متولی کو منتخب کرنے کا طریقہ:
Question
متولی حضرات کو کیسے چنا جائے؟
Answer
متولی کے انتخاب اور چناؤ کے لیے مسجد کے خواص سے ان کی رائے معلوم کر لی جائے اور جن لوگوں پر اکثر کا اتفاق ہو ان کو متولی بنا دیا جائے ۔ کیونکہ شرعاً اگر چہ عوام کی کثرتِ رائے کا اعتبار نہیں ہے لیکن خواص اور اہل رائے کی کثرتِ رائے کے معتبر ہونے پر قرآن و حدیث سے ثبوت اور علمائے امت کے ارشادات موجود ہیں ملاحظہ ہو:
آیت
﴿مَا يَكُونُ مِن نَّجْوَىٰ ثَلَاثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ﴾ الآية
سے علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ تعالی نے اپنی تفسیر میں کثرتِ رائے کے معتبر ہونے پر استدلال کیا ہے علامہ عثمانی رحمہ اللہ تعالی اپنی تفسیر میں رقم طراز ہیں ۔
"مشورہ میں اگر صرف دو شخص ہوں تو بصورت اختلاف ترجیح دشوار ہوتی ہے ۔ اس لیے عموماً معاملاتِ مہمہ میں طاق عدد رکھتے ہیں اور ایک کے بعد پہلا طاق عدد تین تھا پھر پانچ الخ ۔" (تفسیر عثمانی: ص ۷۲۰)
یہی مضمون بعینہٖ تفسیر مظہری (ج ۹ ص ۲۲۱) پر بھی ملاحظہ کیا جا سکتا ہے ۔ نیز حدیثِ پاک سے بھی اکثریت
کے حق میں ترجیحی دلائل ملتے ہیں ۔ ابن ماجہ میں ہے ۔
"عن أنس بن مالك رضي الله عنه يقول سمعت رسول الله ﷺ يقول إن أمتي لا تجتمع على ضلالة فإذا رأيتم اختلافاً فعليكم بالسواد الأعظم."
ابن ماجہ کے حاشیہ میں انجاح الحاجہ میں مذکور ہے ۔
"قوله السواد الأعظم أي جملة الناس ومعظمهم الذين يجتمعون على طاعة السلطان وسلوك النهج المستقيم." (ابن ماجه مع حاشية انجاح الحاجة: ص ۲۸۳)
مشکوٰۃ شریف میں ہے:
"وعنه (أي ابن عمر رضي الله عنه ما) قال رسول الله ﷺ اتبعوا السواد الأعظم فانّه من شذ شذّ في النار." (مشكوة: ص ۳۰)
بحوالۂ مرقاۃ حاشیہ مشکوٰۃ میں مذکور ہے:
"قوله اتبعوا السواد الأعظم يعبر به عن الجماعة الكثيرة والمراد ما عليه أكثر المسلمين." (حاشية مشكوة بحواله مرقاة: ص ۳۰)
اور فقہ میں بھی اکثریت کا اعتبار کیا گیا ہے ۔ جیسا کہ ایک قاعدہ کلیہ مشہور ہے:
"ولابي حنيفة إن الأكثر يقوم مقام الكل في كثير من الأحكام.". هداية: ٤/٤۳۷).
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.