تنخواہ دار شخص کی تولیت کا حکم:

4 min readFatwa Vol 4 #350Urdu
Vol. 4كتاب الوقفباب (۱): مطلق وقف کا بیان

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ ایک اسلامی اس کول کی کمیٹی میں ایک عالم دین کو صدر مقرر کرنے پر بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ عالم صاحب اس کول سے تنخواہ لیں گے، جب کہ چیئر مین ایسا آدمی ہونا چاہیے ہونا چاہیے جو تنخواہ نہ لیتا ہو، کیا شریعت میں تنخواہ دار آدمی کو سربراہ مقرر کرنا جائز ہے؟

Answer

اسلامی اس کول چلانے اور انتظام کرنے کے لیے وہ شخص زیادہ مناسب ہے جو دینی علوم میں ماہر ہوتا کہ اس کول میں اسلامی روح جاری و ساری کرا دے، اور نظام تعلیم کو دین و شریعت کے موافق بنا دے، پھر اس عالم دین کے گزارے کے لیے تنخواہ مقرر کرنا چاہیے تاکہ فارغ البال ہو کر اس کول کے نظام کو بہتر بنانے کی طرف متوجہ رہے، یاد رہے کہ سربراہ بننے کے ساتھ تنخواہ لینا متصادم نہیں، بلکہ خلفائے راشدین باوجود سربراہ ہونے کے بیت المال سے تنخواہ لیتے تھے ۔
علامہ سیوطی رحمه الله نے تاریخ الخلفاء میں لکھا ہے کہ جب حضرت ابو بکر صدیق رضي الله عنہ خلیفہ بنے تو صبح کے وقت کپڑے کی گٹھڑی اٹھائے ہوے بازار کی طرف جا رہے تھے حضرت عمر رضي الله عنه نے پوچھا کہاں جا رہے ہو؟ فرمایا مسلمانوں کا خلیفہ بنایا گیا ہوں مگر اہل و عیال کے خرچ کا انتظام کیسے ہوگا؟ حضرت عمر رضي الله عنه نے فرمایا چلیے ابو عبیدہ رضي الله عنه کے پاس چلتے ہیں وہ آپ کے لیے وظیفہ یا تنخواہ مقرر فرما دیں گے، دونوں وہاں چلے گئے، ابو عبیدہ رضي الله عنه نے فرمایا میں آپ کے لیے ایک مہاجر کے خرچے کے برابر خرچہ مقرر کرتا ہوں، اور گرمی سردی کا لباس بھی ۔
تاریخ الخلفاء کی عبارت ملاحظہ فرمائیں:

وأخرج ابن سعد عن عطاء، السائب قال لما بويع أبوبكر رضي الله عنه أصبح وعلى ساعده إبراد وهو ذاهب إلى السوق فقال عمر رضي الله عنه: أين تريد قال إلى السوق قال: تصنع ماذا وقد وليت أمر المسلمين قال فمن أين أطعم عيالي فقال: انطلق يفرض لك أبو عبيدة فانطلق إلى أبي عبيدة فقال: أفرض لك قوت رجل من المهاجرين ليس بأفضلهم ولا أوكسهم وكسوة الشتاء والصيف. (تاريخ الخلفاء: ۷۸).

اس کے بعد مرقوم ہے کہ دو ہزار "غالباً سالانہ" مقرر فرمائے جس پر ابو بکر صدیق رضي الله عنه نے فرمایا کہ اہل و عیال کے پیش نظر یہ کم ہیں تو پانچ سو مزید بڑھائے گئے ۔

وأخرج ابن سعد عن ميمون قال: لما استخلف أبوبكر رضي الله عنه جعلوا له ألفين، فقال: زيدوني فإن لي عيالاً وقد شغلتموني عن التجارة، فزاده خمس مائة. (تاريخ الخلفاء: ۷۸).

مشکوٰۃ شریف میں ہے:

وعن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت: لما استخلف أبوبكر رضي الله عنه قال: لقد علم قومي أن حرفتي لم تكن تعجز عن مؤنة أهلي وشغلت بأمر المسلمين فسيأكل آل أبي بكر رضي الله عنه من هذا المال ويحترف للمسلمين فيه. (رواه البخاري)
۔
وعن عمر رضي الله عنه قال: عملت على عهد رسول الله ﷺ فعملني. رواه أبو داود، وقال التوربيشتي: أي أعطاني عمالتي وأجرة عملي
۔
(حاشية مشكوة بحواله مرقات). وعن المستورد بن شداد قال سمعت النبي ﷺ يقول: من كان لنا عاملاً فليكتسب زوجة فإن لم يكن له خادم فليكتسب خادماً فإن لم يكن له مسكن فليكتسب مسكناً. رواه أبو داود. (مشكوة شريف: ۲/۳۲٦، باب رزق الولاة وهداياهم).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.