عقد نکاح مسجد میں رکھنے کا حکم:

6 min readFatwa Vol 4 #370Urdu
Vol. 4كتاب الوقفباب (۲) ما يتعلق بالمساجد

Question

مسجد میں نکاح خوانی مباح ہے یا مستحب؟ بعض علاقوں میں لوگ گھروں میں نکاح پڑھاتے ہیں، اس کا کیا حکم ہے؟ اس لیے کہ بعض حضرات بغیر مسجد نکاح پر نکیر کرتے ہیں اور اس کو بہت معیوب سمجھتے ہیں ۔

Answer

مسجد میں نکاح خوانی افضل اور بہتر ہے، لیکن نہ کرنے والوں پر ملامت نہیں کرنا چاہیے ۔
ملاحظہ فرمائیں حدیث شریف میں ہے:

عن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت: قال رسول الله ﷺ: اعلنوا هذا النكاح واجعلوه في المساجد واضربوا عليه بالدفوف. هذا حديث حسن غريب، وعيسى بن ميمون الأنصاري يضعف في الحديث. (ترمذي شريف: ۱/۲۰۷).

تحفۃ الاحوذی میں ہے:

(هذا حديث حسن غريب) كذا في النسخ الحاضرة وأورد هذا الحديث الشيخ ولي الدين في المشكوة وقال: رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب ولم يذكر لفظ حسن، وكذلك أورد الشوكاني هذا الحديث في النيل وقال: قال الترمذي: هذا حديث غريب ولم يذكر هو أيضاً لفظ حسن، فالظاهر أن النسخة التي كانت عند صاحب المشكاة وعند الشوكاني هي الصحيحة ويدل على صحتها تضعيف الترمذي عيسى بن ميمون أحد رواة هذا الحديث، وقد صرح الحافظ في الفتح بضعف هذا الحديث

قال البخاري: منكر الحديث، وقال ابن حبان: يروي أحاديث كلها موضوعات. (تحفة الأحوذي: ۸/۲۱۹)

البحر الرائق میں ہے:

قوله وهو سنة)

وأشار المصنف رحمه الله بكونه سنة أو واجباً إلى استحباب مباشرة عقد النكاح في المسجد لكونه عبادة. (البحر الرائق: ۳/۸۰، كتاب النكاح، كوئته).

فتح القدیر میں ہے:

ويستحب مباشرة عقد النكاح في المسجد لأنه عبادة. (فتح القدير: ۳/۱۸۹، دار الفكر).

در مختار میں ہے:

ويندب إعلانه وتقديم خطبة وكونه في مسجد يوم جمعة. وفي الشامي: قوله في مسجد للأمر به في الحديث. (الدر المختار مع رد المحتار: ۳/۸، كتاب النكاح، سعيد).

مسجد کے علاوہ میں نکاح جائز ہونے کے چند دلائل ملاحظہ فرمائیں:
بخاری شریف میں ہے:

عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه جاء إلى رسول الله ﷺ وبه أثر صفرة فسأله رسول الله ﷺ فأخبره أنه تزوج امرأة من الأنصار. (صحيح البخاري: ۲/۷۷٤، باب الصفرة للمتزوج).
وفي رواية له عن جابر بن عبد الله رضي الله عنه قال: كنا مع النبي ﷺ في غزوة فلما قفلنا كنا قريباً من المدينة تعجلت على بعير لي قطوف

فالتفت فإذا أنا برسول الله ﷺ، فقلت: يا رسول الله إني حديث عهد بعرس، قال: أتزوجت؟ قلت: نعم

(صحيح البخاري: ۲/۷۸۹).

بخاری شریف کی مذکورہ بالا دونوں روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف
رضي الله عنه
اور حضرت جابر بن عبد اللہ رضي الله عنه کا نکاح بظاہر مسجد میں نہیں ہوا تھا، ورنہ رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر مخفی نہ رہتا، اگر چہ یہ بات بھی ممکن ہے کہ مدینہ منورہ کی کسی اور مسجد میں ہوا ہو ۔
ایک مرسل روایت سے پتا چلتا ہے کہ بعض صحابہ
ث
کا نکاح مسجد میں ہوا تھا ۔
ملاحظہ ہو مصنف عبد الرزاق میں ہے:

عبد الرزاق عن ابن جريج وإبراهيم بن محمد عن صالح مولي التوأمة قال: رأي رسول الله ﷺ جماعة في المسجد فقال: ما هذا؟ قالوا: نكاح، قال: هذا النكاح ليس بالسفاح. (مصنف عبد الرزاق: ٦/۱۸۷، باب النكاح في المسجد).

حضرت مفتی محمود حسن صاحب رحمه الله نے (ایک سائل کے سوال پر کہ حضور ﷺ نے تمام صحابہ کرام کا نکاح مسجد میں کیا ہے) ارشاد فرمایا: مجھے اس کی تحقیق نہیں، البتہ فقہاء نے لکھا ہے کہ عقد نکاح مسجد میں کرنا مستحب ہے، پھر فرمایا کہ حضور ﷺ کے زمانے میں اس کا اہتمام نہ ہوتا تھا (کہ نکاح مسجد میں ہو) کتبِ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف
رضي الله عنه
کا نکاح حضور اقدس ﷺ نے نہیں پڑھایا بلکہ آپ کو اس کا علم بھی بعد میں ہوا، اسی طرح حضرت جابر
رضي الله عنه
کے نکاح کا علم بھی حضور اقدس ﷺ کو جہاد سے واپسی پر ہوا، پس اگر مسجد میں نکاح کا اہتمام ہوتا تو حضور اقدس ﷺ کو ضرور ان نکاحوں کا علم ہوتا ۔ (ملفوظاتِ حضرت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی رحمه الله، ص
۳۰
) ۔
مولانا خالد سیف اللہ رحمه الله لکھتے ہیں: جہاں تک خود آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے نکاح کی بات ہے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے تو آپ ﷺ کا نکاح مکی زندگی میں ہوا، جس کے مسجد میں ہونے کا سوال ہی نہیں تھا ۔
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح حبش میں حضرت خالد بن سعید بن عاص رضي الله عنه کی وکالت سے ہوا، اس لیے اس میں بھی اس کا امکان نہیں تھا ۔
حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح غزوۂ خیبر سے واپسی میں ہوا، حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت زینب بن خزیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے آپ ﷺ کا نکاح مدینہ میں ہوا، ان حضرات کے نکاح کی بابت حدیث و سیرت کی کتابوں میں تفصیل نہیں ملتی، کہ کہاں نکاح ہوا تھا؟ یہی حال آپ ﷺ کی بناتِ طاہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے واقعاتِ نکاح کا ہے، میں نے اصابہ، اسدالغابہ، طبقات ابن سعد اور اکثر اہم کتب سیرت و رجال سے رجوع کیا مگر مجلس نکاح کی بابت پتا نہ چل سکا، کہ یہ مسجد میں ہوا، یا مسجد سے باہر ہوا ۔ (کتاب الفتاوی:
٤
/
۲۷٤
) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.