مثلاً: وقایہ، نقایہ؛ ان میں بھی نہیں ملا ۔
۳ ۔ علامہ قوام الدین امیر کاتب الاتقانی (م ۷۵۸ ھ) کی ہدایہ کی شرح
" غاية البيان ونادرة الأقران "
کی عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ
"لا عبرة لاختلاف المطالع "
مذہبِ احناف کی ظاہر الروایہ نہیں ہے ۔ عبارت ملاحظہ ہو :
ثم المعتبر في كل قوم مطالع بلادهم، لا بلاد غيرهم، فإن البلاد تختلف أقاليمها في الارتفاع والانخفاض فربما يرى في بعضها ولم ير في بعض. وقيل: لا اعتبار لاختلاف المطالع، حتى لو رأى أهل المغرب هلال رمضان يجب برؤيتهم على أهل المشرق، وعليه فتوى الفقيه أبي الليث رحمه الله، ولا نأخذه، لما روى الترمذي في جامعه، وقال: حدثنا علي بن حجر
[فذكر حديث كريب عن ابن عباس رضي الله عنه كما هو في جامع الترمذي في كتاب الصوم (باب لأهل كل بلد رؤيتهم)، وفي آخره: ] قال أبو عيسى: حديث ابن عباس رضي الله عنه حديث حسن صحيح غريب، قال: والعمل على هذا الحديث عند أهل العلم أن لكل أهل بلد رؤيتهم. (غاية البيان ونادرة الأقران شرح الهداية، مخطوطه مكتبة شيخ الإسلام فيض الله آفندي، استمبول).
٤ ۔ علامہ ابو العباس السروجی (م ۷۱۰ ھ) کی عبارت سے پتا چلتا ہے کہ
" لا عبرة لاختلاف المطالع "
مذہب کی ظاہر الروایہ نہیں ۔ عبارت ملاحظہ ہو :
هذا إذا كان بين البلدين تقارب بحيث لا تختلف المطالع، فإن كان تختلف لا يلتزم أحداً من أهل البلدين حكم الآخر، هكذا ذكره في المحيط والذخيرة عن القدوري، والواقعات، ومنية المفتي والتجريد وشرحه للكردري، والبدائع وعمدة القاري
[ثم نقل كلام الحلواني وقاضيخان من الحنفية، وكلام ابن عبد البر المالكي، والنووي الشافعي والقرافي المالكي، ورجح القول باعتبار اختلاف المطالع، وقال: ] وتؤكدها أنه لم ينقل عن عمر رضي الله عنه، ولا عن غيره من الخلفاء أنهم كانوا يبعثون البرد، [ويكتبون] إلى الأقطار، بأنا قد رأيناه فصوموا، بل كانوا يتركون [الناس] على مراقبهم، فيصير هذا كالمجمع عليه، [و ذكر أيضاً حديث كريب رضي الله عنه ]. (
الغایۃ فی شرح الہدایۃ، جس کا ایک مخطوطہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے مرکزی کتب خانہ میں موجود ہے) ۔
یہ دونوں ہدایہ کی معتبر شروحات سمجھی جاتی ہیں ان میں بھی اختلافِ مطالع معتبر مانا گیا ہے ۔ اگر ظاہر الروایہ اس کے خلاف ہوتی تو ان حضرات پر کیسے مخفی رہتا ؟ اس لیے بھی یہ نسبت مشکوک ہے ۔
امام قاضی خان رحمه الله (م ۵۹۲ ھ) کی عبارت کا جائزہ:
امام قاضی خان رحمه الله کی عبارت کو اساس بنا کر بعد والے اصحابِ متون، شروح اور فتاوی سب نے نقل کر کے اسی کو مذہب کی ظاہر الروایہ تسلیم کر لیا، چنانچہ مختار، کنز، ملتقی وغیرہ میں منقول ہے ۔
امام قاضی خان کی عبارت ملاحظہ ہو :
قال قاضي خان رحمه الله في فتاواه: عن محمد رحمه الله في النوادر: إذا صام أهل مصر شهر رمضان على غير رؤية ثمانية وعشرين ثم رأوا هلال شوال قالوا: إن كان عدوا شعبان لرؤية ثلاثين يوماً وغم عليهم هلال رمضان قضوا يوماً واحداً وإن صاموا تسعة وعشرين يوماً ثم رأوا هلال شوال فلا قضاء عليهم لأنهم قد أكملوا الشهر ولو صام أهل بلدة ثلاثين يوماً للرؤية وأهل بلدة أخرى تسعة وعشرين يوماً للرؤية فعلم من صام تسعة وعشرين يوماً فعليهم قضاء يوم ولا عبرة لاختلاف المطالع في ظاهر الرواية، وكذا ذكر شمس الأئمة الحلواني رحمه الله وقال بعضهم يعتبر اختلاف المطالع. (فتاوى قاضيخان بهامش الفتاوى الهندية: ۱/۱۹۷، ۱۹۸، الفصل الأول من كتاب الصوم).
