مدرسہ سے ملحق مسجد بنانے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 4 #364Urdu
Vol. 4كتاب الوقفباب (۲) ما يتعلق بالمساجد

Question

کیا مدرسہ سے ملحق مسجد بنانے کی اجازت ہے یا نہیں بعض حضرات اس کو مسجد ضرار کہتے ہیں اس کا کیا حکم ہے؟

Answer

بصورتِ مسئولہ مدرسہ کے ساتھ ملحق مسجد بنانا بہتر اور کارِ خیر ہے، پھر جب اس کے قریب کوئی مسجد بھی نہ ہو تو مسجد کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے، مدرسہ کا اپنا ایک مزاج اور نظام ہوتا ہے، اس نظام کو سامنے رکھتے ہوئے مدرسہ کے ساتھ مسجد کی تعمیر کی صورت ست انکار نہیں کیا جا سکتا مثلاً مغرب کے بعد پڑھائی اور کھانے وغیرہ کی وجہ سے عشاء کی نماز مدرسہ کی مسجد میں کافی دیر سے ہوتی ہے طلبہ کے اوقات اور چلت پھرت پر پابندی کی وجہ سے بھی مسجد کا ہونا ضروری ہو جاتا ہے لہذا اس مدرسہ کے ساتھ ملحق مسجد کی تعمیر قابل اعتراض نہیں بلکہ قابل صد تحسین اور لائق شکر ہے، جو لوگ اس مسجد کو مسجدِ ضرار کہتے ہیں، وہ سخت غلطی پر ہیں، ان کو توبہ کرنا چاہیے، حضرت مفتی عزیز الرحمن صاحب رحمه الله نے ایک فتویٰ میں تحریر فرمایا ہے، اور حسن ظن مامور بہ ہے، لہذا کسی مسلمان کی بنا کردہ مسجد کو مسجدِ ضرار کا حکم نہیں دیا جا سکتا، کیوں کہ ایسا یقین نہیں ہو سکتا کہ بانی نے یہ مسجد بغرض اضرارِ مسجدِ ثانی ریاء و سمعہ بنائی ہے، بخلاف مسجدِ ضرار کے کہ اس کی بنا فساد اور بانیین کی نیت کا فساد وحی قطعی سے معلوم ہو چکا ہے ۔ (عزیز الفتاوی: ۱/٦۰۹) ۔
جب کہ صورتِ مسئولہ میں نیت کا فساد نہیں بلکہ ضرورت کے پیش نظر مسجدِ ثانی بنائی جا رہی ہے نیز اس مسجد کے منہدم کرنے کا ارادہ بہت برا ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.