چاندی کی انگوٹھی نگینہ کے ساتھ فروخت کرنے کا حکم:
Question
اگر کسی نے چاندی کی انگوٹھی بیچ ڈالی اور اس میں نگینہ تھا اور دونوں کو چاندی کے عوض دو سو درہم نقدا اور کچھ نسیۂ میں فروخت کیا تو یہ بیع جائز ہے یا نہیں؟ اور اس میں الگ ہونا ممکن ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق ہوگا یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ انگوٹھی میں جتنی مقدار چاندی کی ہے اس کے بقدر ثمن مجلس عقد میں ادا کرنا ضروری ہے، اگر ادا نہیں کیا اور بلا ضرر کے نگینہ جدا ہو سکتا ہے تو صرف نگینہ کی بیع صحیح ہو جائے گی، اور اگر بلا ضرر جدا نہیں ہو سکتا ہے تو دونوں چیزوں میں بیع فاسد ہو جائے گی ۔
یعنی اگر کسی نے انگوٹھی بیچی جس میں نگینہ تھا دو سو درہم میں کچھ نقدا اور کچھ نسیۂ کے بدلے میں پس اگر دو سو درہم کی چاندی کی مقدار انگوٹھی کی چاندی کی مقدار سے زیادہ ہے، اور مشتری نے مکمل رقم ادا کر دی یا صرف انگوٹھی کی مقدار کی رقم ادا کر دی اور ما بقیہ رقم نسیۂ ہے تو ان دونوں صورتوں میں بیع جائز ہے ۔
اور اگر مشتری نے کچھ بھی رقم ادا نہیں کی اور دونوں جدا ہو گئے، پس اگر نگینہ کا انگوٹھی سے جدا کرنا بہ آسانی ممکن ہو تو فقط نگینہ کی بیع صحیح ہے اور حلقے کی بیع فاسد ہے، اور اگر جدا کرنا ناممکن ہو تو دونوں میں بیع فاسد ہو جائے گی ۔
ملاحظہ ہو فتاوی عالمگیری میں ہے:
وإذا باع الرجل من آخر حلي ذهب فيه لؤلؤ وجوهر بدنانير وقبض المشتري الحلي
فإن كانت الدنانير التي هي ثمن أكثر من ذهب الحلي فإنه يجوز البيع في الذهب والجوهر ثم بعد ذلك إن نقد الثمن كله قبل أن يفترقا فالعقد ماضٍ على الصحة وكذلك إن نقد حصة الذهب الذي في الحلي، وإن لم ينقد شيئاً حتى تفرقا فالعقد فيما يخص الحلي من الذهب يفسد وفيما يخص الجوهر إن كان الجوهر بحيث لا يمكن تخليصه إلا بضرر يفسد وإن أمكن تخليصه من غير ضرر لا يفسد العقد في الجوهر هكذا في المحيط. (الفتاوى الهندية: ۳/۲۲۲، الفصل الثاني في بيع السيوف المحلاة، كتاب الصرف).
در مختار میں ہے:
من باع سيفاً حليته خمسون
فباعه بمائة وقد نقد خمسين فما نقد فهو ثمن الفضة
فإن افترقا من غير قبض بطل في الحلية فقط وصح في السيف لعدم اشتراط قبض ثمنه في المجلس إن يخلص بلا ضرر وإن لم يخلص إلا بضرر بطل أصلاً لتعذر تسليم السيف بلا ضرر كبيع جذع من السقف، نهر. (الدر المختار مع فتاوى الشامي: ۵/۲٦۲، سعيد).
ہدایہ میں ہے:
لو باع سيفاً محلي بمائة درهم وحليته خمسون ودفع من الثمن خمسين جاز البيع
فإن لم يتقابضا حتى افترقا بطل العقد في الحلية لأنه صرف فيها وكذا في السيف إن كان لا يتخلص إلا بضرر وإن كان يتخلص السيف بغير ضرر جاز البيع في السيف وبطل في الحلية. (الهداية: ۳/۱۰٦، كتاب الصرف).
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (
المبسوط للإمام السرخسي رحمه الله: ۱٤/۱۸، كتاب الصرف، إدارة القرآن. والمحيط البرهاني: ۸/۳۳۲، كتاب الصرف، كتبه رشيديه).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.