تولیدی جوہر کی تجارت کا حکم:

11 min readFatwa Vol 5 #57Urdu
Vol. 5كتاب البيوعباب (۱، ۲، ۳): جائز اور ناجائز خرید و فروخت کے احکام

Question

موجود ہ زمانے میں اچھی نسلوں والے نر جانوروں کا مادۂ منویہ بازار میں فروخت ہوتا ہے لوگ اس کو خریدتے ہیں، اور اپنے مادہ جانوروں میں مخصوص طریقہ سے پہنچاتے ہیں جس کے نتیجہ میں اچھی نسل والا جانور حاصل ہوتا ہے، کیا اس طرح مادۂ منویہ کی خرید و فروخت درست ہے یا نہیں؟

Answer

شریعتِ مطہرہ نے بنی نوع انسانی کو نسب کے شرف سے نوازا ہے اور اس کو بڑی اہمیت بخشی ہے، اختلاط نسب سے مکمل طور پر بچایا ہے، لیکن حیوانات میں نسب کے لحاظ کو اہمیت نہیں دی، بایں وجہ جانوروں کی حلت و حرمت کے مسئلہ میں ماں کو اصل قرار دیا ہے، بنا بریں تولیدی جوہر مادہ جانور کے رحم میں پہنچا کر جودت نسل اور افزائش نسل کے مقصد کے حصول کے لیے استعمال کرنا فی نفسہ مباح اور ایک جائز انتفاع ہے اور ایک گنا اس کی حاجت بھی ہے، نیز اس کا عرف ہو گیا ہے آج کل وسیع پیمانے پر اس کی خرید و فروخت ہوتی ہے، لہذا مال متقوم کی حیثیت اختیار کر لینے کی وجہ سے اس کی تجارت کی گنجائش نکلتی ہے ۔
نیز شریعتِ مطہرہ میں تجارت کے لیے مبیع کا مال متقوم اور قابل انتفاع ہونا اولین شرائط میں ہے ۔ اور مال متقوم قابل انتفاع ہونے کے لیے پہلی چیز عرف و عادت ہے ۔
شرح مجلہ میں ہے:

وشرط المعقود عليه ستة، كونه موجوداً، مالاً متقوماً مملوكاً في نفسه وكون الملك للبائع فيما يبيعه لنفسه وكونه مقدور التسليم. (شرح المجلة للأتاسي، الباب الثاني، ۲/۸۷).
بدائع الصنائع
میں ہے:

وأما الذي يرجع إلى المعقود عليه فأنواع منها أن يكون موجوداً فلا ينعقد بيع المعدوم

ومنها أن يكون مالا لأن البيع مبادلة المال بالمال

ومنها أن يكون مملوكاً لأن البيع تمليك فلا ينعقد فيما ليس بمملوك. (بدائع الصنائع: ۵/۱۳۸، سعيد).
الفقه الإسلامي
میں ہے:

وأما ما يشترط في المعقود عليه أي المبيع فهو أربعة شروط: (۱) أن يكون المبيع موجوداً (۲) أن يكون المبيع مالا متقوماً (۳) أن يكون مملوكاً في نفسه (٤) أن يكون مقدور التسليم عند العقد. (الفقه الإسلامي وأدلته: ٤/۳۵۷، دار الفكر).

رد المحتار میں ہے:

المراد بالمال ما يميل إليه الطبع ويمكن ادخاره لوقت الحاجة، والمالية تثبت بتمول الناس كافة أو بعضهم، والتقوم يثبت بها وبإباحة الانتفاع شرعاً. (رد المحتار: ٤/۵۰۱، مطلب في تعريف المال، سعيد).

بعض علماء نے فرمایا کہ بیع کے جواز کی اصل علت مبیع کا قابل انتفاع ہونا ہے ۔

قال في الدر المختار: والحاصل أن جواز البيع يدور مع حل الانتفاع. (الدر المختار: ۵/٦۹، سعيد).

فتاوی ہندیہ میں ہے:

والصحيح أنه يجوز بيع كل شيء ينتفع به كذا في التتارخانية. (الفتاوى الهندية: ۳/۱۱٤).

الفقہ الاسلامی میں ہے:

والضابط عندهم: أن كل ما فيه منفعة تحل شرعاً، فإن بيعه يجوز، لأن الأعيان خلقت لمنفعة الإنسان بدليل قوله تعالى: ﴿خلق لكم ما في الأرض جميعاً﴾. (الفقه الإسلامي وأدلته: ٤/۱۸۲، دار الفكر).

