مسجد کی پارینہ قالین کا حکم:

6 min readFatwa Vol 4 #357Urdu
Vol. 4كتاب الوقفباب (۲) ما يتعلق بالمساجد

Question

ایک مسجد میں نئی قالین بچھائی گئی پرانی قالین کے ساتھ کیا کیا جائے؟ اس بارے میں متولی حضرات کی چند آراء ہیں ۔ (۱) مصلی حضرات میں تقسیم کر دیا جائے ۔ (۲) مصلی حضرات کو بیچ کر قرم مسجد میں استعمال کر لی جائے ۔ (۳) کسی اور مسجد میں یہ قالین دے دی جائے ۔ ان میں سے کیا صحیح ہے؟

Answer

قالینِ پارینہ کے بارے میں (۱) مصلی حضرات کے درمیان تقسیم کرنا صحیح اور درست نہیں ہے، اس لیے کہ یہ وقف کا مال ہے ۔
(۲) قالینِ پارینہ کو فروخت کر کے اس کی قیمت مسجد میں استعمال کرنا جائز اور درست ہے ۔
(۳) دوسری مسجد ضرورت مند اور محتاج ہو تو وہاں دینا بھی جائز ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں فتاوی عالمگیری میں ہے:

متولي المسجد ليس له أن يحمل سراج المسجد إلى بيته وله أن يحمله من البيت إلى المسجد. (الفتاوى الهندية: ۲/٤٦۲، كتاب الوقف. وفتاوى قاضيخان: ۳/۲۹٤. والفتاوى البزازية: ٦/۲۷۰).

در مختار میں ہے:

حشيش المسجد وحصيره مع الاستغناء عنهما، وكذا الرباط والبئر إذا لم ينتفع بهما، فيصرف وقف المسجد والرباط والبئر والحوض إلى أقرب المساجد أو رباط أو حوض إليه. (الدر المختار: ٤/۳۵۹، سعيد).

کفایت المفتی میں ہے:
مسجد کا پرانا سامان اور ملبا جو اسی مسجد جدید کی تعمیر جدید میں کام نہ آ سکتا ہو فروخت کر دینا جائز ہے، بہتر یہ ہے کہ مسلمان کے ہاتھ فروخت کیا جائے اور اس کی قیمت کو اسی مسجد کی ضروریات تعمیر میں یا جس قسم کا سامان تھا اسی کے مثل میں صرف کیا جائے ۔ (کفایت المفتی: ۷/٦۷) ۔
عزیز الفتاوی میں ہے:
مسجد کا سامان اقرب مسجد ہی میں صرف کرنا چاہیے اگر اس وقت ضرورت نہیں ہے تو اس کے لیے اس سامان کو محفوظ رکھا جائے کہ وقت ضرورت کام آوے یا فروخت کر کے اقرب مسجد میں لگایا جاوے ۔ (عزیز الفتاوی: جلد اول، ص۵٦۷) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
اگر مسجد میں زائد چٹائیاں موجود ہیں اور حفاظت کی کوئی صورت نہیں، خراب اور ضائع ہو رہی ہیں تو زائد چٹائیاں ایسی مساجد میں بچھانا درست ہے جہاں ضرورت ہو متولی اور دیگر اہل الرائے حضرات کے مشورہ سے دے سکتے ہیں، بلا مشورہ نہ دے تاکہ فتنہ پیدا نہ ہو ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱٤/۵۸۸، فاروقیہ) ۔
مزید ملاحظہ فرمائیں: (فتاوی الشامی: ٤/۳۵۹، سعید ۔ و حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار: ۲/۵۳۷، کتاب الوقف ۔ و امداد الاحکام: ۲/۲۲۲، ۲۳٤ ۔ و امداد المفتین: ۲/٦٤۱ ۔ و فتاوی رحیمیہ: ۹/۱۲۹) ۔
البتہ مسئلہ بالا میں ایک بات قابل غور یہ ہے کہ علامہ شامی اور علامہ طحطاوی وغیرہ نے پرانا اثاثہ و سامانِ مسجد میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ امام محمد رحمه الله کے نزدیک بعد استغناءِ مسجد مالک کی ملکیت اس میں عود کر آتی ہے اور امام ابو یوسف رحمه الله کے نزدیک دوسری مسجد میں منتقل کر دیا جائے گا، پھر فرمایا کہ آلاتِ مسجد میں امام محمد رحمه الله کے قول پر فتویٰ ہے اور انقاضِ مسجد میں امام ابو یوسف رحمه الله کے قول پر فتویٰ ہے ۔ مفتی رشید احمد صاحب لدھیانوی رحمه الله نے احسن الفتاویٰ میں اسی کو اختیار فرمایا ہے ۔ ملاحظہ ہو: (احسن الفتاوی: ٦/٤۲۵ ۔ ٤۲۷) ۔
علامہ شامی کی عبارت حسبِ ذیل ملاحظہ فرمائیں:

قوله مثله حشيش المسجد أي الحشيش الذي يفرش بدل الحصير، كما يفعل في بعض البلاد كبلاد الصعيد كما أخبرني به بعضهم قال الزيلعي رحمه الله: وعلى هذا حصير المسجد وحشيشه إذا استغني عنهما يرجع إلى مالكه عند محمد رحمه الله وعند أبي يوسف رحمه الله ينقل إلى مسجد آخر، وعلى الخلاف الرباط والبئر إذا لم ينتفع بهما، وصرح في الخانية بأن الفتوي على قول محمد رحمه الله قال في البحر: وبه علم أن الفتوي على قول محمد رحمه الله في آلات المسجد وعلى قول أبي يوسف رحمه الله في تأبيد المسجد، والمراد بآلات المسجد نحو القنديل والحصير، بخلاف أنقاضه لما قدمنا عنه قريباً من أن الفتوي على أن المسجد لا يعود ميراثاً ولا يجوز نقله ونقل ماله إلى مسجد آخر. (فتاوى الشامي: ٤/۳۵۹، مطلب فيما لو خرب المسجد أو غيره).

لیکن اکابر رحمه الله کے فتاویٰ سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے مطلقاً امام ابو یوسف رحمه الله کے قول پر فتویٰ دیا ہے کہ اسباب و اثاثہ چاہے آلات کے قبیل سے ہو یا انقاض کے قبیل سے، کسی میں بھی مالک کی ملکیت عود کر نہیں آئے گی، بلکہ اموال وقف کی طرح ہوگا ۔
نیز اشیاءِ منقولہ کے وقف کے بارے میں متقدمین عدم جواز کا فتویٰ دیتے تھے، لہذا مالک کی ملک میں عود کر آنے والا مسئلہ بھی اسی پر مبنی ہے ۔ لیکن متأخرین فقہاء بالاتفاق اشیاءِ منقولہ کے وقف کے جواز کا فتویٰ دیتے ہیں، لہذا مالک کی ملک میں عود کر آنے کا سوال ہی باقی نہیں رہتا ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.