مدرسہ کی زمین کو دوسرے کام میں استعمال کرنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 4 #404Urdu
Vol. 4كتاب الوقفباب (۳): احکام مدارس کا بیان

Question

اگر کسی نے زمین مدرسہ کے لیے وقف کر دی تو اس کے ایک حصہ پر مسجد یا قبرستان بنانا درست ہے یا نہیں؟

Answer

زمین موقوفہ برائے مدرسہ میں واقف کی نیت پہلے ہی سے تعمیر مسجد کی ہوتی ہے، کیوں کہ مدرسہ میں عام طور پر مسجد ہوتی ہے، بلکہ مسجد کا ہونا ضروری ہوتا ہے، لہذا مسجد بنانے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ ہاں قبرستان بنانا ہو تو اس میں علماء کے تین اقوال ہیں: (۱) عدم جواز (۲) جواز (۳) جواز بصورتِ کرایہ یعنی قبرستان کی طرف سے مدرسہ کو کچھ ماہانہ کرایہ دے دیا جائے، اور یہ صورت بہتر ہے ۔
جدید فقہی مباحث جلد ۱۲ میں یہ مسئلہ بعنوان "مسجد یا قبرستان کی زائد اراضی میں درسگاہ کا قیام" بالتفصیل مذکور ہے ۔ مختصر خلاصہ حسب ذیل ہے:
اس مسئلہ میں علماء کے تین اقوال ہیں: عدم جواز، جواز، جواز بصورتِ کرایہ یعنی مدرسہ پر کچھ کرایہ لازم کیا جائے اور اس کو مسجد کی ضروریات میں صرف کر لے ۔ (قائلین جواز نے بھی کرایہ والی صورت کو بہتر قرار دیا ہے) ۔
قائلین عدم جواز کے دلائل ملاحظہ ہو:

(۱) شرط الواقف كنص الشارع. (فتاوى الشامي).
(۲) الصرف هو إلى ما هو أقرب إلى العمارة كالإمام ونحوه إنما هو فيما إذا لم يكن الوقف معيناً على جماعة معلومين كالمسجد والمدرسة. (فتاوى الشامي).
(۳) وظاهره أنه لا يجوز صرف وقف مسجد خرب إلى حوض وعكسه وفي شرح الملتقي يصرف وقفها لا قرب مجانس لها. (فتاوى الشامي).
مزید ملاحظہ ہو: (عالمگیری: ۲/۳۶۴) ۔
قائلین جواز کے دلائل ملاحظہ فرمائیں:

(۱) لو أن مقبرة من مقابر المسلمين عفت فبني قوم عليها مسجد اً لم أر بذلك بأساً وذلك لأن المقابر وقف من أوقاف المسلمين

فإذا درست واستغني عن الدفن فيها جاز صرفها إلى المسجد لأن المسجد أيضاً وقف من أوقاف المسلمين. (عمدة القاري: ۳/۴۳۵، باب هل تنبش قبور مشركي الجاهلية ويتخذ مكانها مساجد، ملتان).

معارف السنن میں ہے:

قال الراقم: ومما تبين لي بعد فحص وبحث كثير أنه إذا اجتمعت أموال كثيرة تزيد على إعادة بناء المسجد إن احتج إليه فيجوز صرف الزائد إلى إنشاء مدرسة ونشر علم وإن لم يكن من شرط الواقف. (معارف السنن: ۳/۳۰۱).

مزید ملاحظہ ہو: (فتاوی رحیمیہ: ۲/۱۸۷، و امداد الفتاوی: ۲/۵۷۹، و احسن الفتاوی: ۶/۴۰۹، و کفایت المفتی: ۷/۱۰۰) ۔
فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

ليس للقيم أن يسكن فيها أحد بغير أجر. (الفتاوى التاتارخانية: ۵/۷۴۹).

مزید دیکھو: (جدید فقہی مباحث: ج ۱۲، و فتاوی محمودیہ: ۱۷/۲۳۱، و ۱۸/۲۲۰) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.