مساجد میں ذکر جہری کا حکم:
Question
آج کل بعض حضرات مساجد میں ذکر جہری پر تنقید کرتے ہیں اور اس کو بدعت کہتے ہیں شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟
Answer
ذکر جہری و اجتماعی مسجد میں شرعاً جائز ہے اور ہمارے اکابر کا اس پر عمل درآمد ہے ۔
چند احادیثِ مرفوعہ کا ترجمہ اور خلاصہ پیش خدمت ہے:
(۱) قال النبي ﷺ: أناْ عند ظن عبدي بي وأناْ معه إذا ذكرني فإن ذكرني في نفسه ذكرته في نفسي وإن ذكرني في ملأ ذكرته في ملأ خير منهم، الحديث. (رواه البخاري برقم ٦۸۵٦).
حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ حق تعالیٰ شانہ ارشاد فرماتے ہیں میں بندہ کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہوں جیسا کہ وہ میرے ساتھ گمان رکھتا ہے، اور جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں، جب وہ مجھے اکیلا یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اکیلا یاد کرتا ہوں، اور اگر وہ مجھے جماعت میں یاد کرتا ہے تو میں اس کو اس کی جماعت سے بہتر جماعت میں یاد کرتا ہوں ۔ جماعت میں یاد کرنا جہری اور سری دونوں کو شامل ہے بلکہ بقول علامہ سیوطی کے جماعت کا فائدہ جہر میں ظاہر ہوتا ہے ۔
یہاں فی نفسہ کا مطلب اکیلا ہے کیوں کہ اس کے مقابلہ میں جماعت ہے، اور فی نفسہ اکیلے کے معنی میں آتا ہے ۔ علامہ نووی رحمه الله شرحِ مسلم میں مذکورہ بالا حدیث کی شرح کرتے ہوے فرماتے ہیں:
مراد الحديث أي إذا ذكرني خالياً أثابه الله وجازاه عما عمل بما لا يطلع عليه أحد. (شرح النووي: ۲/۳٤۱).
علم نحو میں اسم کی تعریف یوں کرتے ہیں: "
كلمة تدل على معني في نفسه غير مقترن بأحد الأزمنة الثلاثة"
یعنی اسم وہ کلمہ ہے جو اکیلے اپنے معنی پر دلالت کرے، بخلاف حرف کے کہ اس کو معاون کی ضرورت ہے، مثلاً من ابتدائے جزئی پر مدخول کے بغیر دلالت نہیں کرتی اور ابتدائے کلی اسم کے معنی ہیں ۔
صاحبِ کشاف علامہ زمخشری رحمه الله نے
﴿قل لهم في أنفسهم قولاً بليغاً﴾
کی تفسیر
"خالياً بهم"
سے فرمائی ہے ۔
"قال النبي ﷺ: إذا صلي أحدكم لنفسه فليطل ما شاء"
یعنی جب کوئی اکیلے نماز پڑھے تو جتنی تطویل چاہے کر لے ۔ اسی طرح آیتِ کریمہ
﴿واذكر ربك في نفسك تضرعاً وخيفة ودون الجهر من القول بالغدو والآصال﴾ (سورة الأعراف: ۲۰۵)
کا ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب اکیلے ہو تو خالی بیٹھنے سے کیا فائدہ اس لیے اللہ تعالیٰ کا ذکر عاجزی اور خوف کے ساتھ کیا کرو ۔ وہاں اور تو کوئی نہیں لیکن اللہ تعالیٰ ہے ہاں اگر جہر کرنا ہو تو بہت زیادہ جہر سے کم جہر کیا کریں، کیوں کہ دوسرے ساتھ موجود نہیں کہ ان کی ترغیب مقصود ہو لہذا ہلکا جہر کافی ہے ۔ دوسرے معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو دل میں عاجزی اور خوف کے ساتھ یاد کریں ۔ یا تلفظ کر کے بہت جہر سے کم جہر کے ساتھ یاد کریں ۔
قال الإمام: المراد أن يقع الذكر متوسطاً بين الجهر والمخافتة والمراد بالجهر رفع الصوت المفرط وبما دونه نوع آخر من الجهر. (روح المعاني: ۹/۱۵٤).