مذکورہ عبارت سے معلوم ہوا کہ یہ مسئلہ امام محمد رحمه الله کی روایتِ نوادر کاہے ۔ امام محمد رحمه الله سے بہ طریق ظاہر الروایہ مروی نہیں ہے ۔ نیز بعد والوں نے اسی روایت پر اعتماد کیا ہے، لہٰذا
لا عبرة لاختلاف المطالع في ظاهر الرواية
یہ مذہب احناف میں ظاہر الروایہ نہیں ہے ۔
دوسری بات یہ ہے کہ یہ مسئلہ حاکم شہید کی المنتقی کاہے اور کشف الظنون میں حاجی خلیفہ صاحب رحمه الله نے لکھا ہے کہ اس میں مذہب کے نوادرات کو جمع کیا ہے ۔
قال: وفيه نوادر من المذهب ولا يوجد المنتقى في هذه الأعصار كذا قال بعض العلماء، وقال الحاكم: نظرت في ثلاث مائة جزء مؤلف مثل الأمالي والنوادر حتى انتقيت كتاب المنتقى. (كشف الظنون: ۲/۱۸۵۱).
صاحب بحر علامہ ابن نجیم مصری رحمه الله نے ایک مسئلہ کے تحت منتقی کی روایت کو ضعیف کہا ہے،
قال وهو ضعيف لأنه رواية المنتقى ولمخالفته الأصل. (البحر الرائق: ۳/۱٦۱، و ۲/٦۱، دار المعرفة).
اس کے علاوہ دیگر کتبِ فقہ مثلاً: عیون المسائل، خزانۃ الاکمل، المحیط الرضوی اور احکام القرآن للجصاص سب میں یہ مسئلہ بہ روایتِ نوادر منقول ہوا ہے ۔ معلوم ہوا کہ امام قاضی خان کی بات مشکوک ہے ۔ یا مؤول ہے ۔ یا نقل ظاہر الروایہ میں ان کو تسامح ہوا ہے ۔
مزید براں امام قاضی خان رحمه الله نے ظاہر الروایہ کی تائید میں شمس الائمہ الحلوانی رحمه الله کا قول پیش کیا اور صاحب خلاصہ علامہ طاہر بن عبد الرشید البخاری رحمه الله (م ۵٤۲ ھ) نے فقیہ ابو اللیث اور شمس الائمہ الحلوانی کا فتوی پیش کیا، ملاحظہ ہو (۱/۲٤۹) جب کہ ظاہر الروایہ مشہور و معروف ہوتی ہے کسی کے قول و فتوے سے تائید کی ضرورت نہیں ہوتی ۔
امام قاضی خان رحمہ اللہ (م ۵۹۲ ھ) سے پہلے کے فقہاء کی عبارات اور ان کے فتاوی:
امام قاضی خان رحمه الله سے پہلے کے فقہاء نے اختلافِ مطالع کا اعتبار کیا ہے، چنانچہ اکثر فقہاء نے لکھا ہے کہ جہاں مطالع مختلف ہوتے ہوں وہاں ایک شہر کی رویت دوسرے شہر پر لازم نہیں، بلکہ اپنی اپنی رویت کا اعتبار ہوگا ۔ فقہاء کرام میں سے چند حضرات کے اسماء حسبِ ذیل ملاحظہ فرمائیں: ۔
۱ ۔ امام ابو الحسن القدوری (م ٤۲۸ ھ) نے شرح مختصر الکرخی (مخطوطہ مکتبہ فیض اللہ و مصورہ ام القری) میں لکھا ہے نیز المحیط البرہانی (۳/۳٤۱) اور الفتاوی التاتارخانیہ (۳/۳٦۵) میں بھی منقول ہے ۔
۲ ۔ امام حسام الدین الصدر الشہید (۵۳٦ ھ) کی عبارت ان کے فتاوی "الفتاوی الحسامیہ" سے "الاختیار لتعلیل المختار "(۱/٤۰۵) میں منقول ہے ۔
۳ ۔ امام نجم الدین یوسف بن احمد الخاصی (تلمیذ الصدر الشہید) نے " الفتاوی الکبری "میں اپنے استاذ سے نقل کیا ہے ۔
٤ ۔ امام عبد الرشید الولوالجی رحمه الله (۵٤۰ ھ کے بعد ) نے " الفتاوی الولوالجیۃ" (۱/۲۳٦، ط: بیروت) میں لکھا ہے ۔
۵ ۔ امام رضی الدین السرخسی رحمه الله (م ۵٤٤ ھ) نے اپنی کتاب محیط سرخسی (ص ۱۹۱) میں بحوالہ نوادرِ ہشام مسئلہ نقل کر کے بطورِ نوٹ اس پر یہ لکھا ہے:
وإن كان بينهما مسافة مزيدة بحيث يختلف فيها المطالع لم يلزم أحدهما حكم الآخر.
