مالِ حرام کے صدقہ میں تملیک کا حکم:

4 min readFatwa Vol 5 #181Urdu
Vol. 5كتاب البيوعبابِ: سودی مصارف کا بیان

Question

غیر مسلم ممالک میں جو رقم ناجائز طریقے پر حاصل ہوئی ہو جیسے سود کی رقم اس کا صدقہ کرنا لازم ہے، لیکن وہ فقراء کو دینا ضروری ہے یا تملیک فقیر کے بغیر کسی دوسرے کارِ خیر میں استعمال ہو سکتی ہے؟

Answer

بعض مفتی حضرات کی رائے یہ ہے کہ جس مال میں خبث و حرمت ہو وہ فقراء کو دینا ضروری ہے، لیکن بعض مفتی حضرات یہ فرماتے ہیں کہ وہ دوسرے کارِ خیر مثلاً بیت الخلاء بنانا یا راستے سڑک وغیرہ بنانے میں بھی خرچ ہو سکتی ہے، یہ حضرات صدقہ واجبہ اور واجب التصدق میں فرق کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ صدقہ واجبہ جیسے زکوۃ، صدقۃ الفطر وغیرہ کی تملیک فقیر کو ضروری ہے، جب کہ واجب التصدق میں تملیکِ فقیر ضروری نہیں، جب رسول اللہ ﷺ قوم ثمود کی جگہ پہونچ گئے اور صحابہ نے ان کے کنویں کے پانی سے آٹا گوندھا تو آپ نے وہ آٹا اونٹوں کو کھلانے کا حکم فرمایا:

عن ابن عمر رضي الله عنه أن الناس نزلوا مع رسول الله ﷺ أرض ثمود الحجر فاستقوا من بئرها واعتجنوا به فأمرهم رسول الله ﷺ أن يهريقوا ما استقوا من بئرها وأن يعلفوا الإبل العجين وأمرهم أن يستقوا من البئر التي كانت تردها الناقة. (رواه البخاري: ۱/٤۷۸).

ایک روایت میں آٹے کے پھینکنے کا حکم ہے، اس آٹے میں کراہتِ تحریمی آئی تھی یا تنزیہی دونوں صورتوں میں اونٹوں کو کھلانے کا مطلب یہ ہے کہ جس چیز میں خبث آ جائے اور خود استعمال نہ کر سکے اس کو کسی کارِ خیر میں استعمال کرنے کی گنجائش ہوتی ہے، ہا ں خمر کو گرانے کا حکم ہے اس کی تملیک کی اجازت نہیں، عینی نے شرحِ بخاری میں اس آٹے کی کراہتِ تحریمیہ یا تنزیہیہ کے دونوں قول نقل فرمائے ہیں ۔ (عمدۃ القاری: ۱۱/۹۹) ۔
اگر غنی کو گم شدہ چیز لقطہ مل جائے تو وہ واجب التصدق ہے خود اس چیز کو استعمال نہیں کر سکتا، لیکن اس کو میت کے کفن دفن میں استعمال کرنے کی گنجائش فقہاء نے لکھی ہے ۔

وأما الرابع فمصرفه المشهور هو اللقيط الفقير والفقراء الذين لا أولياء لهم فيعطي منه نفقتهم وأوديتهم وكفنهم وعقل جنايتهم. (فتاوى الشامي: ۲/۳۳۸، سعيد).
رابع میں لقطہ شامل ہے ۔
نیز علامہ بزدوی رحمه الله کا قول ہے:

أنه يصرف إلى المرضي والزمني واللقيط وعمارة القناطر والرباطات والثغور والمساجد وما أشبه ذلك. (فتاوى الشامي: ۲/۳۲۸، سعيد).

حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب رحمه الله بینک کی جمع شدہ رقم کے بارے میں لکھتے ہیں جو روپیہ بینکوں میں جمع کیا جاتا ہے اس کا سود بینک سے وصول کر لیا جائے تاکہ اس کے ذریعہ سے مسیحی مذہب کی تبلیغ اور مسلمانوں کو مرتد بنانے کی اعانت کا گناہ نہ ہو وصول کرنے کے بعد اس روپے کو امورِ خیر میں جو رفاہِ عام سے متعلق ہوں یا فقراء و مساکین کی رفعِ حاجات کے لیے مفید ہوں مثلاً یتامی و مساکین اور طلبہ مدارسِ اسلامیہ کے وظائف اور امدادِ کتب وغیرہ میں خرچ کرنا یا مسافر خانہ کنواں سڑک وغیرہ تعمیر کرنا سڑکوں پر روشنی کرنا یہ سب صورتیں جائز ہیں البتہ مسجد پر خرچ نہ کی جائے کہ یہ تقدسِ مسجد کے خلاف ہے ۔ (کفایت المفتی: ۸/٦۷) ۔
زیادہ تفصیل فتاوی عثمانی میں دیکھی جا سکتی ہے اور بظاہر مفتی محمد تقی عثمانی اور مولانا رفیع عثمانی اور وہاں کے دیگر مفتی حضرات کا موقف بھی یہی سمجھ میں آتا ہے کہ مال خبیث واجب التصدق ہے، لیکن صدقہ واجبہ کی طرح نہیں، نفس صدقہ غیر واجب التملیک کو بھی کہتے ہیں:

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: إذا مات الإنسان انقطع عمله إلا من ثلاث، صدقة جارية، أو علم ينتفع به، أو ولد صالح يدعو له. (رواه مسلم).

وقف پر بھی صدقہ کا اطلاق ہوتا ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.