وقال الشيخ عبد الرحمن السعدي المتوفي۱۳۷٦: في نفسه أي مخلصاً خالياً. (تيسير الكريم الرحمن في تفسير كلام المنان، ص ۲۷٦).
وقال ابن عطية الأندلسي: الجمهور على أن الذكر لا يكون في النفس ولا يراعي إلا بحركة اللسان. (تفسير ابن عطية، ص ۷۷۳).
(
۲
) جب تم جنت کے باغیچوں سے گزرو تو وہاں چر لیا کرو، صحابہ نے دریافت کیا ریاض الجنہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مساجد، چرنا کیا ہے یا رسول اللہ؟ فرمایا سبحان اللہ و الحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ۔
(
۳
) جو لوگ ذکر اللہ کے لیے جمع ہوتے ہیں تو آسمان سے ایک منادی اعلان کرتا ہے کھڑے ہو جاؤ تمہاری مغفرت ہو چکی اور تمہارے سیئات حسنات میں بدل دیے گئے ۔ (مجمع الزوائد: ۱۰/۷٦، و مسند احمد: ۳/۱٤۲، وغیرہ و فی اسنادہ میمون المرائی و ثقہ جماعۃ و فیہ ضعف) ۔
(
٤
) عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضي الله عنه نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ مجالس ذکر کا ثمرہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جنت ہے جنت ۔ (
مجمع الزوائد: ۱۰/۷٦، وإسناده حسن).
(
۵
) قیامت میں بعض لوگوں کے چہروں پر نور چمکتا ہو گا وہ موتیوں کے منبر پر ہوں گے لوگ ان پر رشک کرتے ہوں گے، کسی نے کہا یا رسول اللہ ان کا حال بیان کیجیے آپ ﷺ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی محبت میں مختلف خاندانوں سے ایک جگہ جمع ہوں گے اور ذکر اللہ میں مشغول ہوں گے ۔ (
مجمع الزوائد: ۱۰/۷٦).
(
٦
) اللہ تعالیٰ کے کچھ بہترین فرشتے مجالس ذکر کی تلاش میں رہتے ہیں جب ایسی مجلس میں پہنچتے ہیں تو ان کے ساتھ بیٹھتے ہیں اور ان کو اپنے پر وں سے ڈھانپ لیتے ہیں مجلس کے ختم ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ جاننے کے باوجود پوچھتے ہیں تم کہاں سے آئے ہو وہ کہتے ہیں اس جماعت کے پاس سے آئے ہیں، جو تیری بڑائی میں مشغول تھی ۔ (بخاری شریف: ۲/۲٤۸) ۔
(
۷
) رسول اللہ ﷺ صحابہ کرام کے ایک حلقہ کے پاس تشریف لائے، فرمایا کس بات نے تم کو بٹھایا؟ کہنے لگے ذکر کی مجلس میں بیٹھے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا جبرئیل امین میرے پاس آئے اور یہ خبر سنا گئے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری وجہ سے فرشتوں پر فخر فرما رہے ہیں ۔
(
۸
) حضرت جابر رضي الله عنه فرماتے ہیں کچھ لوگوں نے مقبرہ میں روشنی اور آگ دیکھی جب وہاں آئے تو دیکھا رسول اللہ ﷺ مقبرہ میں ہیں اور فرما رہے ہیں اس صحابی کا جسد میرے ہاتھوں میں دے دو یہ وہ صحابی رضي الله عنه تھے جو بلند آواز سے ذکر کر رہے تھے ۔ (ابو داود: ۲/٤۵۱) ۔
