خنزیر کے بال سے بنے ہوے برش والے تیل اور پانی کا حکم:

2 min readFatwa Vol 8 #45Urdu
Vol. 8باب (۱۱): حیوانات سے متعلق احکام کا بیان

Question

اگر خنزیر کے بال سے بنا ہوا سوکھا برش کسی تیل میں پڑ جائے اور تیل میں اس کا کوئی رنگ یا بو نہ آئے تو تیل پاک ہے یا نہیں ؟ اسی طرح اگر اس سے رنگ کیا یا پانی میں ڈالا تو رنگ اور پانی دونوں ناپاک ہوے یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔

Answer

بصورتِ مسئولہ خزیر اپنے تمام اجزاء کے ساتھ نجس العین ہے بنا بریں اس کے بالوں سے بنا ہوا برش اگر تیل وغیرہ میں گر جائے تو وہ تیل وغیرہ مائع چیز ناپاک ہو جائے گی اگر چہ اس میں رنگ، بو اور مزہ نہ آئے، اور اس کا استعمال کسی حالت میں جائز نہیں ہے۔
ملاحظہ ہو البحر الرائق میں ہے:

أفتي الإمام أبو يوسف رحمه الله بنجاسته فيتنجس الماء القليل إذا وقع فيه

والصحيح قول أبي يوسف. (البحر الرائق: ٦/۸۰، دار المعرفة).
قال في المحيط: وأما شعر الخنزير فهو نجس هو الظاهر في مذهب أبي حنيفة رحمه الله. (المحيط البرهاني: ۲/۲۰۹، دار إحياء التراث).
وفي الهداية: قال: ولا يجوز بيع شعر الخنزير لأنه نجس العين

ولو وقع في الماء القليل أفسده عند أبي يوسف رحمه الله. (الهداية: ۳/۵۵).
وفي المجمع: ويفسد شعر الخنزير الماء القليل عند أبي يوسف رحمه الله وهو المختار. (مجمع الأنهر: ۳/۸۵، بيروت).

کفایت المفتی میں مرقوم ہے:
خنزیر کے بال ظاہر روایت اور مذہبِ مفتی بہ کے موافق نجس اور ناقابل انتفاع ہیں اس لیے ان کی تجارت بھی ناجائز ہے۔ (کفایت المفتی:
۹
/
۱٤۳
، ط: دار الاشاعت)۔
فتاوی محمودیہ میں مذکور ہے: قولِ صحیح کے مطابق خنزیر کے بال نجس ہے۔ (فتاوی محمودیہ:
۱۸
/
۲۵۹
، فاروقیہ)۔
دوسرا قول نظام الفتاوی میں مرقوم ہے اس کو بھی ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ (نظام الفتاوی، جلدِ اول، ص ٤۰)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.