نبی ﷺ کے مزار پر سلام پہونچانے کا ثبوت:
Question
آنحضور ﷺ کے مزار پر سلام پہونچانے کا ثبوت خیر القرون اور سلفِ صالحین کے ہاں ملتا ہے یا یہ بعد والوں کی اپنی ایجاد ہے؟
Answer
آنحضور ﷺ کے روضۂ اطہر پر سلام پہونچانے کا ثبوت خیر القرون اور سلفِ صالحین کے یہاں ملتا ہے ۔
"إتحاف السادة المتقين بشرح إحياء علوم الدين"
میں مذکور ہے:
وإن كان قد أوصي بتبليغ سلام من أحد أحبابه فليقل بعد الدعاء: السلام عليك يا رسول الله من فلان بن فلان أو فلانة بنت فلانة، فقد جرى ذلك العمل في السلف والخلف، وكانت الملوك تبرد لتبليغ السلام بريداً لينوب عنه في إبلاغ السلام. روي ذلك عن عمر بن عبد العزيز رحمه الله بأن يبرد البريد من الشام يقول: سلم لي على رسول الله ﷺ، أخرجه ابن الجوزي في مثير الغرام. وهذه أخبار فيما جاء في السلام عليه ﷺ عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ قال: ما من أحد يسلم على إلا رد الله على روحي حتى أرد عليه، أخرجه أبو داود. (إتحاف السادة المتقين بشرح إحياء علوم الدين: ٤/٤۱۹).
اسی طرح
"شفاء السقام"
میں یہ عبارت بھی مذکور ہے:
وكذلك أبو منصور الكرماني من الحنفية قال: إن كان أحد أوصاك بتبليغ السلام تقول: السلام عليك يا رسول الله من فلان بن فلان يستشفع بك إلى ربك بالرحمة والمغفرة فاشفع له. (شفاء السقام، ص: ٦٦).
اور
"شرح الصدور"
میں مذکور ہے:
أخرج ابن ماجة والطبراني والبيهقي في البعث بسند حسن عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك قال: لما حضرت كعباً الوفاة أتته أم بشر بنت البراء فقالت: يا أبا عبد الرحمن إن لقيت فلاناً فأقرءه مني السلام. فقال: يغفر الله لك يا أم بشر نحن أشغل من ذلك. فقالت: أما سمعت رسول الله ﷺ يقول: إن نسمة المؤمن تسرح في الجنة حيث شاءت ونسمة الكافر في سجين. قال: قلت: بلى هو ذلك. (شرح الصدور، باب مقر الأرواح: ۳۹، ص: ۲۲۸).
حدیثِ مذکور سے معلوم ہوتا ہے کہ میت کو سلام پہنچایا جا سکتا ہے دوسری میت کے ذریعہ، تو زندہ کے ذریعہ سے سلام پہنچانا بطریق اولیٰ ثابت ہوگا ۔ خصوصاً جب حضور ﷺ کے روضۂ اطہر پر سلام پہنچانا ہو اس لیے کہ حضور ﷺ اپنی قبر مبارک میں زندہ ہیں ۔ اور زندہ کو سلام پہنچانا جائز ہے تو حضور ﷺ کو سلام پہنچانا بھی جائز ہوگا ۔
اور مذکورہ عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ سلفِ صالحین کا عمل بھی تھا اور حضرت عمر بن عبد العزیر رحمہ اللہ اور حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ دونوں خیر القرون میں سے ہیں جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حضور ﷺ کے روضۂ اطہر پر سلام پہنچانا بعد والوں کی اپنی ایجاد نہیں ہے ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.