مذکورہ بالا روایات اور ان جیسی دیگر بہت ساری روایات سے اجتماعی اور جہری ذکر کا ثبوت ملتا ہے فقہ کی کتابوں میں جہری ذکر کا جواز اور کہیں استحباب مرقوم ہے ۔
حضرت مفتی محمود الحسن گنگوہی رحمہ اللہ تعالیٰ سے ایک سائل نے جہری ذکر کے بارے میں سوال کیا، سوال اختصار کے پیش نظر حذف کیا جاتا ہے، تو انہوں نے تحریر فرمایا آپ اپنے دوستوں سے کہاں لڑائی کریں گے آپ ہلکی آواز سے تنہائی میں ذکر کر لیا کریں جس سے کسی سونے والے نماز پڑھنے والے وغیرہ کو تشویش نہ ہو باقی ذکر جہری کا ثبوت خود اذان خطبہ اور تکبیر تشریق سے ہے ۔
أجمع العلماء سلفاً وخلفاً على استحباب ذكر الله تعالى في المساجد وغيرها من غير نكير إلا أن يشوش جهرهم على نائم أو مصل أو قارئ كما هو مقرر في كتب الفقه. (الحموي على الأشباه: ۲/۲۳٤، وكذا في الشامي: ۱/٦٦۰، سعيد).
دوسرا یہ ذکر بطورِ علاج ہے اس کے لیے اتنا کافی ہے کہ اصول شرع کے خلاف نہ ہو جیسے طبیب و ڈاکٹر کے معالجات میں ۔ (تربیت الطالبین، ص۵۹) ۔
ایک اور سوال کے جواب میں فرماتے ہیں حضرت شاہ عبد الرحیم ولایتی رحمۃ اللہ علیہ ایک پہاڑی پر بیٹھ کر ذکر کیا کرتے تھے دور دور تک ان کی آواز جاتی تھی حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمه الله اپنی اخیر حیات تک ذکر جہری کرتے تھے حجرے کا کواڑ بند کر دیتے تھے کوئی شخص باہر دروازہ پر ہوتا تو اس کو آواز سنائی دیتی تھی حضرت مولانا محمد الیاس صاحب جب تک صاحبِ فراش نہیں ہوئے تھے اس وقت تک ذکر جہری کرتے تھے، ذکر جہری سری انفرادی اجتماعی سب جائز ہے ۔ (سلوک و احسان ارشادات فقیہ الامت، ص۳٤۳، مرتب مولانا مفتی فاروق صاحب) ۔
حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمه الله کے حالات میں تذکرۃ الرشید میں مذکور ہے: آخر خود ہی اٹھے وضو کیا اور مسجد میں تشریف لائے ایک گوشہ میں آنحضرت یعنی حاجی امداد اللہ رحمہ اللہ اپنے کام میں مشغول تھے دوسرے گوشہ میں آپ جا کر کھڑے ہوئے بنیت تہجد نوافل ادا کی اور ذکر نفی و اثبات بالجہر شروع کر دیا، پھر فرماتے ہیں آخر کار میں نے ذکر بالجہر شروع کیا گلا اچھا تھا، بدن میں قوت تھی صبح کو جب حاضر خدمت ہوا تو حضرت فرمانے لگے کہ تم نے تو ایسا ذکر کیا جیسے کوئی بڑا مشاق کرنے والا ہو اس دن سے جہر بالذکر کے ساتھ مجھے محبت ہو گئی پھر کبھی چھوڑنے کو جی نہیں چاہا اور نہ کوئی وجہ شرعی اس کی ممانعت کی معلوم ہوئی ۔ (تذکرۃ الرشید: ٤۸، ٤۹) ۔
