حرام کاروبار والے غیر مسلم کے ساتھ معاملات کا حکم:
Question
ایک آدمی ایک غیر مسلم (ہندو، یا عیسائی) کے ساتھ معاملات لین دین کرتا ہے یا اس کا ہدیہ قبول کرتا ہے یا اس کے ہاں کبھی کبھی کوئی دعوت کھاتا ہے اور وہ غیر مسلم ایسا کام کرتا ہے جو مسلمانوں کے لیے شرعاً جائز نہیں، مثلاً:
(۱) بیع فاسد کا مرتکب ہے باہر سے اشیاء کو خریدتا ہے اور قبضہ سے پہلے فروخت کرتا ہے ۔
(۲) شراب فروخت کرتا ہے اور اس کی غالب کمائی یہی ہے ۔
(۳) جاندار کی تصویر والے کپڑے فروخت کرتا ہے اور یہی کمائی ہے ۔
(٤) حلاق ہے اور لوگوں کے غیر شرعی بال بناتا ہے اور ڈاڑھیاں مونڈتا ہے ۔
(۵) سٹا یا قمار "جوئے" میں مبتلا ہے ۔
(٦) گانے بجانے کے آلات اور کیسٹیں فروخت کرتا ہے وغیرہ، تو اگر کوئی مسلمان اس غیر مسلم کے ہاتھ کوئی چیز فروخت کرے اور قیمت لے یا ہدیہ وغیرہ لے تو یہ جائز ہے یا نہیں؟ غیر مسلم ممالک میں اکثر ایسے واقعات پیش آتے ہیں ۔ بینوا توجروا ۔
Answer
جس غیر مسلم کی کمائی سوال میں درج شدہ معاملات کی ہو اس کے ساتھ مسلمان کا صحیح لین دین جائز ہے ۔
مولانا ظفر احمد عثمانی بیع قبل القبض کے بارے میں فرماتے ہیں:
اگر خریدار کافر ہو تو اسے اس طرح کی بیع کرنے کا مضائقہ نہیں ۔ (امداد الاحکام: ۳/٤۱۰) ۔
دوسری جگہ فرماتے ہیں:
کفار کو آلاتِ مزامیر بیچنے میں کوئی حرج نہیں،
وفي بيعه أي المزمار مع الكفار لم تقم الحرمة بالعين ولا بالفعل فإن الكفار ليسوا مخاطبين بحرمة الغناء ولا هو حرام في الأديان كلها
۔ (امداد الاحکام: ۳/۳۸٤) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.