اسرائیل کے معاون غیر مسلم کے ساتھ کاروبار کرنے کا حکم:

10 min readFatwa Vol 5 #100Urdu
Vol. 5كتاب البيوعباب (۱، ۲، ۳): جائز اور ناجائز خرید و فروخت کے احکام

Question

ایک ادارہ ہے جو اسرائیلی فوج کے ساتھ تعلق رکھتا ہے، اور اس کی معاونت کرتا ہے، اور اسرائیلی فوج فلسطین کے مسلمانوں پر کھلم کھلا ظلم اور زیادتی کرنے میں مشہور ہیں، اور "ٹیلاویو" جو اسرائیل کے مشہور شہر کے اسٹاک اکسچینج میں اس کا شمار ہے، کیا ایسے ادارہ کے ساتھ مل کر ایک ٹی وی چینل کھولنا جائز ہے یا نہیں؟ جب کہ یقینی طور پر یہ بات معلوم ہے کہ اس معاملہ کے ساتھ اسرائیلی فوج کا نفع وابستہ ہے ۔
نیز یہ بھی واضح فرمائے کہ اس شخص کا کیا حکم ہے جو ان سب باتوں کو جانتے ہوے ایسے لوگوں کے ساتھ معاملات کرتا ہے یا ان کے معاملات میں شامل ہوتا ہے؟
برائے مہربانی جوابات قرآن و سنت کی روشنی میں دیے جائیں کیوں کہ جو لوگ اس میں ملوث ہیں وہ دلائل طلب کرتے ہیں ۔
اور اس قسم کے اور کوئی فتاوی آپ کے یہاں موجود ہوں تو وہ بھی ساتھ ارسال کر دیں ۔
اللہ تعالی آپ کو دونوں جہاں میں بہترین بدل عنایت فرمائیں ۔

Answer

واللہ الموفق للصواب:
عام حالات میں یہود و نصاری اور دیگر غیر مسلموں کے ساتھ معاملات کرنا جب کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ بر سر پیکار نہ ہوں شرعاً جائز اور درست ہے، قرآن اور حدیث سے یہ ثابت ہے ۔
اللہ تعالی فرماتے ہیں:

﴿لا ينهكم الله عن الذين لم يقاتلوكم في الدين ولم يخرجوكم من دياركم

الخ﴾. (سورة الممتحنة، الآية: ۸).

آنحضرت ﷺ نے خود یہود و نصاری کے ساتھ معاملات فرمائے تھے ۔ ملاحظہ فرمائیں بخاری شریف میں ہے:

"عن عائشة رضي الله تعالى عنها أن النبي ﷺ اشترى طعاماً من رجل يهودي إلى أجل ورهنه درعاً من حديد. (رواه البخاري: ۱/۲۷۷).

آنحضرت ﷺ نے یہودِ خیبر کے ساتھ مزارعت کا معاملہ فرمایا تھا ۔

"قام عمر رضي الله عنه خطيباً فقال: إن رسول الله ﷺ كان عامل يهود خيبر على أموالهم وقال: نقركم ما أقركم الله. (رواه البخاري: ۱/۳۷۷).

حضرت جابر بن عبد اللہ رضي الله عنه غیر مسلموں کے ساتھ معاملات کرتے تھے:

عن جابر بن عبد الله رضي الله عنه قال: كان بالمدينة يهودي وكان يسلفني في تمري إلى الجذاذ. (رواه البخاري، كتاب الأطعمة، ۲/۸۱۸).
وعنه أنه أخبره أن أباه توفي وترك عليه ثلاثين وسقاً لرجل من اليهود. (رواه البخاري: كتاب الاستقراض، ۱/۳۲۲).

