مذبوح غیر مدبوغ کھالوں کی تجارت کا حکم:
Question
ایک کارخانہ ہے اس میں کھالیں آتی ہیں جو مذبوح ہوتی ہیں لیکن کون ذبح کرتا ہے مجوسی یا اہل کتاب یا مسلمان کچھ علم نہیں ہے، اور یہ کھالیں غیر مدبوغ ہوتی ہیں، کیا ان کھالوں کی تجارت جائز ہے یا نہیں؟ یعنی غیر شرعی ذبح کھال کو پاک کر دیتا ہے یا نہیں؟
(۲) نیز اگر کوئی شخص اہل کتاب وغیرہ کے مذبوحہ جانوروں کا گوشت کتوں اور بلیوں اور شیر وغیرہ کے لیے فروخت کرتا ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟
بينوا بالتفصيل توجروا بأجر جزيل.
Answer
(۲) غیر شرعی طریقہ پر جانوروں کو ذبح کیا جائے تو ان کا گوشت پاک ہوگا یا نہیں، اس بارے میں فقہاء کا اختلاف ہے، اکثر مشائخ نے فرمایا کہ پاک نہیں ہوگا ناپاک ہی رہے گا، لیکن بعض حضرات فرماتے ہیں کہ پاک ہو جائے گا، ملا علی قاری رحمه الله شرح نقایہ میں (غیر ماکول جانور جو شرعی طور پر ذبح کیے گئے ہوں ان کے گوشت کے متعلق) فرماتے ہیں کہ پاک ہونے والے قول کو امام کرخی رحمه الله، صاحب ہدایہ، صاحب تحفہ، صاحب محیط، صاحبِ بدائع وغیرہ چوٹی کے علماء نے مختار کہا ہے ۔ لہذا اس قول کی بنا پر مذکورہ بالا جانوروں کے مذبوحہ گوشت کی تجارت جائز اور درست ہونی چاہیے ۔ ملاحظہ فرمائیں شرح نقایہ میں ہے:
قوله وكذا (أي طهر) لحمه وإن لم يؤكل) لأن الجلد يطهر بالذكاة اتفاقاً، واللحم متصل به فلا يكون نجساً، وهو مختار الكرخي رحمه الله، وصاحب الهداية والتحفة وفي المحيط: وهو الصحيح من المذهب، وفي البدائع: وهو أقرب إلى الصواب، لأن النجاسة بالدم المسفوح وقد زال بالذكاة، وقال كثير من المشايخ: يطهر جلده بها ولا يطهر لحمه. (فتح باب العناية: ۱/۸۳، أحكام الدباغة، بيروت).
علامہ عینی رحمه الله بنایہ شرح ہدایہ میں فرماتے ہیں:
(وكذلك يطهر لحمه) أي لحم ما ذكي حتى اذا صلي ومعه من لحم الثعلب المذبوح أو نحوه أكثر من قدر الدرهم جازت صلاته (هو الصحيح) أي الحكم بطهارة لحمه هو الصحيح، واحترز به قال في الأسرار وغيره أنه نجس قلت: وقد اختلف أصحابنا في طهارة لحمه وشحمه، فقال الكرخي رحمه الله: كل حيوان يطهر جلده بالدباغ يطهر بالذكاة فهذا يدل على أنه يطهر شحمه ولحمه وسائر أجزاء ه، وقال بعض مشايخنا: يطهر جلده لا غير منهم نصر بن يحيى والفقيه أبو جعفر والأول أقرب إلى الصواب، وقال في المفيد هو الصحيح
(البناية في شرح الهداية: ۱/۲۳۳، ط: فيصل آباد).
فتاوی ہندیہ میں ہے:
وفي فتاوى أهل سمرقند: إذا ذبح كلبه وباع لحمه جاز، وكذا إذا ذبح حماراً وباع لحمه وهذا فصل اختلف المشايخ فيه بناء على اختلافهم في طهارة هذا اللحم بعد الذبح واختيار الصدر الشهيد على طهارته
ويجوز بيع لحوم السباع والحمر المذبوحة في الرواية الصحيحة، ولا يجوز بيع لحوم السباع الميتة كذا في محيط السرخسي رحمه الله. (الفتاوى الهندية: ۳/۱۱۵).
