سودی رقم سے بیت الخلاء بنانے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 5 #179Urdu
Vol. 5كتاب البيوعبابِ: سودی مصارف کا بیان

Question

کیا سودی رقم سے مدرسہ اور اس کول کی بیت الخلاء بنانا جائز ہے یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ بعض مفتی حضرات کے نزدیک سودی رقم سے مدرسہ، اس کول وغیرہ کی بیت الخلاء کی تعمیر کرنا جائز اور درست ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی رحیمیہ میں ہے:
مسئلہ مختلف فیہ ہے، غریب مسکین کو دینا اولی ہے، سڑک وغیرہ رفاہِ عام کے کاموں میں لگانے کی گنجائش ہے، مسجد میں نہیں لگا سکتے، مسجد کی بیت الخلاء کی مرمت میں لگا سکتے ہیں ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۹/۲۷۹) ۔
کفایت المفتی میں ہے:
وصول کرنے کے بعد اس روپے کو امورِ خیر میں جو رفاہِ عام سے تعلق رکھتے ہوں، یا فقراء و مساکین کی رفعِ حاجات کے لیے مفید ہوں، مثلاً یتامی و مساکین اور طلبائے مدارسِ اسلامیہ کے وظائف اور امدادِ کتب وغیرہ پر خرچ کرنا یا مسافر خانہ، کنواں، سڑک وغیرہ تعمیر کرنا، سڑکوں پر روشنی کرنا، یہ سب صورتیں جائز ہیں، البتہ مسجد پر خرچ نہ کی جائے کہ یہ تقدسِ مسجد کے منافی ہے ۔ (کفایت المفتی: ۷/۱۰۵، دار الاشاعت) ۔
جدید فقہی مسائل میں ہے:
سود کی رقم کسی ضرورت مند کی انفرادی ضرورت کی تکمیل میں لگائی جا سکتی ہے، کسی اجتماعی فائدہ کا کام کر دینا جیسے کنواں کھودنا وغیرہ ۔ مسجدوں اور مدرسوں میں تو یہ رقم نہ لگائی جائے لیکن بیت الخلاء کی تعمیر کی علماء نے اجازت دی ہے ۔ (جدید فقہی مسائل: جلد اول، ص ۲۵۳) ۔
اسلامی فقہ میں ہے:
اگر مجبوراً آدمی کو بینک وغیرہ میں روپیہ جمع کرنا پڑے اور اسے سود ملے تو اسے اپنی ذات اور بال بچوں پر استعمال نہ کرے، بلکہ بغیر ثواب کی نیت کے غریبوں کو دے دے یا کسی معتبر آدمی کے ذریعہ کسی رفاہی کام میں اسے لگا دے، مثلاً محلہ یا گاؤں کے راستے اور عام پا خانے وغیرہ میں لگا دے ۔ (اسلامی فقہ: ۲/۳٦۹) ۔
البتہ حیلہ تملیک کے بعد سودی رقم سے بیت الخلاء کی تعمیر کرنے میں احتیاط ہے ۔
ملاحظہ ہو نظام الفتاوی میں ہے:
تملیک مستحق کے حیلہ کے بعد مسجد کے پا خانہ کی صفائی وغیرہ میں بھی استعمال کرنا درست ہوگا، اور حیلہ تملیک یہ ہے کہ جتنی رقم سود کی ہے وہ غرباء و مساکین کو جو مستحق صدقہ ہوں دے کر اس کا مالک بنا دیا جائے، پھر وہ مستحق صدقہ اپنی طرف سے بطورِ چندہ مسجد میں دے دے ۔
وقدمنا أن الحيلة أن يتصدق على الفقير، ثم يأمره بفعل هذه الأشياء. الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۳٤۵، كتاب الزكاة، باب المصرف، سعيد. (نظام الفتاوى: ۱/۱۹۹).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.