٦ ۔ امام جمال الدین الیزدی المطہر بن حسین رحمه الله سے ان کے شاگرد خاص امام محمد بن عبد الرشید رکن الدین الکرمانی (۵٦۵ ھ) نے اپنی کتاب "جواہر الفتاوی "میں نقل کیا ہے ۔
۷ ۔ امام علاء عالم ابو الفتح الاسمندی رحمه الله (۵۵۲ ھ) کی عبارت بحوالہ شرح عیون المسائل (۱/۵۲، باب الصوم)، التجنیس و المزید کے حاشیہ میں محشی نے نقل کی ہے، ملاحظہ ہو : (حاشیۃ التجنیس و المزید : ۲/٤۲۳، رقم الحاشیۃ ٦) ۔
۸ ۔ امام رکن الدین ابو الفضل عبدالرحمن بن محمد الکرمانی رحمه الله (۵٤۳ ھ) نے اپنی کتاب "التجرید الرکنی فی الفروع "میں لکھا ہے:
و لو صام أهل مصر ثلاثين يوماً للرؤية، وصام أهل بلد تسعة وعشرين يوماً للرؤية فعلى هؤلاء قضاء يوم واحد، وهذا إذا كان بين البلدين تقارب لا تختلف المطالع، فإن كان يختلف لم يلزم أحد البلدين حكم الآخر. (التجريد، ص ۳٤۰، محقق نسخه، جامعه ام القري)،
یاد رہے کہ ملا علی قاری رحمه الله نے شرح اللباب میں علامہ کرمانی رحمه الله کی طرف اختلافِ مطالع کے معتبر نہ ہونے کی نسبت کی ہے، جو قابل اعتراض ہے ۔
۹ ۔ علامہ ابوبکر الکاسانی رحمه الله (۵۸۷ ھ) نے بدائع الصنائع (۲/۸۳، سعید) میں اختلافِ مطالع کو معتبر تسلیم کیا ہے ۔ عبارت ملاحظہ ہو :
فأما إذا كانت بعيدة فلا يلزم أحد البلدين الآخر لأن مطالع البلاد عند المسافة الفاحشة تختلف فيعتبر في أهل كل بلد مطالع بلدهم دون الآخر. (بدائع الصنائع: ۲/۸۳، سعيد).
۱۰ ۔ صاحب ہدایہ امام علی بن ابی بکر ابو الحسن المرغینانی (۵۹۳ ھ) نے التجنیس و المزید میں دو مقامات پر یہ مسئلہ بیان کیا ہے ۔ ملاحظہ ہو : (۲/٤۲۳، و ٤۳۲)، و مختارات النوازل: ۱/٤۵۷) ۔
علاوہ ازیں دیگر فقہاء کرام رحمه الله نے بھی بلادِ بعیدہ میں اختلافِ مطالع کو معتبر قرار دیا ہے ۔
چند حضرات کے اسماء درجِ ذیل ہیں:
۱۱ ۔ امام ابو عبد اللہ الفقیہ الجرجانی (۳۹۸ ھ) امام قدوری رحمه الله کے استاذ اور امام ابوبکر جصاص رازی رحمه الله کے شاگرد ہیں، ان کے بارے میں شاہ صاحب رحمه الله نے العرف الشذی (۱/۱٤۹، بہامش الترمذی) میں لکھا ہے کہ جرجانی کا مذہب بھی وہی ہے جو زیلعی شارح کنز کاہے ۔
وقال الزيلعي شارح الكنز: إن عدم عبرة اختلاف المطالع إنما هو في البلاد المتقاربة لا البلاد النائية، وقال كذلك في تجريد القدوري، وقال به الجرجاني.
