عیب پوشیدہ رکھ کر فروخت کرنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 5 #12Urdu
Vol. 5كتاب البيوعباب (۱، ۲، ۳): جائز اور ناجائز خرید و فروخت کے احکام

Question

سعید موٹر سائیکل خریدنا چاہتا ہے احمد کے پاس ایک موٹر سائیکل ہے اور وہ بہت کم قیمت کی ہے، سعید نے پوچھا کہ اس میں کوئی خرابی ہے؟ احمد نے بتایا کوئی خرابی نہیں ہے اور اس کی خوبیاں بیان کی سعید نے احمد پر اعتماد کر کے کم قیمت میں خرید لی پھر اس میں خرابی پائی، نیز سعید نے میکینک سے دریافت کیا اس نے بتایا کہ احمد کو معلوم تھا، ٹھیک کرانے کی کوشش بھی کی لیکن نہ ہو سکی، اب سوال یہ ہے کہ پوچھنے کے باوجود مبیع کے عیب کو نہ بتانا درست ہے یا نہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے اس بارے میں کیا فرمایا؟

Answer

مبیع کے عیب کو چھپانا ناجائز ہے، رسول اللہ ﷺ نے ایسے شخص کے بارے میں فرمایا جو ہم کو دھوکا دے وہ ہم میں سے نہیں، لہذا احمد کے لیے ایسا کرنا ناجائز ہے، اب سعید کو اختیار ہے اگر راضی نہیں ہے تو واپس کر دے، ہاں اگر سعید نے عیب پر رضامندی ظاہر کی ہے تو اب واپس نہیں کر سکتا ۔
ترمذی شریف میں ہے:

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ مر على صبرة من طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللاً، فقال: يا صاحب الطعام ما هذا؟ قال: أصابته السماء يا رسول الله! قال: أفلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس، ثم قال: "من غش فليس منا". قال المحشي: أي ليس من أخلاقنا ولا على سنتنا، قال أبو عيسى: والعمل على هذا عند أهل العلم كرهوا الغش وقالوا: الغش حرام. (ترمذي شريف مع الحاشية: ۱/۲٤۵، باب ما جاء في كراهية الغش في البيوع).
وفي الدر المختار: لا يحل كتمان العيب في مبيع أو ثمن لأن الغش حرام. (الدر المختار: ۵/٤۷، سعيد).
وقال في المبسوط: قال: اشتره فإنه لا عيب به ثم وجد به عيباً كان له أن يخاصم فيه بائعه. (المبسوط للإمام السرخسي رحمه الله: ۱۳/۹۲، باب العيوب في البيوع، إدارة القرآن).

ہدایہ میں ہے:

وإذا اطلع المشتري على عيب في المبيع فهو بالخيار إن شاء أخذه بجميع الثمن وإن شاء رده. (الهداية: ۳/٤۰، باب خيار العيب).

جدید معاملات کے شرعی احکام میں ہے:
دکان میں کوئی عیب دار چیز ہو تو گاہک کو عیب پر مطلع کیے بغیر فروخت کرنا سخت گناہ ہے ۔

لقوله عليه السلام: من باع معيباً لم ينبه لم يزل في لعنت الله ويلعنه الملائكة.

یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: کہ جس نے گاہک کو بتائے بغیر عیب دار چیز فروخت کر دی وہ ہمیشہ اللہ تعالی کے غضب اور فرشتوں کی لعنت میں گرفتار رہے گا، ایسا شخص فاسق ہو جاتا ہے، بعد میں عیب پر مطلع ہونے کی صورت میں خریدار کو مال واپس کرنے کا حق ہوگا ۔ (جدید معاملات کے شرعی احکام: ۱/۸۷ ۔ و کذا فی عطر الہدایہ، ص ۱۰۵) ۔
احسن الفتاوی میں ہے:
مبیع کا عیب چھپانا حرام ہے ۔ (احسن الفتاوی: ٦/٤۹۳) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.