مروجہ کرنسی کے عوض سونا چاندی خریدنے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 5 #143Urdu
Vol. 5كتاب البيوعباب (۸): بیع صرف کا بیان

Question

ایک شخص نے سنار سے ۵۰ ہزار رینڈ کے زیورات خریدے، مشتری کے پاس فقط ٤۰ ہزار رینڈ اس وقت موجود تھے، لہذا زیورات کی وصولی کے وقت چالیس ہزار دیے اور بقیہ دس ہزار ہفتہ کے بعد دینے کا وعدہ کیا، کیا یہ معاملہ درست ہے یا نہیں؟ جب کہ بیع صرف میں یداً بیدٍ ہونا ضروری ہے ۔
بينوا توجروا.

Answer

بصورتِ مسئولہ کاغذی نوٹ یعنی مروجہ کرنسی ثمن حقیقی نہیں ہے بلکہ ثمن عرفی ہے، لہذا اس کی تجارت میں بیع صرف کے احکام جاری نہ ہوں گے، بنا بریں ادھار خرید و فروخت جائز ہے، ہاں عوضین میں سے کسی ایک پر مجلس عقد میں قبضہ کرنا ضروری ہے تاکہ بیع الدین بالدین لازم نہ آئے ۔
ملاحظہ فرمائیں در مختار میں ہے:

عقد الصرف بيع الثمن بالثمن أي ما خلق للثمنية ومنه المصوغ جنساً بجنس أو بغير جنس كذهب بفضة. (الدر المختار: ۵/۲۵۷، سعيد).

بدائع الصنائع میں ہے:

فالصرف في متعارف الشرع اسم لبيع الأثمان المطلقة بعضها ببعض وهو بيع الذهب بالذهب والفضة بالفضة. (بدائع الصنائع: ۵/۲۱۵، سعيد).
وفي رد المحتار: سئل الحانوتي عن بيع الذهب بالفلوس نسيئة فأجاب بأنه يجوز إذا قبض أحد البدلين. (فتاوى الشامي: ۵/۱۸۰، باب الربا، سعيد).
وفي المبسوط للإمام السرخسي رحمه الله: إذا اشترى الرجل فلوساً بدراهم ونقد الثمن ولم تكن الفلوس عند البائع فالبيع جائز لأن الفلوس الرائجة ثمن كالنقود

وبيع الفلوس بالدراهم ليس بصرف. (المبسوط: ۱٤/۲٤).
وللاستزادة انظر: (المحيط البرهاني: ۷/۲٦۸. والفتاوى الهندية: ۳/۲۲٤).

فتاوی عثمانی میں ہے:

أما الذهب سواء كان تبراً أو مصوغاً فقد أجمع الأئمة الأربعة على أنه لا يعامل معاملة البضائع، وإنما يعمل أحكام النقود في جميع الأمور، لكن "الأوراق النقدية" قد وقع فيه خلاف بين العلماء المعاصرين، وإن كثيراً من علماء البلاد العربية جعلوها في حكم الذهب سواء بسواء، ولكن خالفتُهم في رسالتي "أحكام الأوراق النقدية" وذكرت أنها ليست قائمة مقام الذهب في جميع الأمور، فلا تجري فيها أحكام الصرف، ولذلك يجوز عندي أن يشتري الذهب أو الفضة بالنقود، ويجوز أيضاً أن يشتري الذهب نسيئة بالأوراق النقدية ولكن يجب أن يكون تقابض أحد البدلين في المجلس إذا كان ذهباً خالصاً، وأن يعرف الأجل عند العقد وقد قبل هذا الموقف معظم علماء الهند وكثير من باكستان، والتفصيل في رسالتي "أحكام الأوراق النقدية"
۔ (فتاوی عثمانی: ۳/۱۵۹، کتاب البیوع) ۔
جدید معاملات کے شرعی احکام میں ہے:
سونا یا چاندی اس طرح ادھار پر فروخت کرنا کہ مثلاً: سونے کے زیورات خرید لیے اور رقم کچھ ابھی دے دی اور کچھ بعد میں دینے کا وعدہ کیا یا کل رقم ادھار ہے، شرعاً اس کا حکم یہ ہے کہ چونکہ کاغذی نوٹ کے ذریعہ سے سونے چاندی کا لین دین بیع صرف کے حکم میں داخل نہیں ہے اس لیے ادھار خرید و فروخت جائز ہے، شرط یہ ہے کہ عوضین میں سے کسی ایک پر مجلس عقد میں قبضہ ہو جائے تاکہ بیع الکالی بالکالی لازم نہ آئے ۔

وفي الهندية: قال: وروي الحسن عن أبي حنيفة رحمه الله إذا اشتري فلوساً بدراهم وليس عند هذا فلوس ولا عند الآخر دراهم ثم أن أحدهما دفع وتفرقا جاز وإن لم ينقد واحد منها حتى تفرقا لم يجز كذا في المحيط. (الفتاوى الهندية: ۳/۲۲٤، الفصل الثالث في بيع الفلوس). (
جدید معاملات کے شرعی احکام، جلد اول، ص۱۲۸) ۔
احسن الفتاوی میں ہے:
رائج نوٹ اور سکے سونے چاندی کے حکم میں نہیں، نہ ہی سونے یا چاندی کی رسید ہے، لہذا ان سے بیع ذہب و فضہ بہر کیف جائز ہے، تفاضل و نسیۂ بھی جائز ہے ۔ (احسن الفتاوی: ٦/۵۱۸ ۔ و کذا فی فتاوی حقانیہ: ٦/۱۲٤) ۔
چونکہ بعض علماء اس کو ناجائز کہتے ہیں اس لیے احتیاط اس میں ہے کہ سنار سے قرض لے کر ہاتھوں ہاتھ معاملہ کر لیا جائے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.