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمه الله نے امداد الفتاوی جلد پنجم میں ذکر جہری و اجتماعی کے بارے میں ایک مفصل فتویٰ تحریر فرمایا ہے اس میں حضرت تحریر فرماتے ہیں: راقم کی رائے ناقص میں قول مجوزین "جو جہر کو جائز سمجھتے ہیں" صحیح اور ان میں مفصلین "یعنی جو موقع کے لحاظ سے بعض مواقع میں جہر کو افضل کہتے ہیں اور بعض مواقع میں خفی کو بہتر کہتے ہیں" راجح معلوم ہوتا ہے، کہ سب آیات و احادیث و اقوال علماء کے جمع ہو جاتے ہیں "ان خیر الأمور أعدلہا" پس بعد ثبوتِ مشروعیتِ جہر کسی طور و ہیئت کے ساتھ مقید نہیں بلکہ بوجہ اطلاق ادلہ مطلق ہے خواہ منفرد ہو یا مجتمع حلقہ باندھ کر ہو یا صف باندھ کر یا کسی اور صورت سے کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر ہر طور سے جائز ہے، اس کے بعد بعض عربی عبارات نقل فرمانے کے بعد تحریر فرمایا پس ثابت ہوا کہ ذکر جہر ہر طور سے جائز ہے کسی کو کسی طور سے منع نہ کریں یہی ارجح و اصح ہے ۔ (امداد الفتاوی: ۵/۱۵۱تا۱۵٤) ۔
نیز حضرت کے نزدیک یہ ذکر جہری اجتماعی مسجد میں بھی جائز ہے کیوں کہ اسی فتویٰ میں حضرت نے مجوزین کے دلائل میں نقل فرمایا:
قال الله تعالى: ﴿ومن أظلم ممن منع مسجد الله أن يذكر فيها اسمه وسعي في خرابها﴾
ظاہر ہے کہ منع ذکر بدون اطلاع ذکر ممکن نہیں اور اطلاع بدون جہر غیر متصور ہے، (امداد الفتاوی: ۵/۱۵۲) ۔
حاصل یہ ہے کہ جب مسجد میں ذکر جہری جائز ہے اور حضرت کے یہاں ذکر جہری اجتماعی انفرادی حلقہ اور صف میں ہر طرح جائز ہے تو مسجد میں ذکر جہری اجتماعی لامحالہ جائز ہوا ۔
حضرت مولانا شیخ محمد یونس شیخ الحدیث مظاہر العلوم سہارنپور جو علم حدیث و دیگر علوم میں اعلی مقام کے حامل ہیں، وہ الیواقیت الغالیۃ میں تحریر فرماتے ہیں: اجتماعی ذکر میں صورتِ اجتماعیہ مطلوب نہیں ہے، بلکہ اجتماع کی وجہ سے ایک دوسرے کو دیکھ کر رغبت و شوق پیدا ہونا مقصود ہے اور مزید یہ ہے کہ بعض مشائخ ذکر کے وقت قلب مرید کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تاکہ طبیعت لگ جاوے، اور مرشد کی معیت میں سب کا ایک ساتھ ذکر کرنا مرشد کی توجہ کی تحصیل میں معین ہے پھر چند سطور کے بعد تحریر فرماتے ہیں حضرت ابن مسعود رضي الله عنه کی نکیر ممکن ہے کسی خاص امر کی بنا پر ہو، مثلاً وہ لوگ اس کو ضروری سمجھتے ہو ۔ (
اليواقيت الغالية: ۲/٤۱۸).
حضرت ابن مسعود رضي الله عنه کی روایت جس میں حلقہ ذکر پر نکیر وارد ہے ایک موقوف روایت ہے جو مرفوع روایت کے مقابلہ میں مرجوح ہے، مثلاً ایک حدیث لکھ لیتا ہوں ۔
لا يقعد قوم يذكرون الله إلا حفت هم الملائكة وغشيت هم الرحمة ونزلت عليهم السكينة وذكر الله فيمن عنده. (رواه مسلم، باب فضل الاجتماع على تلاوة القرآن وعلى الذكر.