حلال حرام میں ہے:
خرید و فروخت کے جائز ہونے نہ ہونے کا خاص تعلق کسی چیز کے قابل انتفاع ہونے اور نہ ہونے سے بھی ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جن چیزوں کی خرید و فروخت کی ممانعت کتاب و سنت سے صراحۃً نہ ثابت ہو اور وہ کسی دور میں اس لائق ہو جائے کہ اس سے نفع اٹھایا جا سکے تو فقہاء اس کی خرید و فروخت کو جائز قرار دیتے ہیں ۔ (حلال و حرام، ص ۳۵۵) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ عرفاً مال ہونے کی وجہ سے اس کی تجارت جائز ہونی چاہیے ۔
اشکال اور جواب:
اشکال: لیکن اس پر اشکال وارد ہوتا ہے کہ مادۂ منویہ ناپاک ہے، اور ناپاک چیز کی تجارت کیسے جائز ہو گی؟
الجواب: اس کا جواب یہ ہے کہ فقہاء کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ بیع کے جواز کا مدار پاک ہونے پر ہی نہیں، بلکہ اصل قابل انتفاع ہونا ہے اگر ناپاک چیز قابل انتفاع بن جائے اور لوگوں کی حاجت اس سے وابستہ ہو جائے تو اس کی بیع جائز ہے، مثلاً گوبر وغیرہ ناپاک ہے، لیکن منتفع بہ ہونے کی وجہ سے اس کی بیع جائز ہے نیز کیڑے مکوڑے کی بیع متقدمین فقہاء کے نزدیک خبائث میں سے ہونے کی وجہ سے ناجائز تھی، لیکن متأخرین فقہاء نے منتفع بہ ہونے کی وجہ سے جائز قرار دیا ہے ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

بخلاف غيرهما من الهوام فلا يجوز اتفاقاً كحيات وضب وما في بحر سرطان إلا السمك وما جاز الانتفاع بجلده أو عظمه والحاصل أن جواز البيع يدور مع حل الانتفاع مجتبى واعتمده المصنف رحمه الله، وفي الفتاوى الشامية: قوله كحيات في الحاوي الزاهدي: يجوز بيع الحيات إذا كان ينتفع بها للأدوية، وما جاز الانتفاع بجلده أو عظمه أي من حيوانات البحر أو غيرها

ونقل السائحاني عن الهندية: ويجوز بيع سائر الحيوانات سوى الخنزير وهو المختار، وعليه مشي في الهداية وغيرهما من باب المتفرقات. (الدر المختار مع فتاوى الشامي: ۵/٦۸، مطلب في بيع دودة القزمر، سعيد)
وفي تقريرات الرافعي: يجوز بيع الحيات هو وإن كان فيه نفع إلا أنه يحرم أكلها فليحرر حموي، سندي. (التحرير المختار: ۵/۱٤۱، سعيد).

محقق ابن ہمام رحمه الله فرماتے ہیں:

قال العلامة ابن الهمام رحمه الله بعد ذكر سؤال يرد على المصنف رحمه الله: وهذا السؤال ليس في تقرير المصنف رحمه الله ما يرد عليه أولاً ليحتاج إلى الجواب عنه، فإنه ما علل المنع إلا بعدم الانتفاع به، وإنما يرد على من علل بالنجاسة، ولا ينبغي أن يعلل بها بطلان البيع أصلاً، فإن بطلان البيع دائر مع حرمة الانتفاع وهي عدم المالية، فإن بيع السرقين جائز وهو نجس العين للانتفاع به كما ذكرنا. (فتح القدير: ٦/٤۲۷، دار الفكر). وكذا في حاشية تبيين الحقائق للشيخ شهاب الدين احمد الشلبي: ۵/۵۱. ملتان).
وفي مجمع الأنهر شرح ملتقي الأبحر: وفي التجنيس أن المختار للفتوى جواز بيع لحم المذبوح من السباع وكذا الكلب والحمار لأنه طاهر ينتفع به في إطعام سنورة بخلاف الخنزير المذبوح لأنه نجس العين وفي التخصيص إشعار بعدم جواز هوام الأرض كالحية والعقرب ودواب البحر غير السمك كالضفدع والسرطان لأن جواز البيع يدور مع حل الانتفاع وحرمة الانتفاع بها، وقال بعضهم ان بيع الحية يجوز إذا انتفع بها للأدوية

وفي القهستاني لكن في البحر وبيع غير السمك من دواب البحر إن كان له ثمن كالسقنقور وجلود الخز ونحوها يجوز وإلا فلا. (مجمع الأنهر: ۳/۱۵۱، بيروت).