فتاوی شامی میں ہے:
قوله والسباع وكذا يجوز بيع لحمها بعد التذكية لا طعام الكلب أو سنور بخلاف لحم الخنزير لأنه لا يجوز إطعامه محيط. (فتاوى شامي: ۵/۲۲٦، سعيد).
حضرت حکیم الامت رحمه الله بہشتی زیور میں فرماتے ہیں:
مردہ ان حیوانات کی بیع درست ہے جو پاک ہیں، جیسے دریائی جانور یا حشرات غیر ذی دم یا ذی دم جانور بعد ذبح، کیوں کہ ذبح سے ہر جانور پاک ہو جاتا ہے سوائے سور کے ۔ (بہشتی زیور، نواں حصہ، ص ۱۰۳) ۔
دوسری جگہ رقم طراز ہیں:
سوائے خنزیر کے تمام وہ جانور جن میں دم سائل ہو خواہ ان کا گوشت کھانا حلال ہو یا حرام باقاعدہ ذبح کرنے سے سب پاک ہو جاتے ہیں، یعنی تمام اجزا ان کے گوشت، چربی، آنتیں، اوجھ، سنگ دانہ، پتا، اعصاب سب طاہر ہو جاتے ہیں، سوائے خون کے یعنی دم مسفوح کے، نتیجہ یہ ہے کہ خارجی استعمال ان کا ہر طرح درست ہو جاتا ہے، جیسے سر پر باندھنا وغیرہ، ہاں کھانا درست نہیں سوائے حلال جانوروں کے ۔ (نواں حصہ، ص ۱۰۵) ۔
حضرت رحمه الله کی عبارت کا حاصل یہ ہے کہ خنزیر کے سوا تمام جانور ذبح سے پاک ہو جاتے ہیں اور ان کی بیع درست ہے، ہاں سوائے حلال جانوروں کے ان کا کھانا درست نہیں ۔
علامہ اکمل الدین بابرتی رحمه الله اور علامہ عینی رحمه الله نے قولِ مخالف کے جوابات بھی دیے ہیں، تفصیل کے لیے، ملاحظہ فرمائیں:
(شرح العناية على الهداية بهامش فتح القدير مع الفتح: ۱/۹۵. ۹٦، دار الفكر. والبناية في شرح الهداية: ۱/۲۳۳. وفتاوى شامي: ۱/۲۰۵، سعيد. ومجمع النهر شرح ملتقي الأبحر: ۱/٦۱، تحت الماء المستعمل. وحاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ۱٦۹. وخلاصة الفتاوى: ۱/٤۳، أحكام الدباغة، والجوهرة النيرة: ۱/۱۷، ملتان. والفتاوى الولوالجية: ۱/٤٦، الفصل الثاني، بيروت. وإمداد الفتاح، ص ۱۷۰، بيروت).
یہاں پر مزید ایک بات قابل غور یہ ہے کہ کیا ذبح سے مراد شرعی ذبح ضروری ہے یا مجوسی وغیرہ کا ذبیحہ بھی پاک ہے، نیز غیر شرعی طریقہ پر ذبح کیا گیا اور دم مسفوح مکمل طور پر بہہ گیا تو گوشت پاک ہوا یا نہیں؟
اس مسئلہ میں بھی فقہاء کے دو قول ہیں اور دونوں کی تصحیح کی گئی ہے، چونکہ مسئلہ تجارت سے متعلق ہے اس وجہ سے بیع کی گنجائش ہو گی ۔ نیز اس کی نظیر سرطان ہے کہ غیر ماکول ہے اور اس کی بیع جائز ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں علامہ طحطاوی فرماتے ہیں:
قوله الشرعية، نقل في البحر من كتاب الطهارة عن الدراية والمجتبى والقنية أن ذبح المجوسي، وتارك التسمية عمداً يوجب الطهارة على الأصح وإن لم يؤكل، وأفاد في التنوير أن اشتراط الذكاة الشرعية هو الأظهر وإن صحح المقابل. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ۱٦۹، كتاب الطهارة، قديمي).
علامہ عینی رحمه الله فرماتے ہیں:
وفي القنية: قال الكرابيسي والقاضي عبد الجبار: مجوسي ذبح حماراً قيل لا يطهر والصحيح أنه يطهر. (البناية: ۱/۲۳۳).