البتہ اس عبارت میں تجرید کی نسبت قدوری کی طرف کرنے میں تسامح ہے، یہ بات پہلے مذکور ہوئی کہ اختلافِ مطالع کے مسئلہ میں "التجرید الرکنی" مراد ہے کیوں کہ تجرید القدوری میں یہ مسئلہ نہیں ہے ۔ واللہ اعلم ۔
۱۲ ۔ شمس الائمہ محمود الاوزجندی رحمه الله (جد قاضی خان رحمه الله) ۔ ان کے حوالہ سے یہ مسئلہ فقہ کی چند کتابوں میں مذکور ہیں؛ مثلاً: البحر الرائق (٤/۳۹۸، باب الیمین فی الضرب و القتل، دار المعرفۃ)، و خلاصۃ الفتاوی (۲/۱۷۳)، و المحیط البرہانی (٦/۲۹۳)، و الفتاوی التاتارخانیہ (٦/۲۳۸)، و الفتاوی الہندیۃ (۲/۱۳۸) ۔
۱۳ ۔ شیخ مجد الشریعہ سلیمان بن حسن الکرمانی قاضی محمد رحمه الله ۔ جواہر الفتاوی کی کتاب الصوم کے الباب الخامس میں عبارت موجود ہے، اس کا آخری حصہ یہ ہے:
وإن كان بين البلدتين مسافة يختلف المطالع في حقهم فلا يلزم واحداً حكم الآخر.
جواہر الفتاوی کے الباب الخامس میں صرف شیخ مجد الشریعہ کے فتاوی منقول ہیں ۔
۱٤ ۔ صاحب جواہر الفتاوی علامہ رکن الدین محمد بن عبد الرشید الکرمانی رحمه الله ۔ علامہ نے جواہر الفتاوی کی کتاب الصوم میں مختلف فقہاء کے فتاوی کے لیے مختلف ابواب قائم فرمائے ہیں ؛ پانچواں باب، مجد الشریعہ کے فتاوی کے لیے خاص ہے، بابِ ثالث شیخ عطاء بن حمزہ کے فتاوی کے لیے خاص ہے اور بابِ ثانی شیخ جمال الدین یزدی رحمه الله کے فتاوی کے لیے خاص ہے ۔ اس باب میں علامہ رقم طراز ہیں:
لو صام أهل بلدة تسعة وعشرين يوماً وأهل بلدة ثلاثين، إن كان يختلف المطالع لا يلزم إحدىهما حكم الآخر، وإن كان لا يختلف المطالع يلزم، قال شيخنا وسيدنا جمال الدين: لم يذكروا في ذلك حداً، بل أطلقوا، وأنا أقول: يجوز أن يعتبر فيه ما يعتبر في الغيبة المنقطعة في حق الولي، قلت له: تحديدك في الغيبة المنقطعة لا يوجب الزيادة في البيان فإنهم اختلفوا فيها. قال: ما لا يصل القوافل في السنة غالباً إلا مرة، وأقله مسيرة شهر ألا يرى إلى قصة سليمان بن داود عليهما السلام: ﴿ولسليمان الريح غدوها شهر ورواحها شهر﴾، وكان انتقاله من إقليم إلى إقليم، وقدره بشهر، فعرف أن بين الإقليمين لا يكون أقل من شهر، ولا يمكن الاعتماد على ما يقول المنجمة من زيادة الدرجة في العرض والطول فلا يعتبر.
۱۵ ۔ علامہ سراج الدین علی بن عثمان الاوشی صاحب فتاوی سراجیہ (م ۵٦۹ ھ) لکھتے ہیں:
أهل بلدة صاموا للرؤية ثلاثين يوماً، وأهل بلدة أخرى تسعة وعشرين يوماً للرؤية فعلى هؤلاء قضاء يوم إلا إذا كان بين البلدتين تباين بحيث تختلف المطالع. (الفتاوى السراجية، ۱٦۹، ط: زمزم).