نیز ابن مسعود
رضي الله عنه
کی روایت مضطرب ہے، دارمی کی روایت میں نماز فجر سے پہلے کا واقعہ ہے اور طبرانی کی معجم کبیر میں مغرب سے عشاء تک کا واقعہ ہے دارمی کی روایت میں مسجد کا واقعہ اور مصنف عبد الرزاق میں الی البریۃ صحراء کا ذکر ہے، دارمی کی روایت میں ہے کہ ایک شخص پڑھتا ہے اور دوسرے اس کی اتباع میں پڑھتے تھے، اور طبرانی کی روایت میں کہ سب ایک ساتھ پڑھ رہے تھے بعض روایات میں ہے کہ ان کو نکال دیا کما فی الطبرانی اور دوسری روایت میں ہے کہ دو جماعتوں کو ایک بنا دیا یہ سب اضطرابات حدیث کے ضعف کے دلائل ہیں، نیز دارمی کے علاوہ تمام طرق ضعیف ہیں، باقی رہی دارمی کی سند تو اس میں عمرو بن یحیی ہے اگر چہ ابن معین نے ابتدا میں اس کی توثیق کی لیکن بعد میں جب دیکھ لیا تو تضعیف فرمائی اور کہا "لیس حدیثہ بشيء، قد رأیتہ، و قال مرۃ: لم یکن یرضی" اگر چہ ابن معین کبھی کبھی "لیس بشيء، قلیل الحدیث" کو کہتے ہیں: "کما فی الرفع والتکمیل، ص ۱۵۳، و قواعد في علوم الحدیث، ص ۲٦۳، و تعلیق الرفع والتکمیل، ص ۲۱۵، و مقدمۃ التحقیق لسنن ابن ماجۃ للدکتور بشار عواد" لیکن یہاں لیس بمرضی کے الفاظ ہیں نیز جب راوی پر جرح و تعدیل دونوں مذکور ہو اور تقدیم و تاخیر معلوم نہ ہو تو وہ روایت مقبول نہیں بلکہ اس میں توقف کیا جائے، حوالوں کی تفصیل ہماری کتاب ۔ "ذکر جہری و اجتماعی شریعت کے آئینہ" از ص
۱۲۵
تا
۱۳۱
، میں ملاحظہ کیجیے ۔
بعض حضرات یہ اشکال کرتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ رحمه الله کے نزدیک جہر بالذکر منصوص جگہوں کے علاوہ بدعت ہے، لیکن شامی رحمه الله نے شرح المنیۃ الصغیر سے نقل فرمایا کہ اختلاف افضلیت میں ہے ۔
وفي شرح المنية الصغير: ويوم الفطر لا يجهر به عنده وعندهما يجهر وهو رواية عنه والخلاف في الأفضلية أما الكراهة فمنتفية عن الطرفين. (فتاوى الشامي: ۲/۱۷۰، سعيد).
طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:
قال الحلبي: والذي ينبغي أن يكون الخلاف في استحباب الجهر وعدمه لا في كراهية وعدمها فعندهما يستحب وعنده الإخفاء أفضل وذلك لأن الجهر قد نقل عن كثير من السلف كابن عمر رضي الله عنه وعلى رضي الله عنه وأبي أمامة الباهلي رضي الله عنه والنخعي رحمه الله وابن جبير رحمه الله وعمر بن عبد العزيز رحمه الله وأبي ليلي رحمه الله وأبان بن عثمان رحمه الله والحكم رحمه الله وحماد رحمه الله ومالك رحمه الله وأحمد رحمه الله وأبو ثور رحمه الله ومثله عن الشافعي رحمه الله ذكره ابن المنذر رحمه الله في الاشراف. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ۵۳۱. وشرح منية المصلي، الكبير، ص ۵٦۷، سهيل).
اور جو حضرات جہر کو افضل کہتے ہیں وہ اس وجہ سے کہ اس میں مزہ آتا ہے اور دل لگتا ہے اور دوسرے فوائد حاصل ہوتے ہیں تو اس کی افضلیت دوسری وجوہات کی وجہ سے ہے، ورنہ فی نفسہ اکثر حضرات کے ہاں ذکر سری بہتر ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.