در مختار میں ہے:
(وهل يشترط كون ذكاته شرعية) بأن تكون من الأهل في المحل بالتسمية (قيل نعم، وقيل لا، والأول أظهر)، لأن ذبح المجوسي وتارك التسمية عمداً كلا ذبح (وإن صحح الثاني) صححه الزاهدي في القنية والمجتبى، وأقره في البحر. وفي رد المحتار: قوله وأقره في البحر، حيث ذكر أنه في المعراج نقل عن المجتبى والقنية تصحيح الثاني، ثم قال: وصاحب القنية هو صاحب المجتبى، وهو الإمام الزاهدي المشهور علمه وفقهه، ويدل على أن هذا هو الأصح أن صاحب النهاية ذكر هذا الشرط أي كون الذكاة شرعية بصيغة قيل معزياً إلى الخانية. (الدر المختار مع رد المحتار: ۱/۲۰۵، سعيد. وكذا في حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۱/۱۱۳، باب المياه، كوئته).
مسئلہ مذکورہ بالا کے چند نظائر حسبِ ذیل ملاحظہ فرمائیں:
(۱) شافعی کے متروک التسمیہ عمداً کو ہلاک کرنے پر بعض فقہاء نے لکھا ہے کہ ضائع کرنے والے پر تاوان نہیں، لیکن محققین علماء نے تاوان کو لازم کہا ہے، ملاحظہ ہو: فتاوی دار العلوم زکریا: ٤/٦۱۸، ٦۲۰، اور تاوان بیع کے حکم میں ہے، ہمارے فقہاء نے کلبِ معلّم کی بیع پر اس کے ہلاک کرنے پر تاوان لینے سے استدلال فرمایا ۔ ملاحظہ فرمائیے علامہ بدر الدین عینی رحمه الله فرماتے ہیں:
الكلاب التي ينتفع بها يجوز بيعها ويباح أثمانها
ثم عندنا لا فرق بين المعلم وغير المعلم في رواية الأصول، فيجوز بيعه كيف ما كان، وروي عن أبي يوسف رحمه الله أنه قال: لا يجوز بيع الكلب العقور، كما روي عن أبي حنيفة رحمه الله فيه، ثم على أصلهم يجب قيمته على قاتله، واحتجوا بما روي عن عثمان بن عفان رضي الله عنه أنه أغرم رجلاً ثمن كلب قتله عشرين بعيراً، وبما روي عن عمرو بن العاص رضي الله عنه أنه قضي في كلب صيد قتله رجل بأربعين درهماً، وقضي في كلب ماشية بكبش. (عمدة القاري: ۸/۵۷٤، ط: ملتان).
(۲) فقہاء کی عبارات سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ مردار، بلی کتے کو نہیں کھلا سکتے، لیکن مردار پر بلی، کتے کو چھوڑ سکتے ہیں تاکہ وہ از خود کھا لے ۔
قال في الفتاوى البزازية: ولا يحمل الجيفة إلى الهرة ويحمل الهرة إلى الجيفة. (الفتاوى البزازية: ٤/۸۲).
نفع المفتی میں ہے:
ثم إن كان لا بد من سقي الخمر فرساً لا يشربه بل يضع الخمر بين يديه ليشربه، كما أن لا ينبغي أن يؤكل الميتة الكلب إلا بأن يضع الميتة بين يدي الكلب، فيأكله بنفسه كما في مطالب المؤمنين. (نفع المفتي والسائل، باب ما يتعلق بالحيوانات، ص ٤۷۲، بيروت).
المحيط البرهاني
میں ہے:
رجل له امرأة ذميه أو أب ذمي ليس له أن يقوده إلى البيعة، وله أن يقوده من البيعة إلى منزله، لأن الذهاب إلى البيعة معصية وإلى المنزل لا، ولا يحمل الخمر إلى الخل ولكن يحمل الخل إليها، وكذلك لا يحمل الجيفة إلى الهرة ويحمل الهرة إلى الجيفة. (المحيط البرهاني: ٦/۱۰۳، فصل في معاملة أهل الذمة، كتاب الاستحسان، رشيدية).
