خنزیر کی کھال سے بنے ہوے جوتوں کی تجارت کا حکم:
Question
ہم جوتوں کے پر چوں فروش (Retailer) ہیں، یورپ وغیرہ کا سفر کر کے سامان خریدتے ہیں، وہاں پاپوش ساز پاپوش سازی میں خنزیر کے اجزاء استعمال کرتے ہیں، مثلاً جوتوں میں خنزیر کی کھال کا استر لگاتے ہیں، ہم ان کو بتلا دیتے ہیں کہ خنزیر کے استر دوسرے چمڑوں سے تبدیل کر دے، اور عام طور پر وہ اس طرح کر لیتے ہیں، الغرض ایک تاجر سے مال خریدا اور اس کو بتلا دیا تھا کہ استر بدل کر ہمیں پہنچا دے، ہم نے ثمن پیشگی بذریعہ بینک ادا کر دیا جب سامان ہمیں موصول ہوا اور معائنہ کیا تو تمام جوتے بدستور خنزیر کی کھال کے استر والے تھے، اب سامان واپس کرنا ممکن نہیں ہے، اور ثمن ادا ہو چکا ہے، مزید براں سامان پر واجبی ٹیکس وغیرہ بھی ادا کر دیا، اب ہم جوتوں کے ساتھ کیا کریں؟ برائے مہربانی حکم شرع سے مطلع فرمائیں کہ ہمیں اپنی رقم وصول کرنے کی کیا شکل ہو سکتی ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ خنزیر کے اجزاء سے تیار شدہ پاپوش کی بیع منعقد نہیں ہوئی، بلکہ یہ بیع باطل ہے، کیوں کہ خنزیر اپنے تمام اجزاء کے ساتھ نجس العین ہے، لہذا جوتوں کو واپس کرنا لازم اور واجب ہے، لیکن جب واپسی ناممکن ہے اور ثمن ادا ہو چکا ہے، تو اب حق وصول کرنے کی ایک شکل فقہاء کے کلام میں یہ دستیاب ہوتی ہے کہ کسی غیر مسلم کو وکیل بالبیع بنا دے اور اپنا حق وصول کر کے بقیہ رقم بلا نیت ثواب صدقہ کر کے مال حرام سے سبکدوش ہو جائے ۔
ملاحظہ فرمائیں فتاوی بینات میں ہے:
سوال: ہمارے ملک میں چائنا، اسپین اور دوسرے ممالک سے جوتے اور چمڑے کی مصنوعات آ رہی ہے، ان میں سور (خنزیر) کی کھال استعمال ہو رہی ہے بعض جوتے ریگزین کے بنے ہوے ہیں مگر ان کے اندر استر سور کی کھال کا ہے اور کچھ مکمل سور کی کھال کے بنے ہوے ہیں کیا یہ جوتے پہننا حرام ہے؟ کیا اس کی فروخت حرام ہے؟ جن دکاندار نے بھول سے کروڑوں روپے کا مال خرید لیا ہے، انھیں کیا کرنا چاہیے؟
الجواب باسمہ تعالی: خنزیر کے نجس العین ہونے میں کوئی شک نہیں فقہاء کرام نے اس کے تمام اجزاء کے استعمال اور ان کی خرید و فروخت کو حرام قرار دیا ہے، اور وہ اشیاء جن میں خنزیر کے اجزاء اور کھال وغیرہ شامل ہوں، اس کا بھی یہی حکم ہوگا، خنزیر اور اس کے اجزاء سے تیار شدہ اشیاء میں بیع منعقد ہی نہیں ہوتی اور اس کا ثمن (قیمت) بائع کے لیے حرام ہوتا ہے، بلکہ اس کی ملکیت میں بھی داخل نہیں ہوگا جن لوگوں نے بھول کر ایسی مصنوعات خرید لی ہیں، وہ ان دکانداروں کو واپس کر دیں اور اور دکانداروں کو چاہیے کہ وہ ان کمپنیوں کو مال واپس کر دیں جن سے انہوں نے خریدا ہے، تاکہ وہ ان غیر مسلموں کو یہ مال و مصنوعات واپس کر کے اپنی رقم واپس لے سکیں ۔ (فتاوی بینات، کتاب الحظر و الاباحۃ، جلد چہارم، ص 470-471، مکتبہ بینات) ۔
اپنا حق وصول کرنے کی نظیر ملاحظہ فرمائیں:
قال الإمام السرخسي رحمه الله: وإذا كان في تركة الذمي خمر وخنزير وغرماؤه مسلمون وليس له وصي فإن القاضي يوكل ببيع ذلك رجلاً من أهل الذمة فيبيعه ويقضي به دين الميت لأن من يأمره القاضي يكون نائباً عن الميت
والميت كافر فيجوز بيع الذمي خمره على سبيل النيابة عنه والغرماء إنما يقبضون الثمن بدينهم لا أن يكون بيع قيم القاضي واقعاً لهم. (المبسوط: ۱۵/۱۳۱، باب قسمة الدار للميت وعليه دين أو وصية، بيروت).
وفي العناية شرح الهداية: وإذا أمر المسلم نصرانياً ببيع خمر أو شرائها ففعل جاز عند أبي حنيفة رحمه الله، وقالا: لا يجوز على المسلم
وقولهما الموكل لا يليه فلا يوليه غيره منقوض
بالقاضي إذا أمر ذمياً ببيع خمر أو خنزير خلفه ذمي آخر وهو لا يلي التصرف بنفسه وبالذمي إذا أوصي لمسلم وقد تركهما فإن الوصي يوكل ذمياً بالبيع والقسمة وهو لا يلي ذلك بنفسه. (العناية شرح الهداية على هامش فتح القدير: ٦/٤۳۹، باب البيع الفاسد، دار الفكر).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.