مرض الموت میں وقف کرنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 4 #343Urdu
Vol. 4كتاب الوقفباب (۱): مطلق وقف کا بیان

Question

اگر کسی شخص نے سخت مرض کی حالت میں اپنی زمین مدرسہ کے لیے وقف کر دی تو یہ وقف صحیح ہوا یا نہیں؟

Answer

مرض الموت میں وقف صحیح ہے لیکن وصیت کے درجہ میں ہے، یعنی انتقال کے بعد ثلث مال میں سے وقف نافذ کیا جائے گا، الا یہ کہ ورثاء اجازت دے دیں تو صحیح ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں زمین اگر ثلث مال میں سے نکلتی تو فبہا، ورنہ ثلث حصہ جو بنتا ہو اس کے بقدر وقف نافذ ہو جائے گا، ہاں ورثاء اپنی اجازت سے پوری زمین وقف کر دے تو پوری زمین کا وقف صحیح ہوگا ۔
ملاحظہ فرمائیں ہدایہ میں ہے:

ولو وقف في مرض موته قال الطحاوي هو بمنزلة الوصية بعد الموت. (الهداية: ۲/٦۳۸).
وفي فتح القدير: قوله هو كالوصية بعد الموت حتى يلزم بعد الموت لأن تصرفات المريض مرض الموت في الحكم كالمضاف إلى ما بعد الموت حتى يعتبر من ثلث ماله

وفي فتاوى قاضيخان: مريض وقف وعليه ديون تحيط بماله يباع وينقص الوقف. (فتح القدير: ٦/٦۰۸، دار الفكر).

فتاوی عالمگیری میں ہے:

مريض وقف داراً في مرض موته فهو جائز إذا كان يخرج من ثلث المال وإن كان لم يخرج فأجازت الورثة فكذلك وإن لم يجيزوا بطل فيما زاد على الثلث. (الفتاوى الهندية: ۲/٤۵۱، الباب العاشر في وقف المريض).

مزید ملاحظہ ہو: (
الدر المختار مع رد المحتار: ٤/۳۹٦. والمحيط البرهاني: ۷/۹۷).

مجموعہ قوانین اسلامی میں ہے:
مرض الموت میں کیا گیا وقف واقف منسوخ نہیں کر سکتا، لیکن اگر شئی موقوفہ کے کل ترکہ کے ایک تہائی میں سے زائد ہے تو زائد میں وقف نافذ نہیں ہوگا ۔ (مجموعہ قوانین اسلامی: ۳۵٦) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (امداد الاحکام: ۳/۵۵ ۔ و فتاوی محمودیہ: ۱٤/۲٦۰ ۔ قاموس الفقہ: ۵/۲۹٦) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.