لیکن بعض فقہاء کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ ناپاک پانی جانوروں کو پلا سکتے ہیں ۔
البحر الرائق میں ہے:
وفي الذخيرة: ولا بأس برش الماء النجس في الطريق ولا يسقي للبهائم وفي خزانة الفتاوى: ولا بأس بأن يسقي الماء النجس للبقر والإبل والغنم. (البحر الرائق: ۱/۱۲۵، كوئته).
ضرورت کی وجہ سے دوسرے قول پر فتوی دے سکتے ہیں پہلا قول کراہت یعنی خلاف اولی پر محمول ہوگا ۔
جب کہ دوسرا قول مؤید بالحدیث ہے ۔ ملاحظہ ہو:
(الف) بخاری شریف کی رایت میں ہے کہ حضرت نبی پاک ﷺ قوم ثمود کی جگہ پہونچے اور صحابہ
ث
نے ان کے کنویں کے پانی سے آٹا گوندھا تو آپ ﷺ نے وہ آٹا اونٹوں کو کھلانے کا حکم فرمایا، یہ نہیں فرمایا کہ کسی دور جگہ رکھدواونٹ اس کی طرف خود آئیں گے ۔
عن ابن عمر رضي الله عنه أن الناس نزلوا مع رسول الله صلي الله عليه أرض ثمود الحجر فاستقوا من بئرها واعتجنوا به، فأمرهم رسول الله ﷺ أن يهريقوا ما استقوا من بئرها وأن يعلفوا الإبل العجين
الخ. (رواه البخاري: ۱/٤۷۸).
(ب) ایک اور حدیث میں ہے: ایک مرتبہ حضرت نبی کریم ﷺ کو ایک عورت نے دعوتِ طعام پیش کی آنحضور ﷺ کھانے کے لیے تشریف لے گئے، لقمہ بار بار چبانے لگے لیکن چبایا نہیں گیا، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: یہ گوشت مالک کی اجازت کے بغیر لیا گیا ہے، تب اس عورت نے واقعہ سنایا کہ پڑوسی کی بکری اس کی اجازت کے بغیر ذبح کی تھی اور ثمن اس کے گھر بھیجا لیکن وہ گھر پر موجود نہیں تھے، آنحضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: "
أطعميه الأسارى"
۔ یعنی یہ گوشت فقراء کو کھلا دو ۔
(رواه أبو داود: ۲/۱۱۷، باب اجتناب الشبهات).
(۳) نیز مالِ حرام کے بارے میں فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر مالک معلوم نہیں ہے تو فقراء پر صدقہ کر دیا جائے، معلوم ہوا جس مال میں خبث ہو وہ مال فقراء کو دے سکتے ہیں ۔
علامہ شامی رحمه الله رقم طراز ہیں:
لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه. (فتاوى الشامي: ٦/۳۸۵، سعيد).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
جواب (۱): غیر شرعی ذبح کے کھال اور گوشت کو پاک کرنے سے متعلق فقہاء کا اختلاف ہے جس کی تفصیل مسئلہ بالا کے تحت گزر چکی ہے، خلاصہ یہ ہے کہ اصح قول کے مطابق ذبح شرعی ضروری نہیں ہے، بلکہ علامہ شامی رحمه الله نے نقل فرمایا کہ ذبح شرعی کی قید قیل سے منقول ہے جس کا ضعف واضح ہے ۔ لہذا مسئلہ مذکورہ بالا میں مذبوحہ غیر مدبوغہ کھالوں کی تجارت کی گنجائش ہے ۔
وقال الشيخ الشلبي رحمه الله في حاشية التبيين: وفي القنية قال الكرابيسي والقاضي عبد الجبار مجوسي ذبح حماراً قيل لا يطهر والصحيح أنه يطهر. (حاشية تبيين الحقائق: ۱/۲٦، ط: ملتان).
علامہ طحطاوی فرماتے ہیں:
قوله وأقره في البحر، حيث ذكر أنه في المعراج نقل عن المجتبى والقنية تصحيح الثاني، ثم قال: وصاحب القنية هو صاحب المجتبى، وهو الإمام الزاهدي المشهور علمه وفقهه، ويدل على أن هذا هو الأصح أن صاحب النهاية ذكر هذا الشرط أي كون الذكاة شرعية بصيغة قيل معزياً إلى فتاوى قاضيخان. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۱/۱۱۳، باب المياه، كوئته. والدر المختار مع رد المحتار: ۱/۲۰۵، سعيد).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.