مذکورہ بالا فقہاء کرام، امام قاضی خان رحمه الله سے پہلے کے ہیں یا ان کے ہم عصر ہیں، سب کے نزدیک اختلافِ مطالع معتبر ہے، اِن میں سے کسی ایک بھی فقیہ نے
لا عبرة لاختلاف المطالع
کو ظاہر الروایہ نہیں کہا ۔
نیز امام قاضی خان رحمه الله کے بعد کے فقہاء نے بھی تیقظ اور بیدار مغزی سے کام لیا اور حقیقت کو واضح کیا ۔
چنانچہ چند فقہاء کی عبارات حسبِ ذیل ملاحظہ کیجیے:
۱٦ ۔ علامہ برہان الدین محمود البخاری صاحب محیط برہانی (م ٦۱٦ ھ) نے
اختلف المشايخ فيه
کہہ کر چند اقوال نقل فرمائے ہیں لیکن قاضی خان رحمه الله کی عبارت سے متاثر نہیں ہوے ۔
۱۷ ۔ علامہ ظہیر الدین ابوبکر محمد بن احمد القاضی المحتسب ببخاری (٦۱۹ ھ)، الفوائد الظہیریہ کے حوالے سے بحر اور فتاوی تاتارخانیہ میں ان کا قول مرقوم ہے ۔
۱۸ ۔ علامہ زین الدین محمد بن ابی بکر الرازی (٦٦٦ ھ) تحفۃ الملوک میں لکھتے ہیں:
ولا يلزم أحد المصرين رؤية المصر الآخر إلا إذا اتحدت المطالع. (تحفة الملوك، ص ۱۳۸، ط: دار البشائر الإسلامية).
۱۹ ۔ علامہ فخر الدین زیلعی رحمه الله نے تبیین الحقائق میں اختلافِ مطالع معتبر مانا ہے ۔
۲۰ ۔ شیخ ابراہیم بن عبدالرحمن القاہری (م ۹۲۲ ھ) نے فیض المولی الکریم میں اختلافِ مطالع معتبر مانا ہے ؛ چنانچہ ان کی عبارت ملاحظہ ہو :
والصحيح اعتبار اختلاف المطالع.
علامہ شامی رحمه الله بھی ان کی طرف نسبت کرتے ہوے فرماتے ہیں:
واعتمده الزيلعي وصاحب الفيض. (فتاوى الشامي: ۲/۳۹۳، سعيد).
نیز انہوں نے راجح اقوال کا اہتمام کیا ہے، اور مقدمہ میں اس کی تصریح کی ہے؛ ملاحظہ ہو :
قال: ووضعت في كتابي هذا ما هو الراجح والمعتمد، ليقطع بصحة ما يوجد فيه ومنه يستمد.
(كذا ذكر في لآلي المحار في تخريج مصادر ابن عابدين: ۲/٤۷۳، ط: دار الفتح للدراسات والنشر).
۲۱ ۔ شاہ ولی اللہ محدثِ دہلوی رحمه الله (۱۱۷٦ ھ)، ملاحظہ ہو : (المصفی شرح مؤطا، فارسی: ۱/۲۳۷) ۔
۲۲ ۔ علامہ شاہ صاحب کشمیری رحمه الله (۱۳۵۲ ھ)، ملاحظہ ہو : (العرف الشذی: ۲/۲۱۷) ۔
۲۳ ۔ مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله ۔ ملاحظہ ہو : (جواہر الفقہ، و امداد المفتین) ۔
۲٤ ۔ علامہ محمد یوسف بنوری رحمه الله (۱۳۹۷ ھ)، ملاحظہ ہو : (معارف السنن) ۔
ان مذکورہ بالا فقہاء کرام اور اکابر نے اختلافِ مطالع کو معتبر مانا ہے اور
لا عبرة لاختلاف المطالع في ظاهر الرواية
سے کوئی تعرض نہیں کیا، معلوم ہوا کہ یہ ظاہر الروایہ نہیں ورنہ اِن تمام اساطینِ علوم پر کیسے مخفی رہتی ۔
بعض اصحابِ متون، شراح و فتاوی نے امام قاضی خان رحمه الله اور صاحب خلاصہ پر اعتماد کر کے اس کو ظاہر الروایہ فرمایا لیکن تحقیق نہیں فرمائی، چنانچہ ان حضرات کی نسبت ظاہر الروایہ کی طرف مشکوک ہو جاتی ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.