مسجد کی ذاتی ملک اور قانون شخصی کا حکم:

11 min readFatwa Vol 4 #352Urdu
Vol. 4كتاب الوقفباب (۲) ما يتعلق بالمساجد

Question

کیا مساجد اور مدارس مالک بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں، یا نہیں؟ یعنی اگر کسی نے مسجد کو قالین وغیرہ دے دی اور وقف نہیں کی یا مدرسہ میں کتابیں وغیرہ بھیج دیں اور وقف نہیں کیں، تو یہ اشیاء وقف ہیں یا مدرسہ کی ذاتی ملک ہیں، اسی طرح چرمِ قربانی اگر کسی مسجد یا مدرسہ کو دے دی تو مسجد یا مدرسہ اس کے مالک بنے یا نہیں؟ اگر چرمِ قربانی کی قیمت اساتذہ کی تنخواہوں میں خرچ کرنا چاہیں تو خرچ کر سکتے ہیں یا نہیں؟

Answer

مساجد اور مدارس ذاتی ملک اور قانون شخصی کی حیثیت رکھتے ہیں، لہذا اگر کسی نے کوئی چیز مسجد یا مدرسہ کو دے دی اور وقف نہیں کی تو مسجد یا مدرسہ اس چیز کا مالک بن گیا اور متولی کو اس چیز میں تصرف کرنے کا حق حاصل ہو گیا، بایں وجہ چرمِ قربانی بھی اگر کوئی شخص مسجد یا مدرسہ کو دے دے تو مسجد یا مدرسہ اس کا مالک بن جائے گا، اور اس کو بیچ کر اس کی قیمت اساتذہ کی تنخواہوں میں صرف کی جا سکتی ہے ۔
اس مسئلہ کو باصطلاحِ فقہاء قانون شخصی سے موسوم کیا جاتا ہے، اور اس کی واضح اور بے غبار نظیر بیت المال کا نظام ہے، کہ بیت المال میں موقوفہ اموال نہیں ہوتے بلکہ بیت المال کی ذاتی ملک ہوتے ہیں اس سے لینا دینا ہوتا ہے، لہذا مساجد و مدارس بھی بیت المال کے حکم میں ہونے کی وجہ سے ذاتی ملک کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ ورنہ جن لوگوں نے مساجد و مدارس کو اپنے اموال دیے ہیں جو موقوفہ نہیں ہیں، وہ اموال دہندگان کے انتقال کے بعد ان کی میراث میں تقسیم ہونا چاہیے ہونا چاہیے، حالانکہ ان میں میراث جاری نہیں ہوتی ۔
نیز یہ بات بھی ملحوظِ نظر رہے کہ وقف کے لیے خاص الفاظ ہیں ان کے بغیر وقف نہیں ہوتا ۔
ملاحظہ ہو طحطاوی میں ہے:

قوله وركنه الألفاظ الخاصة قال في الشرح الملتقي ناقلاً عن القهستاني: إنما قيد بالقول لأنه لو كتب صورة القضية مع الشرائط بلا تلفظ لم يصر وقفاً بالاتفاق ثم قال: إنه لم يصر وقفاً عند الطرفين إلا إذا كتب بيده وقال للشهود أشهدوا بمضمونه فإنه إقرار بأني وقفت كما ذكرت فيه أو كلاماً نحوه فحينئذٍ يصير وقفاً. (كذا في حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۲/۵۲۹).

مساجد اور مدارس کی ملکیت کے دلائل ملاحظہ فرمائیں:
اعلاء السنن میں ہے:

عن عائشة رضي الله تعالى عنها، قالت: سمعت رسول الله ﷺ يقول: لولا أن قومك حديثو عهد بجاهلية أو قال: بكفر لا نفقت كنز الكعبة في سبيل الله ولجعلت بابها بالأرض، ولأدخلت فيها من الحجر. (رواه مسلم، نيل الاوطار: ۵/۲۷٤).

حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی رحمه الله فرماتے ہیں:

التمليك للمسجد صحيح: ــ قلت: وفي الحديث دليل لما قاله علماؤنا من أن التمليك للمسجد صحيح ففي الهندية: رجل أعطي درهماً في عمارة المسجد أو نفقة المسجد، أو مصالح المسجد صح، لأنه إن كان لا يمكن تصحيحه وقفاً يمكن تصحيحه تمليكاً بالهبة للمسجد وإثبات الملك للمسجد على هذا الوجه صحيح، فيتم بالقبض كذا في الواقعات، وقال: وهبت داري للمسجد أو أعطيتها له صح ويكون تمليكاً، ويشترط التسليم كما لو قال: وقفت هذه المائة للمسجد يصح بطريق التمليك إذا سلمه للقيم كذا في الفتاوى العتابية، (۳/۲٤۰)، ( إعلاء السنن: ۱۳/۲۰۰، باب الوقف على مصالح المسجد، إدارة القرآن).

فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

ولو قال: وهبت داري للمسجد أو أعطيتها له صح ويكون تمليكاً فيشترط التسليم كما لو قال: وقفت هذه المائة للمسجد، يصح بطريق التمليك إذا سلم للقيم. (الفتاوى التاتارخانية: ۵/۸۵۳، كتاب الوقف، مسائل وقف المساجد، إدارة القرآن).

عالمگیری میں ہے:

ذكر الصدر الشهيد رحمه الله في باب الواو إذا تصدق بداره على مسجد أو على طريق المسلمين تكلموا فيه والمختار أنه يجوز كالوقف كذا في الذخيرة. (الفتاوى الهندية: ۲/٤٦۰).

یعنی جس طرح مسجد اور دیگر کارِ خیر کے لیے وقف کیا جاتا ہے اسی طرح بطورِ صدقہ دینا بھی درست ہے ۔
دوسری جگہ مرقوم ہے:

رجل أعطي درهماً في عمارة المسجد أو نفقة المسجد، أو مصالح المسجد صح، لأنه إن كان لا يمكن تصحيحه وقفاً يمكن تصحيحه تمليكاً بالهبة للمسجد وإثبات الملك للمسجد على هذا الوجه صحيح، فيتم بالقبض كذا في الواقعات، وقال: وهبت داري للمسجد أو أعطيتها له صح ويكون تمليكاً، ويشترط التسليم كما لو قال: وقفت هذه المائة للمسجد يصح بطريق التمليك إذا سلمه للقيم كذا في الفتاوى العتابية. (الفتاوى الهندية: ۲/٤٦۰، الفصل الثاني في الوقف على المسجد. وكذا في الفتاوى الولوالجية: ۳/۹۰، الفصل الاول في المسجد).

عالمگیری کی درجِ ذیل عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ بیت المال قانون شخصی ہے ۔ ملاحظہ ہو:

فعلى الإمام أن يجعل بيت المال أربعة لكل نوع بيتاً لأن لكل نوع حكماً يختص به لا يشاركه مال آخر فيه فإن لم يكن في بعضها شيء فللإمام أن يستقرض عليه مما فيه مال فإن استقرض من بيت مال الصدقة على بيت مال الخراج فإذا أخذ الخراج يقضي المستقرض من الخراج إلا أن يكون المقاتلة فقراء لأن لهم حظاً فيها فلا يصير قرضاً. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۹۱، فصل فيما يوضع في بيت المال أربعة أنواع).

یعنی امام کے لیے ضروری ہے کہ بیت المال چار حصوں پر تقسیم کرے اس لیے کہ ہر حصہ کا حکم الگ ہے جو اس کے ساتھ خاص ہے دوسرا مال اس میں شریک نہیں ہے، پس اگر بعض حصوں میں کچھ مال نہ ہو تو دوسرے سے قرض لے مثلاً صدقہ کے اموال سے اموالِ خراج کو کچھ قرضہ دیا تو جب خراج حاصل ہو تو اس سے قرضہ وصول کر لے، یعنی بیت المال دائن اور مدیون بن سکتا ہے، جو کہ قانونِ شخصی ہے ۔
حضرت عمر رضي الله عنه غلافِ کعبہ کو حاجیوں میں تقسیم کرتے تھے کیوں کہ وقف نہیں ہوتا تھا ۔
ملاحظہ فرمائیں علامہ ابو الولید محمد بن عبد اللہ بن احمد ازرقی فرماتے ہیں:

حدثنا أبو الوليد قال: حدثنا جدي وإبراهيم بن محمد الشافعي، عن مسلم بن خالد، عن ابن أبي نجيح، عن أبيه، أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه كان ينزع كسوة البيت في كل سنة فيقسمها على الحاج، فيستظلون بها على السمر بمكة. (اخبار مكة، وما جاء فيها من الآثار للأزرقي: ۱/۲۱۷، باب ما جاء في تجريد الكعبة، وأول من جردها، مكتبة الثقافة الدينية).