محیط برہانی میں ہے:

ولا يجوز بيع هوام الأرض كالحية والعقرب والوزغ وما أشبه ذلك، لأن الانتفاع بهذه الأشياء حرام ومحليته يعتمد جواز الانتفاع بها، ولا يجوز بيع ما يكون في البحر كالضفدع والسرطان وغيره إلا السمك، وما يجوز الانتفاع بجلده أو عظمه، والحاصل: أن جواز البيع يدور مع حل الانتفاع. (المحيط البرهاني: ۷/۲۹۹، فصل فيما يجوز بيعه ومالا يجوز، رشيدية).
وفيه أيضاً: ويجوز بيع السرقين والبعر والانتفاع بهما، وأما العذرة فلا يجوز الانتفاع بها ما لم يخلط بالتراب، ويكون التراب غالباً، وهذا لأن محلية البيع بالمالية، والمالية بالانتفاع، والناس اعتادوا الانتفاع بالبعر والسرقين من حيث الإلقاء في الأرض لكثرة الريع وأما ما اعتادوا الانتفاع بالعذرة ما لم يكن مخلوطاً بالتراب. (المحيط البرهاني: ۷/۳۰۲، فصل فيما يجوز بيعه ومالا يجوز بيعه).
وفي الهداية: قال: ولا باس ببيع السرقين لأنه منتفع به فكان مالاً والمال محل للبيع. (الهداية: ٤/٤٦۸، كتاب الكراهية، فصل في البيع).
وفي تبيين الحقائق: إن المسلمين تمولوا السرقين وانتفعوا به في سائر البلدان والأمصار من غير نكير. (تبيين الحقائق: ٦/۲٦، فصل في البيع، ملتان).

فقہ السنہ میں ہے:

واستثنى الأحناف والظاهرية كل ما فيه منفعة تحل شرعاً فجوزوا بيعه، فقالوا: يجوز بيع الأرواث والأزبال النجسة التي تدعو الضرورة إلى استعمالها في البساتين، وينتفع بها وقوداً وسماداً، وكذلك يجوز بيع كل نجس ينتفع به في غير الأكل والشرب. (فقه السنة، لسيد سابق، باب شروط العاقد، ۳/۵٤).

مذکورہ بالا عبارات کی روشنی میں واضح ہوتا ہے کہ خرید و فروخت کا مدار مالیت پر ہے اور مالیت انتفاع سے ثابت ہوتی ہے، اور انتفاع کے لیے اصل چیز لوگوں کا تعامل ہے، پس اس میں طہارت کی قید نہیں ہے، اسی وجہ سے فقہاء نے سرقین جو کہ نجس العین ہے قابل انتفاع ہونے کی وجہ سے اس کی تجارت کو جائز قرار دیا ہے ۔ بلکہ فقہاء نے اس بات کی بھی تصریح فرمائی ہے کہ اگر کوئی پاک چیز کسی وجہ سے منتفع بہ نہ ہو تو اس کی تجارت جائز نہیں ہے ۔
ملاحظہ امام محمد رحمه الله جامع صغیر میں فرماتے ہیں:

ولا يجوز بيع شعر الإنسان. وفي الشرح: لأن الإنسان مكرم فلا يجوز أن يكون منه شيء مبتذل وهو طاهر عندنا على الصحيح. (الجامع الصغير مع النافع الكبير، ص ۳۲۹، بيروت).
وفي المحيط: وشعر الآدمي طاهر ولا يجوز الانتفاع به. (المحيط البرهاني: ۷/۳۰۲). وكذا في البدائع: ۵/۱٤۲، سعيد).

خون کی تجارت بھی جائز نہیں ہے لیکن امداد الاحکام میں مرقوم ہے کہ اگر عرفاً قیمت ہو جائے تو بیع و شراء صحیح ہے ۔
ملاحظہ ہو امداد الاحکام میں ہے:
ان اقوال کا مقتضا یہ ہے کہ اگر کسی وقت خون کی بھی قیمت عرفاً ہو جائے تو اس کی بیع و شراء صحیح ہے ۔ (امداد الاحکام: ۳/۳۵۵) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ موجود ہ دور میں تولیدی جوہر کے مال متقوم ہونے کی وجہ سے اس کی تجارت کی گنجائش ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.