ذکر جہری یعنی اللہ اللہ کرنے کا حکم:

5 min readFatwa Vol 1 #200Urdu
Vol. 1كتاب السلوك والطريقةباب ٢: اذکار و وظائف اور ادعیہ کا بیان

Question

بعض حضرات ذکر جہری یعنی صوفیہ حضرات کا اللہ اللہ پڑھنے کو بدعت یا بے دلیل و بے ثواب سمجھتے ہیں کیا یہ بات درست ہے؟

Answer

کفایت المفتی میں ہے:
ذکر جلی جائز ہے اور مشائخ صوفیہ کا معمول و متوارث ہے احادیث کثیرہ سے اس کا ثبوت ہوتا ہے جن مواقع میں شریعت نے خود ذکر جلی مقرر فرمایا ہے اس کے اندر تو کوئی کلام ہی نہیں کر سکتا جیسے اذان، تکبیر، تلبیہ، حج، تکبیر، تشریق وغیرہ کہ یہ سب اذکار ہیں اور جہر سے ثابت ہیں ۔ ہاں جن مواقع میں کہ شریعت سے ثبوت نہیں وہاں اگر کوئی وجہ عارضی مانع نہ ہو تو نفس حکم یہی ہے کہ کسی سونے والے کو تکلیف ہو یا کسی نماز پڑھنے والے کی نماز میں خلل پڑتا ہو یا ذکر کرنے والا جہر کو ضروری یا لا زم سمجھے وغیرہ ۔ اور جہاں یہ موانع موجود نہ ہوں وہاں ذکر جلی جائز مگر ذکر خفی اولی ہے ۔ (
كفاية المفتي: ۲/۷۷).

فتاوی محمودیہ میں ہے:
فی نفسہٖ ذکر اللہ بہت مبارک ہے، قرآن کریم اور حدیث شریف میں اس کی کثرت سے ترغیب آئی ہے ۔ جو کلمات سوال میں مذکور ہیں (سبحان اللہ، الحمد للہ، لا الہ الا اللہ) ان کی بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے ۔ ان کو آہستہ اور جہر سے پڑھنا ہر طرح ٹھیک ہے ۔ مگر مناسب یہ ہے کہ ان کو آہستہ پڑھا جائے ۔ (فتاوی محمودیہ:
۱۵
/
۱۰۲
) ۔
نیز مذکور ہے:

أما الذكر في قوله تعالى: ﴿فإذا قضيتم الصلاة فاذكروا الله قياماً وقعوداً وعلى جنوبكم﴾ هو الصلاة، ولكنه على أحد الوجهين أما الذكر بالقلب وهو الفكر في عظمة الله تعالى وجلاله وقدرته في خلقه وصنعه من الدلائل عليه وحكمه وجميل صنعه والذكر الثاني: الذكر باللسان بالتعظيم والتسبيح والتقديس وروي عن ابن عباس رضي الله عنهما قال أحد في ترك الذكر ألا تعلو بأعلى عقله. (أحكام القرآن ۲/۳۲۳) قال أبو سعود في قوله تعالى: ﴿فاذكروا الله قياماً وقعوداً وعلى جنوبكم﴾ أي فداوموا على ذكر الله تعالى وحافظوا على مراقبته ومناجاته ودعائه في جميع الأحوال حتى في حال المسابقة والقتال كما في قوله تعالى: ﴿إذا لقيتم فئة فاثبتوا واذكروا الله كثيراً لعلكم تفلحون﴾ (تفسير أبي السعود:
۳
/
۹
). (
فتاوی محمودیہ:
٦
/
۳۹
) ۔
امداد الفتاوی میں ہے:
تحقیق ذکر الا اللہ:
سوال: چہ می فرمایند علماء دین و مفتیان شرع متین دریں مسئلہ کہ ذکر بآوازِ بلند محض الا اللہ کردن اعنی خواندن جائز است یا نہ امید وارم کہ بعد توجیہ بلیغ فتوی مدلل و محقق بآیات کلام مجید یا حدیث شریف ارتسام کردہ ارسال فرمایند باعثِ اجر عظیم خواہد شد، مکرر آنکہ اختصاص آواز بلند بالخصوص ومقصود نیست محض استفسار ذکر جائز بودن و ناجائز مطلوب است ۔
جواب: جائز است زیرا کہ غایتش حذف مستثنیٰ منہ وعامل است وآں عندالقرینہ در کلام افصح العرب والعجم ﷺ مثل حذف مستثنیٰ وارد است،
أما حذف المستثنى فما اخرج ابن ماجة عن ابن عباس رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ كذلك لا يجتني من قربهم إلا قال محمد بن الصباح كانه يعني الخطايا كذا في المشكاة وقع كلامه ﷺ بلا ذكر المستثنى لكمال ظهوره فالحقه محمد كذا

في المرقاة أما حذف المستثنى منه فما أخرج الشيخان عن ابن عباس فقال العباس يا رسول الله إلا الإذخر فانه لقينهم ولبيوتهم فقال إلا إلا

ذخر الحديث
ودر مبحوث فیہ قرینہ ظاہر است گاہی قالاً ہر گاہ قبل ازیں ذکر لا الہ الا اللہ کردہ باشد گاہی حالاً لدلالۃ حالۃ المسلم علی اعتقاد نفی الوہیۃ الغیر واللہ تعالی اعلم ۔ (امداد الفتاوی
۵
/
۲۲۳
،
۲۲٤
) ۔
معارف القرآن میں ہے:

﴿واذكر اسم ربك﴾
اس آیت کریمہ میں ذکر اللہ کے حکم کو لفظ اسم کے ساتھ مقید کر کے واذکر اسم ربک فرمایا ہے واذکر ربک نہیں فرمایا اس میں اشارہ اس طرف نکلتا ہے کہ اسم رب یعنی اللہ اللہ کا تکرار بھی مطلوب و مأمور بہ ہے ۔ (مظہری) بعض علماء نے جو صرف اسم ذات اللہ اللہ کے تکرار کو بدعت کہ دیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ اس کو بدعت کہنا صحیح نہیں ۔ (معارف القرآن
۸
/
۵۹٤
) ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: ذکر اجتماعی و جہری شریعت کے آئینہ میں ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.