لیکن وہ کفار جو مسلمانوں کے جانی دشمن بنے ہوے ہوں اور بر سر پیکار ہوں، مسلمانوں پر ظلم و ستم میں کوئی دقیقہ و سانحہ نہیں چھوڑتے ہوں، شب و روز مسلمانوں کا خون بہانا ان کی طبیعتِ ثانیہ بن چکا ہو، جیسا کہ اس زمانے میں اسرائیلی فوج کا کردار ہے، ایسے ظالموں کے ساتھ یا ان ظالموں کے معاون فوجی اداروں کے ساتھ تعاون کے معاملات کرنا قرآن و حدیث اور فقہاء کی عبارات کی روشنی میں جائز اور درست نہیں ہے ۔ کیوں کہ مومن کے خلاف ظلم کرنے والے کے ساتھ کسی قسم کی معاونت کرنا بہت بڑا گناہ ہے ۔ جب کہ یقینی طور پر معلوم ہو کہ یہ ادارہ اسرائیلی فوج کی امداد کرتا ہے ۔
کتاب و سنت سے دلائل ملاحظہ فرمائیں:
اللہ تعالی فرماتے ہیں:
﴿إنما ينهكم الله عن الذين قتلوكم في الدين وأخرجوكم من دياركم وظهروا على إخراجكم

الخ﴾. (سورة الممتحنة، الآية: ۹).
وقال تعالى: ﴿ولا تعاونوا على الإثم والعدوان، واتقوا الله، إن الله شديد العقاب﴾. (سورة المائدة، الآية: ۲).
قال العلامة الآلوسي البغدادي رحمه الله: فيعم النهي كل ما هو من مقولة الظلم والمعاصي ويندرج فيه النهي عن التعاون على الاعتداء والانتقام. (روح المعاني: ٦/۵۷).
وقال الإمام القرطبي: وأن يكون المسلمون متظاهرين كاليد الواحدة (المؤمنون تتكافأ دماؤهم ويسعى بذمتهم أدناهم وهم يد على من سواهم، ويجب الإعراض عن المتعدي وترك النصرة له ورده عما هو عليه، ثم نهي فقال: ﴿ولا تعاونوا على الإثم والعدوان﴾ وهو الحكم اللاحق عن الجرائم، وعن العدوان وهو ظلم الناس. (الجامع لا حكام القرآن: ۳/۳۳).
وفي الدر المنثور في التفسير المأثور: وأخرج ابن ماجة عن أبي هريرة رضي الله عنه، أن رسول الله ﷺ قال: "من أعان على قتل مؤمن ولو بشطر كلمة، لقي الله مكتوب بين عينيه آيس من رحمة الله".
وأخرج الطبراني في الأوسط والحاكم عن ابن عباس رضي الله عنه، أن رسول الله ﷺ قال: "من أعان ظالماً بباطل ليدحض به حقاً فقد بريء من ذمة الله ورسوله".
وأخرج البخاري في تاريخه والطبراني والبيهقي في شعب الإيمان عن أوس بن شرحبيل رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: "من مشي مع ظالم ليعينه وهو يعلم أنه ظالم فقد خرج من الإسلام".
وأخرج الحاكم وصححه والبيهقي عن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ: "من أعان قوماً على ظلم فهو كالبعير المتردي فهو ينزع بذنبه". (الدر المنثور: ٦/۱۲).

معارف القرآن میں ہے:
اثم و عدوان کو سخت جرم قرار دیا، اس پر تعاون کرنے سے روکا عدوان کے لفظی معنی حد سے تجاوز کرنے کے ہیں، مراد اس سے ظلم و جور ہے اور ابن کثیر نے بروایتِ طبرانی نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی ظالم کے ساتھ اس کی مدد کرنے کے لیے چلا وہ اسلام سے نکل گیا، اسی پر سلف صالحین نے ظالم بادشاہوں کی ملازمت اور کوئی عہدہ قبول کرنے سے سخت احتراز کیا ہے، کہ اس میں ان کے ظلم کی امداد و اعانت ہے ۔ تفسیر روح المعانی میں آیتِ کریمہ
﴿فلن أكون ظهيراً للمجرمين﴾
کے تحت میں یہ حدیث نقل کی ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے روز آواز دی جائے گی کہ کہاں ہیں ظالم لوگ اور ان کے مدد گار یہاں تک کہ وہ لوگ جنہوں نے ظالموں کے دوات، قلم کو درست کیا ہے، وہ بھی سب ایک لوہے کے تابو ت میں جمع کر کے جہنم میں پھینک دیے جائیں گے ۔ (معارف القرآن: ۳/۲۵) ۔
مسلمانوں کو تو چاہیے کہ اپنی جان و مال سے فلسطینی مسلمانوں کی امداد و اعانت کریں اور ظالموں کو ظلم سے روکے، اسلامی اخوت ہمیں بہت ہی نرالا سبق دیتی ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں:

