مسجد کی توسیع کا حکم:

2 min readFatwa Vol 4 #354Urdu
Vol. 4كتاب الوقفباب (۲) ما يتعلق بالمساجد

Question

ایک شخص نے اپنی زمین وقف کر دی وہ زمین مسجد سے بالکل متصل ہے مقامی لوگوں کی تعداد بڑھنے کی وجہ سے مسجد کو تنگ دامنی کا شکوہ ہے توسیع کی ضرورت ہے، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ مسجد سے متصل وقف شدہ زمین مسجد میں شامل کر کے توسیع کی گنجائش ہے یا نہیں؟ جب کہ واقف کی نیت کارِ خیر، اور مسجد و مدرسہ وغیرہ میں صرف کرنے کی تھی ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ وقف زدہ زمین کو مسجد میں شامل کر کے توسیع کی گنجائش ہے اگر چہ زمین کارِ خیر کے لیے وقف کی گئی تھی پھر بھی مسجد میں شامل کرنا درست ہے، توسیع مسجد بھی کارِ خیر اور اہم امورِ شریعت اور شعائر اسلام میں سے ہے ۔
فتاوی شامی میں ہے:

قوله تؤخذ أرض في الفتح لو ضاق المسجد وبجنبه أرض وقف عليه أو حانوت جاز أن يؤخذ ويدخل فيه زاد في البحر عن الخانية بأمر القاضي وتقييده بقوله وقف عليه أي على المسجد يفيد أنها لو كانت وقفاً على غيره لم تجز ولكن جواز أخذ المملوكة كرهاً يفيد الجواز بالأولي لأن المسجد لله تعالى. (فتاوى الشامي: ٤/۳۷۹، وكذا في قانون العدل والإنصاف، ۸۵، تقديم عمارة المسجد على مصالح الأخرى، بيروت).

فتاوی بزازیہ میں ہے:

وإن ضاق المسجد عن أهله جاز للمتولي أن يدخل بعض منازل الوقف. (الفتاوى البزازية على هامش الهندية: ٦/۲۸۵).
وفيه: أرض وقف على مسجد وبجنبه أرض فأرادوا إلحاق شيء من الأرض بالمسجد جاز ولكن يرفع إلى الحاكم ليأذن له في ذلك. (الفتاوى البزازية: ٦/۲٦۸، الرابع في المسجد وما يتصل به).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.