ہر نئی طباعت پر عوض لینے کا حکم:
Question
ایک مؤلف نے اپنی کتاب ایک طابع کو چھاپنے کے لیے دی اور اس کے ساتھ شرط لگائی کہ آپ کتاب کی طباعت کے بعد ہمیں ڈھائی سو نسخے دیں گے، بقیہ نسخے آپ کے ہیں، جس قیمت پر فروخت کرنا چاہتے ہیں آپ کی مرضی ہے، کیا یہ معاملہ جائز ہے یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ اگر مؤلف نے حق طباعت ہمیشہ کے لیے اس طابع کو دیا ہو تو یہ ڈھائی سو نسخے مسودہ کی قیمت بن گئے اور ہمیشہ کا حق طباعت طابع کو حاصل ہو گیا، اور اگر صرف ایک مرتبہ کے لیے کہا ہو تو یہ ڈھائی سو نسخے ایک مرتبہ حق طباعت کا عوض ہے، اور حق طباعت ان حقوق میں سے ہے جس کا عوض لیا جا سکتا ہے، اس کی تفصیل پیچھے گزر چکی ہے۔
اور اگر مؤلف نے ایک مرتبہ یا ہمیشہ کا ذکر نہیں کیا تو اس میں عرف کا اعتبار ہے اور میری معلومات کے مطابق اس صورت میں صرف ایک مرتبہ کا حق طباعت دیا جاتا ہے، اس لیے مؤلف کو دوبارہ کسی اور جگہ کتاب کی طباعت کا حق بھی ہوتا ہے اور اگر پرانے طابع کے ہاں سے دوبارہ چھپوا دے تو پھر نیا معاملہ کر کے اس سے دوبارہ معاملہ کے مطابق کتاب کے نسخے لے سکتا ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.