"عن سالم عن أبيه، عبد الله بن عمر رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ قال: المسلم أخو المسلم لا يظلمه ولا يسلمه ومن كان في حاجة أخيه كان الله في حاجته، ومن فرج عن مسلم كربة فرج الله بها كربة من كرب يوم القيامة ومن ستر مسلماً ستره الله يوم القيامة. (رواه مسلم: ۲/۳۲۰).

ترجمہ: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اس کا ساتھ چھوڑتا ہے اور جو کوئی اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں لگے گا، اللہ تعالی اس کی حاجتوں کو پورا کرے گا اور جو کوئی کسی مسلمان کی مصیبت دور کرے گا، اللہ تعالی اس کی مصیبت قیامت کی مصیبتوں میں سے دور کرے گا، اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی اللہ تعالی قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائیں گے ۔

عن أبي موسي الأشعري رضي الله عنه المؤمن للمؤمن كالبنيان يشد بعضه بعضاً. (رواه البخاري: ۲/۸۹۰).

مسلمان مسلمان کے لیے عمارت کی طرح ہے، ایک دوسرے کو مضبوط رکھتا ہے ۔

عن النعمان بن بشير رضي الله عنه مثل المؤمنين في توادهم وتراحمهم وتعاطفهم مثل جسد إن اشتكي عضو منه تداعي له سائر الجسد بالسهر والحمى. (صحيح مسلم: ۲/۳۲۱).

مسلمانوں کی مثال آپس میں دوستی، باہمی ترحم اور آپس میں شفقت کے لحاظ سے ایک جسم کے مانند ہے، اگر اس کا ایک عضو کسی تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو بدن کے تمام اعضاء بخار اور بے خوابی میں اس کا ساتھ دیتے ہیں ۔
فقہاء کی عبارات ملاحظہ فرمائیں: ہدایہ میں ہے:

قال ويكره بيع السلاح في أيام الفتنة معناه ممن يعرف أنه من أهل الفتنة لأنه تسبيب إلى المعصية وقد بيناه في السير. (الهداية: ۳/٤۷۲. وكذا في رد المحتار: ٦/۳۹۱، كتاب الكراهية، سعيد).

ہدایہ مع فتح القدیر میں ہے:

ولا ينبغي أن يباع السلاح من أهل الحرب ولا يجهز إليهم لأن النبي ﷺ نهي عن بيع السلاح من أهل الحرب وحمله إليهم، ولأن فيه تقويتهم على قتال المسلمين فيمنع من ذلك وكذا الكراع لما بينا وكذلك الحديد لأنه أصل السلاح وكذا بعد الموادعة لا نها على شرف النقض أو الانقضاء فكانوا حرباً علينا. (قوله ولا يجهز إليهم) مع التجار إلى دار الحرب. وفي العناية: قوله (ولا يجهز إليهم) أي لا يبعث التجار إليهم بالجهاز وهو فاخر المتاع، والمراد به هاهنا السلاح والكراع والحديد. (الهداية مع فتح القدير والعناية: ۵/٤٦۰، كتاب السير، دار الفكر).

فقط واللہ تعالی اعلم بالصواب ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.