عمدۃ القاری میں علامہ عینی رحمه الله فرماتے ہیں:

وقال ابن صلاح: الأمر فيها إلى الإمام يصرفه في مصارف بيت المال بيعاً عطاء واحتج بما ذكره الأزرقي أن عمر رضي الله عنه كان ينزع كسوة البيت كل السنة

الخ، وعن الأزرقي عن ابن عباس رضي الله عنه وعائشة رضي الله تعالى عنها أنهما قالا: ولا بأس أن يلبس كسوتها من صارت إليه من حائض وجنب وغيرهما، وكذا قالته أم سلمة رضي الله تعالى عنها، وذكر ابن أبي شيبة عن ابن أبي ليلي، وسئل عن رجل سرق من الكعبة، فقال: ليس عليه قطع، ويقال: الظاهر جواز قسمة الكسوة عتيقة إذ بقاؤها تعريض لفسادها بخلاف النقدين. (عمدة القاري: ۷/۱٦۲، وكذا في شرح اللباب: ص ۵٤۵).

نیز حضرت عمر رضي الله عنه نے خانہ کعبہ کو دیے گئے ہدایا کی تقسیم کا ارادہ فرمایا تھا، اس کے ذیل میں علامہ عینی رحمه الله لکھتے ہیں:
وإنما أراد الكنز الذي بها وهو ما كان يهدي إليها فيدخر ما يزيد على الحاجة. (عمدة القاري: ۷/۱٦۱).

اس سے معلوم ہوا کہ وہ چیزیں خانہ کعبہ کی ملک ہیں ۔

وأما الحلي فمحبسة عليها كالقناديل فلا يجوز صرفها إلى غيرها. (عمدة القاري: ۷/۱٦۱).

کفایت المفتی میں ہے:

رجل وقف أرضاً له على مسجد ولم يجعل آخره للمساكين تكلم المشايخ فيه والمختار أنه يجوز في قولهم جميعاً كذا في الواقعات الحسامية. (الفتاوى الهندية: ۲/٤٤۷). إذا غرس شجراً في المسجد فالشجر للمسجد. (الفتاوى الهندية: ۲/٤۵۵). رجل غرس تالة في مسجد فكبرت بعد سنين فأراد متولي المسجد أن يصرف هذه الشجرة إلى عمارة بئر في هذه السكة والغارس يقول هي لي فأت ما وقفتها على المسجد قال الظاهر أن الغارس جعلها للمسجد فلا يجوز صرفها إلى البئر ولا يجوز للغارس صرفها إلى حاجة نفسه كذا في المحيط. (الفتاوى الهندية: ص ٤۵٦). مسجد فيه شجرة تفاح يباح للقوم أن يفطروا بهذا التفاح قال الصدر الشهيد رحمه الله المختار أنه لا يباح كذا في الذخيرة. (الفتاوى الهندية، ص ٤۵٦). مسجد له أوقاف مختلفة لا بأس للقيم أن يخلط غلته كلها إن خرب حانوت منها فلا باس بعمارته من غلة حانوت آخر لأن الكل للمسجد ولو كان مختلفاً لأن المعنى يجمعها، (فتاوى الشامية، كتاب الوقف: مطلب في نقل انقاض المسجد ونحوه، ٤/۳٦۱، ط، سعيد. مثله في البزازية كتاب الوقف الفصل الرابع، ۳/۲٦۹، ۲۷۰، ط ماجديه).

ہر وہ چیز جو موقوف علیہ بن سکے اور متعین ہو وہ قانونی شخص ہے اور مسجد موقوف علیہ بن سکتی ہے ۔
ہر وہ چیز جو مالک بن سکے وہ قانونی شخص ہے ۔ اور اس کی ملک کی حفاظت گورنمنٹ کا فرض ہے، اور اس کو اپنی ملک کی حفاظت کے لیے دعوی دائر کرنے کا حق ہے ۔
شخصی ملک قبل زوال و انتقال ہے، مالکانہ حیثیت جو قابل زوال و انتقال ہے جب یہ اپنے مالک کو قانونی شخص کی حیثیت دے دیتی ہے، تو مسجد کی ملک جو ناقابل زوال و انتقال ہے، اپنے مالک (مسجد) کو قانونی شخص کا مرتبہ بدرجۂ اولیٰ دے گی ۔ (کفایت المفتی: ۷/۹۸) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
اشکال: لیکن اس پر ایک اشکال پیدا ہوتا ہے کہ مساجد و مدارس ذاتی ملکیت کی حیثیت رکھتے ہیں تو پھر زکوٰۃ دینے سے زکوٰۃ ادا ہو جانی چاہیے، حالانکہ علماء کا اتفاق ہے کہ مسجد یا مدارس کو زکوٰۃ دینے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی ہے ۔ اس کا کیا جواب ہے؟
الجواب: اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ مصارفِ زکوٰۃ متعین ہیں، اور ان مصارف میں مدارس و مساجد کا تذکرہ نہیں ہے، لہذا زکوٰۃ ادا نہ ہو گی ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.